شام: امریکی حمایت یافتہ فورسز کا داعش کے خلاف ’فتح‘ کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 23 مارچ 2019

ای میل

بغوز  کے قریب غاروں میں داعش کے حملہ آوار پناہ لیے ہوئے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
بغوز کے قریب غاروں میں داعش کے حملہ آوار پناہ لیے ہوئے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

شام میں امریکی حمایت یافتہ شامی فورسز نے دہشت گرد تنظیم 'داعش' کے قبضے سے آخری ٹھکانے کو خالی کرا کر مکمل کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امریکا کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے ٹوئٹ کیا کہ ’بغوز آزاد ہے اور داعش کے مقابلے میں عسکری کامیابی حاصل کرلی گئی‘۔

یہ بھی پڑھیں: شام: امریکی اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں 7 بچوں سمیت 16 افراد ہلاک

اس حوالے سے بتایا گیا کہ شامی فورسز کے حملے پورے دن جاری رہے اور پہاڑی پر قائم داعش کی آخری چوکی پر مارٹرز پھٹنے کی آوازیں بھی آتی رہی‘۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان کینو گیبریل نے بتایا کہ بغوز کے قریب غاروں میں داعش کے حملہ آور پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف تاحال آپریشن جاری ہے‘۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر سیاکوبانی نے داعش کے خلاف عسکری فتح کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں داعش کے مقابلے میں عسکری کامیابی نصیب ہوگئی‘۔

مزید پڑھیں: شام میں امریکا کی موجودگی ابتدا ہی سے’غیر منطقی‘ تھی، ایران

اس سے قبل 13 مارچ کو شام میں اتحادی افواج کی بمباری اور کارروائیوں کے نتیجے میں داعش کے آخری ٹھکانے پر تقریباً 3 ہزار شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

2014 میں شام کے بڑے علاقے اور پڑوسی ملک عراق میں خلافت کا اعلان کرنے والی دہشت گرد تنظیم داعش اب مشرقی شام کے گاؤں بغوز میں ایک کیمپ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

شامی ڈیمو کریٹک فورسز کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے کہا تھا کہ داعش کے متعدد اراکین نے ہمارے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور ان کی تعداد گزشتہ شام سے اب تک 3 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام سے داعش کے ’مکمل خاتمے‘ کیلئے فیصلہ کن جنگ کا آغاز

انہوں نے بتایا کہ ان کے قبضے سے اقلیتی یزیدی برادری کی تین خواتین اور 4 بچوں کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش نے شام اور عراق کے تہائی حصے پر قبضہ کیا اور لاکھوں شہریوں کو کئی عرصے تک یرغمال بنائے رکھا۔