شہبازشریف کانام ای سی ایل سے ہٹانے کا فیصلہ چیلنج کریں گے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2019

ای میل

نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،فواد چوہدری — فوٹو: ڈان نیوز
نوازشریف سے متعلق عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،فواد چوہدری — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) سے ہٹانے کافیصلہ چیلنج کریں گے۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے ہم نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا ریکارڈ یہ ہے کہ خاندان کا فرد باہر گیا اور واپس نہیں آیا، انہوں نے مزید کہا کہ میں تو اس پر بھی حیران ہوں کہ میاں شریف کے بنائے گئے اتفاق ہسپتال پر بھی نواز شریف کو اعتبار نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کو 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی ہے، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوگیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے کوئی بیماری نہیں لیکن جیل میں ذہنی پریشانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پر چیف جسٹس کا سوال بہت صحیح تھا کہ اگر یہ پریشانی آپ کو ہے تو جیل میں باقی قیدیوں کو بھی ہوگی تو ان کا کیا کیا جائے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پابندی عائد کی ہے کہ نواز شریف ملک سے باہر نہیں جاسکتے یہ بہت خوش آئند ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے نواز شریف کو پیشکش کی تھی کہ آپ جس ہسپتال میں جانا چاہیں، جس ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیں آپ علاج کروائیں، ہماری پیشکش سے مختلف فیصلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف مستقل جانا چاہتے ہیں تو اس کا حل بھی ہے،وہ پاکستان کے عوام کے پیسے واپس کریں اور پھر دیکھ لیتے ہیں کہ پلی بارگین کا پورا قانون موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کی ضمانت منظور

وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف کو صحیح قانونی مشاورت لینی چاہیے جو یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے پیسے واپس کرنے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

’بلاول نے پہلی بار ٹرین ٹکٹ خریدے‘

فواد چوہدری نے بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ سے متعلق کہا کہ انہوں نے 3 سو ٹکٹ خریدے تھے اور خوشی کی بات ہے کہ 3 سو لوگ پورے بھی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے بتایا کہ بلاول بھٹو نے ٹرین کے لیے 11 لاکھ روپے ادا کیے، پہلی بار انہیں ٹرین کے لیے پیسے دینے پڑے یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمی میں ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ ٹرین کے ٹکٹ خریدے ہیں۔

نئی سول ایوی ایشن پالیسی منظور

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے نئی سول ایوی ایشن پالیسی منظور کرلی جس کا مقصد ہوا بازی سے متعلق صنعتوں کی بحالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں جس کے تحت نئی ویزا پالیسی کا اعلان کیا گیا اور اب 5 ممالک کو ای ویزا کی سہولت حاصل ہے

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ سے مزید 170ممالک کے شہریوں کو ای ویزا کی سہولت ملے گی اور 58 ممالک کے شہری ویزا آن ارائیول حاصل کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا 175 ممالک کو ای ویزا کی سہولت دینے کا اعلان

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے غیرملکی کو پاکستان میں کہیں جانے کے لیے این او سی کی شرط ختم کرنے سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ایوی ایشن پالیسی میں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جس کے لیے تمام سیاحتی مقامات کے لیے شروع کی جانے والی ایئرسروس کے لیے ٹیکسز اور چارجز صفر کردیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ جہاز 40 نشستوں پر مشتمل ہوں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گلگت بلتستان، سوات اور مزید علاقوں کے لیے شروع کی جانے والی فضائی سروس پر سول ایوی ایشن کوئی چارجز نہیں لے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسافر بردار جہاز کی عمر 12 سے بڑھا کر 18 سال اور کارگو جہاز کی عمر بڑھا کر 30 سال کردی گئی یعنی 18 سال پرانا مسافر جہاز اور 30 سال پرانا کارگو جہاز درآمد کیا جاسکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اوپن اسکائی پالیسی ختم کی جارہی ہے کیونکہ ہمارے لیے منافع بخش روٹس کو بین الاقوامی فلائٹس کو دے دیا گیا تھا جس سے قومی ایئرلائن کو بہت زیادہ نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جاپان جانے والی فلائٹس سے ساڑھے 3 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا تھا لیکن پائلٹس کو ٹی اے ڈی اے ملنے کی وجہ سے اسے جاری رکھا گیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ تمام بین الاقوامی ایئرلائنز کے ساتھ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائلٹ بننے کی خواہشمند خواتین کے لیے خصوصی اقدام لیا گیا ہے جس کے تحت سول ایوی ایشن پائلٹ کورس کی فیس کے اخراجات میں سے 4 لاکھ روپے ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سول ایوی ایشن فلائٹ کچنز میں غیرملکی فلائٹس میں فی کھانے پر 1.39 ڈالر اور ملکی پروازوں کے لیے 50 روپیہ چارج کرتی تھی اسے صفر کردیا گیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں ملکی فضائی سفر بہت مہنگا ہے جس میں ٹیکسز کو کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی پی ٹی لائسنس کی مدت ایک سال سے بڑھا کر 2 سال اور پائلٹ کے لائسنس کی مدت 5 سال کردی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں رواں برس نومبر میں کرتارپور کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔