آئی ایم ایف مشن چیف کی وزیرخزانہ سے ملاقات، مختلف معاملات پر تبادلہ خیال

27 مارچ 2019

ای میل

آئی ایم ایف کے مشن چیف نے وزیرخزانہ کے علاوہ مشیر تجارت سے بھی ملاقات کی—فوٹو:پی آئی ڈی
آئی ایم ایف کے مشن چیف نے وزیرخزانہ کے علاوہ مشیر تجارت سے بھی ملاقات کی—فوٹو:پی آئی ڈی

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مشن چیف ایرنیسٹو رامریز ریگو کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی جہاں زری پالیسی سمیت دیگرشعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف مشن چیف نے مالی، مانیٹری، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور توانائی کے شعبے سمیت تمام امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ نے رامریزریگو کو ملک کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

وزیرخزانہ اسد عمر نے آگاہ کیا کہ حکومت کی جانب سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور دیگر معاشی اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں جس کے بہتر نتائج آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گیس، بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کرنا پڑے گا، اسد عمر

انہوں نے کہا کہ حکومت میکرو اکنامک عدم توازن کو بہتر کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں آئی ایم ایف مشن چیف رمیریز ریگو نے وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داود سے بھی ملاقات کی۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داود نے کہا کہ حکومت نے ملک میں صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے لیے مختلف معاشی اصلاحات کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ٹیرف پالیسی جلد متعارف کروائیں گے جس سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔

اس موقع پر آئی ایم ایف کے مشن چیف رامریز ریگو نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اصلاحات اچھا اقدام ہے اور امید ہے کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس سے معیشت میں بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف سے معاہدے پر بات چیت آخری مرحلے میں ہے، وزیر خزانہ

خیال رہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر نے 25 مارچ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے لیے معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا تاہم آئی ایم ایف نے اپنے موقف پر نظرثانی کی ہے جس سے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ‘خلا’ کم ہوچکا ہے۔

اسد عمر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ معاہدے کو اسی وقت حتمی شکل دی جائے گی جب آئی ایم ایف مشن چیف سے تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے کسی قسم کی مقررہ رقم کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، اس حوالے سے بھی مذاکرات میں بات زیر غور ہے۔