تھریسامے کا بریگزٹ مذاکرات کے اگلے مرحلے سے قبل مستعفی ہونے کا عندیہ

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2019

ای میل

بریگزٹ کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی مشکلات کا شکار ہے — فائل فوٹو/رائٹرز
بریگزٹ کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی مشکلات کا شکار ہے — فائل فوٹو/رائٹرز

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے بریگزٹ مذاکرات کے ’اگلے مرحلے‘ سے قبل مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تھریسا مے نے قدامت پسند جماعت کے رکن پارلیمنٹ کو اپنے مستعفی ہونے سے متعلق آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کی عہدے سے برطرفی کا خدشہ

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ جیمس کارٹلیجز نے بتایا کہ ’وزیر اعظم تھریسا مے نے ’اگلے مرحلے‘ سے متعلق مزید تفصیلات کا ذکر نہیں کیا‘۔

جیمس کارٹلیجز کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے روانہ ہونے سے قبل تھریسا مے نے واضح کیا کہ بریگزٹ مذاکرات کے اگلے مرحلے سے پہلے وہ منصب پر فائز نہیں رہیں گی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں برطانیہ نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم تھریسا مے کے بریگزٹ معاہدے کو دوسری مرتبہ کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا۔

برطانوی دارالعوام میں نظر ثانی شدہ بریگزٹ معاہدے کے حق میں 242 ووٹ، جبکہ مخالفت میں 391 ووٹ ڈالے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: دس لاکھ افراد کا بریگزٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ

اس سے قبل جنوری میں تھریسامے کے دستبرداری کے معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا تو اسے 230 ووٹ کے تاریخی مارجن سے مسترد کردیا گیا تھا۔

تھریسا مے، یورپی یونین سے کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے پر قائم ہیں جو یورپی یونین سے علیحدگی کا واحد حل تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یورپی یونین سے کیے گئے معاہدے کو مسترد کیے جانے کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے، جن کے تحت برطانیہ یورپی یونین سے ’کسی معاہدے کے بغیر‘ علیحدہ ہوگا یا پھر بریگزٹ ہی نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم نے بریگزٹ بل کی توثیق کردی

یورپی یونین اراکین نے برطانیہ کو علیحدگی کے لیے دوڈیڈ لائن دی گئی تھیں اور 22 مئی تک بریگزٹ پر عمل درآمد کے لیے وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

بریگزٹ معاہدہ

واضح رہے کہ 2016 میں برطانیہ میں ہونے والے حیرت انگیز ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں ووٹ دیا تھا جس پر عملدرآمد اب سے چند ہفتوں بعد ہو گا۔

جولائی 2016 میں وزیر اعظم بننے والی تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر عوامی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شدید مخالفت کے بعد سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اراکین پارلیمنٹ کو منانے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ اخراج کے معاہدے کو قبول کرلیں۔

اس معاہدے پر ووٹنگ گزشتہ سال دسمبر میں ہونا تھی لیکن بعد ازاں اسے جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تھریسا مے معاہدے میں ایک اور مخالفت کے بعد بریگزٹ میں تاخیر کی خواہاں

مارچ 2017 میں برسلز میں شروع ہونے والے سخت مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ یورپی رہنماؤں نے دوبارہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا تھا اور اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے برطانوی معیشت میں مستقل اضطراب پایا جاتا ہے۔

چند دن قبل ہی بریگزٹ کے حوالے سے تازہ ووٹنگ میں تھریسامے کے خلاف 308 ووٹ سے ترمیم پاس کی گئی جس میں حکمراں جماعت کے درجنوں اراکین بھی شامل تھے جبکہ 297 اراکین نے وزیراعظم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے بھی لیبرپارٹی کا ساتھ دیا جس کے بعد 29 مارچ کو یورپی یونین سے مکمل علیحدگی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔

تاہم تھریسامے کو سب سے بڑی ناکامی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب 16 جنوری کو برطانوی پارلیمنٹ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے وزیر اعظم تھریسامے کے بل کو واضح اکثریت سے مسترد کردیا اور انہیں 202 کے مقابلے میں 432 ووٹ سے شکست ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

مزیدپڑھیں: بریگزٹ معاہدے پر برطانوی وزیراعظم کو وزرا کے استعفوں کا سامنا

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔