آن لائن تنقید اور تضحیک کئی لوگوں کی خودکشی کا باعث بنی، مہوش حیات

ای میل

اداکارہ کے خلاف کئی دن سے سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کے خلاف کئی دن سے سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے—فوٹو: انسٹاگرام

اداکارہ مہوش حیات کو ان کی اداکاری کی خدمات پر حکومت پاکستان نے رواں ماہ 23 مارچ کو یوم پاکستان پر تمغہ امتیاز سے نوازا تھا۔

مہوش حیات کے ساتھ حکومت پاکستان نے اداکارہ ریما خان اور بابرہ شریف سمیت مجموعی طور پر شوبز کی 8 شخصیات کو تمغہ امتیاز سمیت دیگر سول ایوارڈز سے نوازا تھا۔

تاہم سوشل میڈیا پر صرف مہوش حیات کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف نازیبا گفتگو کی گئی۔

اگرچہ مہوش حیات نے اپنے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت الفاظ استعمال نہیں کیے، تاہم انہوں نے تنقید کرنے والوں پر واضح کیا کہ کسی کو بھی ان کی کردار کشی کرنے کا کوئی حق نہیں۔

مہوش حیات سمیت 8 شوبز شخصیات کو 23 مارچ کو سوال ایوارڈز دیے گئے—فوٹو: انسٹاگرام
مہوش حیات سمیت 8 شوبز شخصیات کو 23 مارچ کو سوال ایوارڈز دیے گئے—فوٹو: انسٹاگرام

مہوش حیات پر کی جانے والی تنقید پر جہاں شوبز کی بعض شخصیات نے ان کا ساتھ دیا، وہیں صحافی اور سماجی کارکنان نے بھی ان کی حمایت کی اور ان کے خلاف ہونے والی تنقید کو غیر اہم اور خواتین کے خلاف نفرت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مہوش حیات کو تمغہ امتیاز کیسے ملا؟ سوال پوچھنے پر اداکارہ کا کرارا جواب

مہوش حیات پر ہونے والی تنقید پر جہاں ماہرہ خان، خالد عثمان بٹ اور صحافی و اینکر حامد میر نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

وہیں گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے بھی ان کا ساتھ دیا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کو خواتین کے خلاف نفرت قرار دیا۔

مزید پڑھیں: کسی کو کردار کشی کرنے کا حق نہیں، مہوش حیات

شہزاد رائے نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ پاکستانی کسی بھی خاتون کو رلانے یا انہیں تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع ضائع نہیں کرتے، اگر آرٹس سے تعلق رکھنے والی خاتون اپنی خدمات کے عوض ایوارڈ لینے میں کامیاب جاتی ہے تو سب ان کے خلاف ہوجاتے ہیں۔

مہوش حیات نے تمغہ امتیاز پاکستان کی محنت کش خواتین اور لڑکیوں کے نام کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
مہوش حیات نے تمغہ امتیاز پاکستان کی محنت کش خواتین اور لڑکیوں کے نام کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

شہزاد رائے نے مہوش حیات کے ٹوئیٹ پر جواب دیتے ہوئے ان سے اتفاق کیا کہ آرٹس سے تعلق رکھنے والے افراد کو سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ایک سوچنا پڑے گا۔

مہوش حیات نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف ہونے والی شدید اور نازیبا تنقید پر ٹوئیٹ کیا کہ ان کے خلاف ہونے والی بے وجا تنقید نے ایک بار پھر ہمیں اس نفرت کے خلاف ایک ہونے کا پیغام دیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ شوبز انڈسٹری کے افراد کو ایسی نفرت انگیز مہم کے خلاف لائحہ عمل جوڑنا چاہیے۔

مہوش حیات نے ایک اور ٹوئیٹ میں تجویز دیتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان میں سوشل میڈیا کو بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرح ایک انڈسٹری کے طور پر کنٹرول کیا جانا چاہیے‘۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اکٹھا ہوکر سائبر بلنگ اور آن لائن تنقید اور تضحیک کے سماج پر پڑنے والے اثرات سے متعقل شعور اجاگر کرنا چاہیے۔

مہوش حیات نے لکھا کہ ’ایسی تنقید اور تضحیک کی وجہ سے ہی کئی افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کر چکےہیں، اس لیے اب اسے روکنا کا وقت آ چکا‘۔

مہوش حیات کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ان کے ٹوئیٹ پر جواب دیا کہ سوشل میڈیا پر فنکاروں کے خلاف ہونے والی تنقید کو روکنے کی ضرورت ہے۔

ساتھ ہی علی ظفر نے لکھا کہ ایک ایسے پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے آن لائن تنقید اور تضحیک کو روکا جا سکے۔