بھارتی انتخابات: پریانکا گاندھی کا نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کا عندیہ

01 اپريل 2019

ای میل

2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے بھی 2 نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا تھا—فوٹو بشکریہ فیس بک
2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے بھی 2 نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا تھا—فوٹو بشکریہ فیس بک

نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی اتر پردیش کی جنرل سیکریٹری اور کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی کی ہمشیرہ پریانکا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کا عندیہ دے دیا۔

رسمی طور پر گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت چاہے تو وہ واراناسی سے انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ راہول گاندھی کیرالہ میں لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے حلقے وایاناڈ سے بھی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھں: انتخابات میں 'بی جے پی' کو شکست دینے کیلئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد

واضح رہے کہ مارچ کے اوائل میں کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری کردہ انتخابی امیدواروں کی فہرست میں راہول گاندھی کو اتر پردیش کے حلقے امیٹھی سے امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

اس بارے میں ان کی جماعت کے سینئر رہنما اے کے انٹونی نے دوسری نشست کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے راہول گاندھی کو آگاہ کیا کہ جنوبی ریاستوں میں موجود کانگریس کے کارکنان کے جذبات نظر انداز کرنا درست فیصلہ نہیں ہوگا‘۔

تاہم دوسری نشست کے اعلان سے قبل ہی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ راہول گاندھی امیٹھی میں وزیر یونین ٹیکسٹائل سمرتی ایرانی سے شکست یاب ہوجائیں گے اس لیے اب وہ ایک محفوظ نشست کی تلاش کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پارٹی پوسٹر میں ابھی نندن کی تصویر لگانے پر بی جے پی رہنما کو شوکاز نوٹس

خیال رہے کہ 2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے بھی 2 نشستوں سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور دونوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

بھارتی وزیراعظم گجرات کی نشست اپنے پاس رکھتے ہوئے واراناسی کی نشست سے دستربردار ہوگئے تھے جبکہ سمرتی ایرانی 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں امیٹھی سے ناکام ہوگئیں تھیں۔

اس حوالے سے کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی کے کیرالہ سے انتخاب لڑنے کا مقصد جنوبی ریاستوں کو پیغام دینا تھا کہ کانگریس ان کی ثقافت، زبان، روایات کا احترام کرتی ہے اور راہول گاندھی شمالی اور جنوبی بھارت کو ملانے والا کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں "گو بیک مودی" ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

خیال رہے کہ راہول گاندھی کے جنوبی ریاست سے انتخاب لڑنے کا سب سے پہلا مطالبہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سددرامائیہ نے کیا تھا جس کے بعد تامل ناڈو اور کیرالہ سے بھی اسی قسم کے مطالبے سامنے آئے۔

ادھے پریانکا گاندھی سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنی والدہ کی نشست رائے بریلی سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں لیکن واراناسی سے کیوں نہیں جہاں نریندر مودی امیدوار ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی چاہے گی تو وہ وہاں سے انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔


یہ خبر یکم اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔