پاکستان کی شرح نمو 2019 میں 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی، عالمی بینک

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2019

ای میل

عالمی بینک کے مطابق معاشی اصلاحات کے نتیجے میں شرح نمو سال 2021 میں بہتر ہو کر 4 فیصد تک پہنچ جائے گی — فائل فوٹو: اے ایف پی
عالمی بینک کے مطابق معاشی اصلاحات کے نتیجے میں شرح نمو سال 2021 میں بہتر ہو کر 4 فیصد تک پہنچ جائے گی — فائل فوٹو: اے ایف پی

عالمی بینک نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ ہے جہاں رواں سال شرح نمو بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ جائے گی لیکن پاکستان کی شرح نمو کم ہو کر 3.4 فیصد پر چلی جائے گی۔

ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس کے تازہ ترین شمارے میں شائع ششماہی رپورٹ میں عالمی بینک نے کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ ہے جہاں رواں سال شرح نمو بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ 2020 اور 2021 میں یہ 7.1 فیصد ہو جائے گی۔

تاہم عالمی بینک نے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی بھرپور استعداد کے مطابق معاشی ترقی اور موجودہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے برآمدات کو بڑھائیں۔

تاہم عالمی بینک نے پاکستان کی بد سے بدتر ہوتی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 2019 میں پاکستان کی شرح نمو کم ہو کر 3.4 ہو جائے گی اور مالی سال 2020 میں یہ مزید کم ہو کر 2.7 تک پہنچ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی میکرو اکنامک عدم استحکام کے مسائل کو حل نہیں کر سکیں گی، مقامی سطح پر مانگ میں کمی ہو گی اور اسی طرح برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا آئی ایم ایف قرض رکوانے کیلئے امریکا میں بھارتی لابی سرگرم

اس کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ پاکستان کے صنعتی اور زرعی شعبے میں بھی ترقی کی شرح آہستہ رہے گی تاہم عالمی بینک نے عندیہ دیا کہ اگر پاکستان معاشی اصلاحات کرتا ہے تو مالی سال 2021 تک شرح نمو بہتر ہو کر 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ترسیلات زر سے آئندہ سال کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کو مدد ملے گی جبکہ بہتر اقدامات کے نتیجے میں 2021 میں معیشت کی بہتری کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر مزید کم نہیں ہو گی، وزیر خزانہ

عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا کہ 2019 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا لیکن آئندہ 2 سال میں اس میں کمی کا امکان ہے۔

پاکستان کے لیے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلانگو پیچاموتھو نے کہا کہ پاکستان کے لیے کاروبار پر آنے والی لاگت اور ریگولیٹری نظام کو تبدیل کرنا ممکن ہے جبکہ انہیں ٹیکس کے نظام میں اصلاحات اور اس کا دائرہ کار بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔