برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم

اپ ڈیٹ 23 جون 2016

ای میل

لندن: برطانیہ میں آج اس حوالے سے ریفرنڈم ہورہا ہے کہ آیا برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں؟

پولنگ اسٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ ریفرنڈم میں تقریباً 4 کروڑ 64 لاکھ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) اور اس کے مخالفین کی تعداد تقریباً یکساں ہے اور کوئی بھی گروپ کامیاب ہوسکتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ووٹرز کو یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں—فوٹو/ اے ایف پی
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ووٹرز کو یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں—فوٹو/ اے ایف پی

ریفرنڈم کو برطانوی تاریخ کا اہم ترین لمحہ قرار دیا جارہا ہے اور برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی و مخالفین بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی رکن پارلیمنٹ نائیجل فراز نے شمالی شہر لیڈز میں شہریوں سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ انتہائی اہم ووٹنگ ہوگی جس کا موقع شاید دوبارہ آپ کو نہ مل سکے۔

اسی طرح برطانیہ کے یورپی یونین سے اتحاد کے حامی سابق وزیراعظم جان میجر کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی اہمیت عام انتخابات سے بھی زیادہ ہے، اس سے لوگوں کی زندگی متاثر ہوگی اور ان کے معیار زندگی اور مستقبل پر فرق پڑے گا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے قیام کے بعد دنیا کے ان حصوں میں امن قائم ہوا ہے جہاں اکثر تنازعات رہتے تھے۔

ریفرنڈم کے لیے بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین نے 4 ماہ تک مہم چلائی اور اس میں دو اہم معاملات معیشت اور امیگریشن پر ہی زیادہ تر بات کی گئی۔

برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی، عالمی مالیاتی فنڈ اور بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کی جانب نشاندہی کرتے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا تو پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوجائے گی اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

حالیہ دنوں میں بریگزٹ کے حوالے سے رائے عامہ کے جائزوں کے حساب سے لندن اسٹاک مارکیٹ مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔

امیگریشن

برطانیہ میں امیگریشن کا معاملہ زیادہ متنازع رہا ہے، بریگزٹ کے حامیوں کا موقف ہے کہ برطانیہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد ناقابل قبول حد تک زیادہ ہے جس میں کمی کا طریقہ یہی ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوکر اپنی سرحد کا کنٹرول خود سنبھالے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی نئی امیگریشن پالیسی کا اعلان

واضح رہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کا ہر شہری کہیں بھی رہنے اور ملازمت کرنے کا حق رکھتا ہے، چونکہ دیگر رکن ممالک کی نسبت برطانوی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے لہٰذا مشرقی یورپی ممالک سے بڑی تعداد میں مہاجرین یہاں کام کی تلاش میں آجاتے ہیں۔

بریگزٹ کے مخالفین کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن کے دور میں مائیگریشن سے جان چھڑانا ممکن نہیں اور اگر برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر بھی لیتا ہے تو یہاں مہاجرین کی آمد پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ریفرنڈم کے بعد ممکنہ طور پر برطانیہ کو یورپی مارکیٹ تک رسائی اسی شرط پر دے گا کہ وہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے ملک میں آزادانہ رسائی دے۔

اقلیتوں کا جھکاؤ یورپی یونین کی جانب

برطانیہ کے سیفد فام شہریوں میں سے نصف بریگزٹ کے حق میں ہیں اور نصف اس کے خلاف، تاہم یہاں نسلی اقلیتوں کا جھکاؤ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہے۔

اس کی اہم وجہ ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی بریگزٹ کے خلاف اپنائی جانے والی پالیسی ہے۔

حال ہی میں لندن کے میئر منتخب ہونے والے لیبر پارٹی کے صادق خان بریگزٹ کے سخت مخالف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑنا برطانوی اقدار کے خلاف ہوگا اور دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ برطانیہ تنہا رہنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: سعیدہ وارثی برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حامی

پاکستان سے تعلق رکھنے والی کنزرویٹو پارٹی کی بیرونس سیعدہ وارثی نے بریگزٹ کے حق میں چلائی جانے والی مہم سے خود کو الگ کرکے یورپی یونین میں رہنے کی مہم میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

سعیدہ وارثی نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ بریگزٹ کیمپ میں مہاجرین اور اجنبیوں کے لیے نفرت آمیز جذبات کی وجہ سے کیا ۔

بعد ازاں بریگزٹ کے حامیوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ سیعدہ وارثی ان کے حق میں تھیں۔

تاہم اقلیت سے تعلق رکھنے والے بعض ووٹرز بریگزٹ کے حق میں بھی ہیں، برطانوی وزیر برائے روزگار پریتی پٹیل بھی ان میں سے ایک ہیں۔

ہندوستانی وزیراعظم بھی اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ہیں تاہم اس حوالے سے انہوں نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

گزشتہ برس نومبر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے، اگر ہندوستان کی یورپی یونین تک رسائی کا کوئی دروازہ ہے تو وہ بلاشبہ برطانیہ ہے۔

یورپی یونین کے حامی ایک گروپ کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے بعد برطانیہ میں بیرونی سرمایہ کاری رکنے کا خدشہ ہے کیوں کہ غیر ملکی کمپنیاں یورپی مارکیٹ تک رسائی چاہتی ہیں اور وہ برطانیہ کو غیر سود مند سمجھنے لگیں گی۔

نریندر مودی کے ریمارکس کا عکس برطانیہ میں موجود سرمایہ کاروں کے خیالات میں بھی نظر آتا ہے، رواں ماہ ٹاٹا اسٹیل کے یورپی ترجمان ٹم موریس نے کہا تھا کہ برطانیہ میں ٹاٹا اسٹیل کی کل پیداوار کا ایک تہائی حصہ یورپ برآمد ہوتا ہے لہٰذا یورپی مارکیٹ تک رسائی ہمارے کاروبار کے لیے انتہائی اہم ہے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ کا قتل

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے شہر ویسٹ یارکشائر کے قریب واقع گاؤں برسٹل میں لیبر پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ جو کوکس کو انتخابی مہم کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: لیبر پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ قتل

41 سالہ جوکوکس برطانیہ کے یورپین یونین کا رکن رہنے کے حق میں مہم چلارہی تھیں جبکہ حملہ آور کو جب عدالت میں پیش کیا گیا اور اس سے نام پوچھا گیا تو اس نے غداروں کے لیے موت اور برطانیہ کے لیے آزادی کی بات کی تھی۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ’سب سے پہلے برطانیہ ‘ کا نعرہ لگایا تھا۔

واضح رہے کہ ’سب سے پہلے برطانیہ' کا نعرہ دائیں بازو کی ایک سیاسی جماعت کا ہے، جو ان کی ویب سائٹ پر بھی درج ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی کون؟

امریکی صدر براک اوباما، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنما برطانیہ کو یورپی یونین میں رہنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

اس کے علاوہ جرمنی، فرانس اور ترکی بھی برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ جڑے رہنے کے حق میں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اپنے بیان میں کہا کہ ظاہر ہے میں چاہتی ہوں کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہے تاہم یہ فیصلہ برطانوی عوام کو کرنا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانوی عوام یورپی یونین میں رہنے کا ہی فیصلہ کریں گے تاہم جو بھی نتیجہ آئے یورپی یونین اس کا احترام کرے گا۔

ترکی نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ہے، ترکی خود بھی یورپی یونین کی رکنیت کا خواہاں ہے اور برطانیہ اس کا سب سے بڑا حامی ہے۔

نتیجہ کیا ہوگا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ نتیجے کا دارومدار ٹرن آؤٹ پر ہوگا، ووٹ ڈالنے کی شرح جتنی زیادہ ہوگی برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامیوں کی کامیابی کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں کے نتائج جمعرات (23 جون) اور جمعے (24 جون) کی درمیانی شب جاری کیے جاتے رہیں گے تاہم حمتی نتائج کا اعلان مانچسٹر کے ٹاؤن ہال سے چیف کاؤنٹنگ افسر کریں گے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔