بی جے پی سربراہ کا غیرقانونی مہاجرین کو خلیج بنگال میں پھینکنے کا وعدہ

13 اپريل 2019

ای میل

امیت شاہ نے بنگال میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بیان دیا—فوٹو:رائٹرز
امیت شاہ نے بنگال میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بیان دیا—فوٹو:رائٹرز

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سربراہ نے غیر قانونی مسلمان مہاجرین کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ انہیں خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے مشرقی ریاست بنگال میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اس طرح کے مہاجرین کو 'دیمک' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'بیرونی لوگ بنگال کی سرزمیں میں دیمک کی طرح ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی دراندازوں کو ایک ایک کرکے اٹھائے گی اور انہیں خلیج بنگال میں پھینک دے گی'۔

خیال رہے کہ امیت شاہ نے گزشتہ برس ستمبر میں بھی اسی طرح کا بیان دیا تھا جس کے بعد ان کے بیان پر مذمت کی گئی تھی جبکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں اس بیان کو درج کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن کا نریندر مودی کے چینل کی نشریات بند کرنے کا حکم

امیت شاہ نے اس طرح کے خیالات کا اظہار مسلمانوں کے علاوہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آنے والے ہندووں، بدھسٹ اور سکھوں کے حوالے سے بھی کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں موجود 40 ہزار روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کے لیے پہلے سے ہی کام جاری ہے جو میانمار میں ریاستی جبر کا شکار ہو کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے جبکہ نئی دہلی کی حکومت انہیں سیکیورٹی رسک قرار دیتی ہے۔

مودی کا دایاں بازو تصور ہونے والے امیت شاہ کے اس بیان پر اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے تنقید کی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کو ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

کیرالا کرسچن فورم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ بیان ایک سیکیولر ریاست قوم کی شناخت اور خود مختاری پر براہ راست حملہ ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ مکمل

دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان نے پارٹی صدر کی تقریر پر اپنا ردعمل دینے سے گریز کیا۔

کانگریس کے ترجمان سنجے جھا کا کہنا تھا کہ امیت شاہ کا بیان ووٹرز کو تعصب کی جانب دھکیلنے کی براہ راست کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی کا سیاسی ماڈل نفرت کے ٹمپریچر کو بڑھانے اور اس ٹمپریچر میں بھارت کو مذہبی طور پر تقسیم کرنے کے لیے ہے'۔