بھارت: نچلی ذات کے ہندو نوجوان کو انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف

13 اپريل 2019

ای میل

متاثرہ نوجوان سنیل انیل پاولے اینٹوں کے بھٹے پر گزشتہ 2 سال سے کام کررہے تھے — تصویر بشکریہ انڈین ایکسپریس
متاثرہ نوجوان سنیل انیل پاولے اینٹوں کے بھٹے پر گزشتہ 2 سال سے کام کررہے تھے — تصویر بشکریہ انڈین ایکسپریس

بھارت میں غیر انسانی سلوک کا ایک اور بدترین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں اونچی ذات کے ہندو نے نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے غریب مزدور کو انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا جس کے خلاف ملک میں انسانی حقوق کے رضاکار سراپا احتجاج ہیں۔

ڈسٹرک کلکٹوریٹ کے سامنے احتجاج کرنے والے افراد میں شامل سماجی رضاکار ڈاکٹر بابا آدھو نے کہا کہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ’ہندو دہشت گردی‘ کا کیس نہیں۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ملشی تعلقہ کے گاؤں جمبھی میں پیش آیا تھا، جہاں ہندوؤں کی نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان سنیل انیل پاولے نے بھٹہ مالک سندیپ پور، اس کی اہلیہ اور برادرِ نسبتی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جنونی ہندوؤں کا مسلمان بزرگ پر تشدد، زبردستی سور کا گوشت کھلا دیا

جس پر پولیس نے مقدمے کا اندراج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا تھا لیکن اس کے بعد تینوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

ملزمان کی رہائی کے خلاف سماجی تنطیموں نے احتجاج کیا اور ضمانتی حکم کے خلاف پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ انہوں نے کیس کے لیے خصوصی پراسیکوٹر تعینات کرنے اور متاثرہ شخص کے خاندان کی مالی امداد اور بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔

سماجی رضاکاروں نے اسے اونچی ذات کے افراد کا نچلی ذات کے لوگوں کے خلاف دہشت گردی کا عمل قرار دیا۔

احتجاج کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وارڈھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں، ایک غریب مزدور کو اس کے مالک کی جانب سے انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ غیر انسانی عمل کیا کہلائے گا۔

مزید پڑھیں: شام میں شہری گھاس، پتےکھانے پر مجبور

واضح رہے کہ عثمان آباد سے تعلق رکھنے والا سنیل انیل پاولے، بھٹہ مالک سندیپ پور کے اینٹوں کے بھٹے پر گزشتہ 2 سال سے کام کررہا تھا جبکہ اس کے اہلِ خانہ بھی بھٹے کے احاطے میں رہائش پذیر تھے۔

اپنی شکایت میں بھٹہ مزدور نے بتایا کہ وہ اور اس کے والد دوپہر کا کھانا کھا کر سستا رہے تھے جس پر بھٹہ مالک نے آکر دوبارہ کام شروع کرنے کا کہا اور تکرار کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔

جس پر بھٹہ مالک نے اپنی بیوی سے ایک برتن میں انسانی فضلہ لانے کا کہا، جو وہ لے آئی، جس پر بھٹہ مالک نے بری طرح مشتعل ہو کر اسے اتنا خوفزدہ کردیا کہ وہ اس میں سے تھوڑا سا کھانے پر مجبور ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد بھٹہ مزدور اور اس کے اہلِ خانہ اپنے رشتہ داروں کے گھر منتقل ہوگئے تھے۔