بھارت: جنونی ہندوؤں کا مسلمان بزرگ پر تشدد، زبردستی سور کا گوشت کھلا دیا

09 اپريل 2019

ای میل

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ کو گھیر رکھا ہے—تصویر اسکرین گریب
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ کو گھیر رکھا ہے—تصویر اسکرین گریب

بھارت کی ریاست آسام میں نفرت اگلتے جنونی ہندوؤں نے ایک اور مسلمان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ 68 سالہ شوکت علی کو گھیر رکھا ہے جن کے کپڑے زدوکوب کرنے کے باعث کیچڑ میں لت پت اور پھٹ چکے ہیں۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسی واقعے کی دوسری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تنہا شخص کو گھیر کر انتہا پسند ہندوؤں نے ایک پیکٹ میں سے سور کا گوشت نکال کر انہیں وہ گوشت کھانے پر مجبور کیا۔

ویڈیو میں جنونی افراد بزرگ شخص سے ان کی شناخت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہے اور آسام کے قانون کے مطابق 14 سال کی عمر سے زائد مویشی کو کاٹنے کی اجازت ہے جس کے لیے جانور کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق شوکت ایک کاروباری شخص ہیں اور گزشتہ 35 سال سے اس علاقے میں ہوٹل چلا رہے ہیں ہجوم نے ان پر ہر ہفتے لگنے والے بازاروں میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگایا۔

مزید پڑھیں: گائے کے گوشت‘ پر قتل:بھارت میں 11 مجرمان کو عمر قید

تاہم صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب شرپسندوں نے شوکت علی کو بری طرح زدو کوب کرنے کے بعد انہیں سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔

رپورٹس کے مطابق شوکت علی زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ہجوم نے ہفتہ بازار کے مینیجر کمل تھاپا سے بھی بدتمیزی کی۔

واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے نامعلوم افراد کے خلاف 2 مقدمات درج کیے ہیں جس میں سے ایک کمل تھاپا جب کے دوسرا مقدمہ شوکت علی کے اہلِ خانہ نے درج کروایا۔

تاہم پولیس نے اس واقعے کو مذہب کی بنیاد پر تشدد قرار دینے سے انکار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: گائے چوری کا شبہ، ہجوم کے تشدد سے 2 مسلمان قتل

دوسری جانب بھارتی مسلمان رہنما اویس الدین اویسی نے واقعے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’یہ بات غیر متعلقہ ہے کہ آسام میں گائے کا گوشت فروخت کرنا قانونی ہے بلکہ بھارت کے کسی بھی حصے میں بے گناہ شخص کو اسطرح الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنانا بھارت میں ہر جگہ غیر قانونی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایسے بہت سے افراد کو جانتا ہوں جو گزشتہ 5 سال کے عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں تشدد کے واقعات سامنے آنے پر بے حسی محسوس کرتے ہیں۔