کوئٹہ: سبزی منڈی میں بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

سبزی منڈی میں دھماکے سے 20 افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوگئے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز
سبزی منڈی میں دھماکے سے 20 افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوگئے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں قائم سبزی منڈی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کرلی۔

سبزی منڈی میں دھماکے سے 20 افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق داعش کی نیوز ایجنسی ’عماق‘ نے ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق کی۔

عماق نیوز ایجنسی کی جانب سے حملہ آور کی تصویر اور نام بھی جاری کیے۔

جمعے کو اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے نے قبول کی تھی جس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ حملہ لشکر جھنگوی کے ساتھ مل کر کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی کوئٹہ دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کی اور اس کے ساتھ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 87 ہو گئی

وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان نے ہزار گنجی میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے شہداء کے غم میں برابر کے شریک ہیں، شدت پسند سوچ کے حامل افراد معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے۔

ایمنسی انٹرنیشنل نے اپنے اعلامیے میں کوئٹہ بم دھماکے کو ’دردناک ماضی کی یاد‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور دیگر سیاستدانوں نے بھی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی تھی۔

مزیدپڑھیں: بلوچستان: ڈیرہ مراد جمالی میں بم دھماکا، ایک شخص جاں بحق

صدر ملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ دھماکے میں قیمتی جانوں ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔

اپنے پیغام میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا گھناؤنا فعل ہے جو ہمارے لیے بحیثیت قوم اس بات کی یاددہانی ہے کہ اس لعنت کے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے چند باقیات اب بھی باقی ہیں۔