پیپلز بس سروس، ایک عظیم کارنامہ

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

مستقل ایک جماعت کو موقع ملنے کے باوجود عملی طور پر شہر میں وہ ترقی نظر نہیں آتی—اسکرین شاٹ
مستقل ایک جماعت کو موقع ملنے کے باوجود عملی طور پر شہر میں وہ ترقی نظر نہیں آتی—اسکرین شاٹ

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی، بجلی، گیس اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے جبکہ عوام بس امیدیں ہی باندھتے رہ جاتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ان کے مسائل حل نہ ہوں لیکن کسی حد تک کم ضرور ہوجائیں۔

2 کروڑ آبادی کے اس شہر میں ہر سڑک کا تو برا حال ہی ہے لیکن اس پر چلنے والی ہر بس کا حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، شہری خستہ حال بسوں اور انتہائی خطرناک چنگچی رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے اس فقدان کو ختم کرنے کے لیے بہت سے منصوبے شروع کرنے کے اعلانات تو کیے گئے لیکن ان میں بےجا تاخیر نے شہریوں کے سفر کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ’کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا‘

عوام کی رائے جانیں تو کہتے ہیں کہ چونکہ سندھ میں گزشتہ 11 سال سے ایک ہی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکمرانی ہے، لیکن مستقل ایک جماعت کو موقع ملنے کے باوجود عملی طور پر شہر میں کسی بھی شعبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی، جو ایک صوبائی دارالحکومت میں ہونی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر پر آپ کو تبصرے نظر آتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے اپنی ذمہ داری کا احساس آٹے میں نمک کی مثال کے مصداق کیا، جس کا واضح ثبوت شہر قائد کو سندھ حکومت کی جانب سے نجی کمپنی کے اشتراک سے دی گئی 10 ’ایئرکنڈیشن‘ بسیں ہیں۔

ایک برس قبل اپریل 2018 میں ہی سندھ حکومت کی جانب سے نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ڈائیوو کے تعاون سے 10 ایئرکنڈیشن بسیں متعارف کروائی تھیں اور اسے ’پیپلز بس سروس‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس سروس کے آغاز پر عوام کی قلیل تعداد نے جہاں خوشی کا اظہار کیا تھا وہیں بہت بڑی تعداد میں لوگ حکومت سندھ پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے نظر آئے تھے کہ 2 کروڑ آبادی کے شہر میں صرف 10 بسیں عوام کے ساتھ صریح مذاق ہے۔

اس سب کے باوجود روزانہ شہریوں کی کچھ تعداد تو ان بسوں سے مستفید ہو جاتی تھی، رواں سال اس سروس نے اپنا ایک سال مکمل کرلیا لیکن ایک سال مکمل ہوتے ہی اچانک اس بس سروس کی بندش کی خبریں گردش کرنے لگیں اور عوام کشمکش میں مبتلا تھے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حکومت نے 10 بسیں چلا کر آٹے میں نمک برابر کام کر دیا ہے، باقی بھی کبھی نہ کبھی ہو ہی جائے گا۔

رواں ہفتے یہ خبریں سامنے آئیں کہ پیپلز بس سروس کی بسوں نے اچانک روٹ پر چلنا بند کر دیا جبکہ اس کے پیچھے سندھ حکومت اور نجی کمپنی کے مابین کچھ تنازع بتایا گیا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اس بات کی تردید کی جاتی رہی اور کہا گیا کہ سروس بحال ہے اور کچھ تکنیکی معاملات کی وجہ سے اسے عارضی طور پر بند کیا گیا، بعد ازاں سڑکوں پر یہ بسیں رواں دواں نظر بھی آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گرین لائن ریپڈ بس سروس کا سنگ بنیاد

تاہم ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی آئیں کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ختم ہونے کے بعد سروس بند ہوئی کیونکہ بس سروس کے کم کرائے کی وجہ سے نجی کمپنی کو نقصان ہو رہا تھا اور حکومت کی جانب سے بس سروس کے معاہدے پر نظرثانی نہیں کی جارہی تھی۔

اس سارے معاملے اور مسافروں میں پائی جانے والی بے چینی پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کوئی سروس بند نہیں ہوئی یہ سب افواہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور نجی کمپنی کے درمیان معاہدہ ختم نہیں ہوا، یہ سب عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

اویس قادر شاہ نے مزید بتایا کہ بس سروس کمپنی کی کچھ اندرونی مسائل کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے رکی تھی لیکن یہ پھر بحال ہوگئی اور سڑکوں پر رواں دواں ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کمپنی کا کرائے کا مسئلہ تھا بلکہ انہوں نے اسے جھوٹا دعویٰ قرار دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ کمپنی سے فری ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت معاہدہ ہوا تھا اور ابتدائی طور پر ٹرائل بنیادوں پر یہ بسیں چلائی گئی تھیں اور اس میں ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ یہ بسیں چلتی رہیں گی جبکہ مزید بھی لائی جائیں گی۔

دوران گفتگو جب ان سے پوچھا کہ شہر قائد کی آبادی کے لحاظ سے بسوں کی تعداد کافی کم نہیں؟ تو اس پر اویس قادر شاہ نے جواب دیا کہ متعدد کمپنیوں سے بھی بات چیت جاری ہے، مزید بسیں عوام کے لیے لائی جائیں گی، تاہم وہ اس دوران یہ بتانے سے قاصر رہے کہ کتنی تعداد میں بسیں ہوں گی اور یہ کب تک سڑکوں پر آجائیں گی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں رجسٹرڈ چنگچی رکشے چلانے کی اجازت

واضح رہے کہ کراچی میں اس سے قبل بھی گرین بس سروس سمیت متعدد سروسز متعارف کروائی گئیں تاہم عدم توجہ کے باعث وہ عوام کو وہ سہولت فراہم نہیں کرسکیں جس کی انہیں ضروت ہے۔

اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے نارتھ کراچی سے ٹاور تک کے لیے شروع کیا گیا گرین لائن بس منصوبہ بھی 3 سال کے طویل عرصے کے باوجود فعال نہیں ہوسکا، اس منصوبے پر بھی یہ باتیں سامنے آئی ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ پروجیکٹ سست روی کا شکار ہے۔

تاہم وجوہات کچھ بھی ہوں شہر قائد کے عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ انہیں دنیا کے دیگر میٹروپولیٹن شہروں کی طرح سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔