مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی ایمنسٹی اسکیم کو آسان بنانے کی ہدایت

ای میل

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو اسد عمر کے بعد مشیر خزانہ مقرر کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو اسد عمر کے بعد مشیر خزانہ مقرر کیا گیا—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو حکومت کی جانب سے اثاثہ جات کی ڈیکلیئریشن کے حوالے سے تجویز کی گئی اسکیم کو سمجھنے اور عمل در آمد کے لیے آسان بنانے کی ہدایت کردی۔

وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر حکام کے ساتھ مجوزہ ایسٹ ڈیکلیئریشن اسکیم 2019 کا تفصیلی جائزہ لیا۔

بیان کے مطابق مشیر خزانہ نے اسکیم کی وسعت اور اس کے اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا۔

مشیر خزانہ نے ایف بی آر کو اسکیم کو سمجھنے اور عمل درآمد کے لیے آسان بنانے کی ہدایت کی اور اسکیم کا مقصد معیشت کو مزید ٹیکس سے ہم آہنگ اور اس کو دستاویزی شکل دینے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں:ایمنسٹی اسکیم پر پھر اتفاق نہ ہوسکا، منظوری کابینہ کے اگلے اجلاس تک مؤخر

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 اپریل کو حکومتی ایمنسٹی اسکیم کو منظوری کے لیے پیش کیا گیا تھا جہاں کچھ وزرا کی جانب سے مخالفت کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس پر اسکیم کی منظوری ملتوی کی گئی تھی اور اگلے روز بھی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جہاں ایک مرتبہ پھر اتفاق رائے نہ ہوسکا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کو اندرونی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے چند اراکین نے اس اسکیم کے تحت مجوزہ 15 فیصد شرح ٹیکس پر اعتراض کیا تھا، اسی طرح چند اراکین نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھائے تھے۔

ذرائع نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے سوال اٹھایا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس مجوزہ ٹیکس اسکیم اور گزشتہ حکومت کی اسی سے ملتی جلتی ٹیکس اسکیم میں کیا فرق ہے۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے شرح ٹیکس 15 فیصد ہونے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے اس میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزرا کے اعتراض کے باعث ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری ملتوی

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹیکس اسکیم متعارف کروانے سے قبل ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا تھا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی اس خیال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے نہ تو حکومت کو کوئی فائدہ پہنچے گا اور نہ ہی عوام کو، کیوںکہ اس سے قبل اس طرح کی تمام اسکیمیں بے کار ثابت ہوئیں۔

بعد ازاں اگلے روز بھی کابینہ اجلاس میں ایمنسٹی اسکیم پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تھا جس پر منظوری کا فیصلہ کابینہ کے اگلے اجلاس تک موخر کردیا گیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ کابینہ نے ایمنسٹی اسکیم کے تمام پہلوؤں پر بحث کی اور اس دوران تمام آپشنز زیر بحث آئے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اسکیم میں چند چیزوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے لہٰذا اس معاملے کو کابینہ کے اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کابینہ کے اگلے اجلاس سے قبل ہی وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد مقرر ہونے والے نئے مشیر خزانہ نے ایف بی آر کو مجوزہ اسکیم کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔