4 مہینوں کی رویت ہلال پر 30 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات

27 اپريل 2019

ای میل

سال 18-2017 میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے لیے مختص کردہ بجٹ 32 لاکھ 40 ہزار روپے تھا—تصویر:شٹر اسٹاک
سال 18-2017 میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے لیے مختص کردہ بجٹ 32 لاکھ 40 ہزار روپے تھا—تصویر:شٹر اسٹاک

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزارت مذہبی امور نے یہ انکشاف کیا کہ گزشتہ برس 4 مواقعوں، رمضان المبارک، شوال المکرم (عید الفطر)، محرم الحرام اور ذوالحج (عیدالاضحیٰ) کا چاند دیکھنے پر 30 لاکھ 60 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 18-2017 میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے لیے مختص کردہ بجٹ 32 لاکھ 40 ہزار روپے تھا۔

جس میں سے 30 لاکھ 60 ہزار روپے اراکین کے قیام و طعام اور آنے کے اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے اور ساتھ ہر رکن کو ایک ہزار روپے کنوینس الاؤنس اور موبائل فون چارجز کی مد بھی دیے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ تمام الاؤنسز گریڈ 20 کے جوائنٹ سکریٹری کو حاصل مراعات کے مساوی ہیں۔

اس کے ساتھ اجلاس میں ملکے میں صحت کے مسائل اور ادوایات کی قیمتوں پر بھی بات چیت ہوئی اور بتایا گیا کہ صرف گردے فیل ہونے کے باعث سال 2013 سے 2017 تک ملک میں ایک لاکھ 75 ہزار 454 اموات ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ادویہ سازوں کا 395 انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

ایوانِ زیریں میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 33 ہزار 15، سال 2014 میں 34 ہزار 207، سال 2015 میں 35 ہزار 167 افراد، سال 2016 میں 36 ہزار 221 افراد، سال 2017 میں 36 ہزار 844 گردے کے مریضوں کا انتقال ہوا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کے 35 طبی مراکز میں ایچ آئی وی/ایڈز کے 23 ہزار 757 مریض رجسٹرڈ ہیں جس میں 18 ہزار 220 مرد، 4 ہزار 170 خواتین، 379 مخنث افراد، 564 بچے اور 424 بچیاں شامل ہیں۔

اس کے ساتھ اجلاس میں ادویات کی قیمتوں پر بھی بات ہوئی جس میں ایوان کو بتایا گیا کہ حکومت نے روپے کی قدر میں حالیہ کمی کے باعث ادویات کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: رتوڈیرو کے 13بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کا انکشاف

اپنے تحریر جواب میں وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے روپے کی قدر میں کمی کے باعث ادویات کی قیمت میں زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی۔

تاہم اس کے بعد سے حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے کے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جس کے نتیجے میں 400 ادویات کی قیمتیں کم کردی گئیں ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک طرف حکومت ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر عوام کو یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ذریعے سبسڈی فراہم کررہی تھی لیکن دوسری جانب اس ادارے نے گزشتہ رمضان میں خریدے گئے آٹے کی مد میں آٹا ملز کو 3 کروڑ 19 لاکھ روپے ادا نہیں کیے۔