اردو پر مکمل عبور نہیں جس کی وجہ سے غلطی ہوئی، بلاول بھٹو

ای میل

بلاول بھٹو سے پارٹی اراکین نے ملاقات کی—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
بلاول بھٹو سے پارٹی اراکین نے ملاقات کی—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے ادا کیے گئے جملوں پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو پر مکمل عبور نہ ہونے کے باعث یہ غلطی ہوئی۔

اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'پریس کانفرنس میں خان صاحب ''سمجھتی'' ہے کا جملہ جان بوجھ کر نہیں کہا، اردو پر مکمل عبور نہ ہونے کے باعث یہ غلطی ہوئی'۔

اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے یہ الفاظ جان بوجھ کر نہیں کہے کیونکہ وہ مخالفین کےخلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے کےقائل نہیں ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے خیبرپختونخوا (کے پی) کے پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی جہاں انہیں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بلین ٹری منصوبے میں کرپشن کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

مزید پڑھیں:بلاول بھٹو کو ’ صاحبہ ‘ کہنے پر وزیراعظم عمران خان پر تنقید

پارٹی اراکین کو ہدایت کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام دعوؤں کی حقیقت سامنے آنا شروع ہوگئی ہے اس لیے ان کی کرپشن کو ہرسطح پر بے نقاب کیا جائے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کے پی کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کو 'صاحبہ' کہا تھا جس پر شدید تنقید ہوئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کے بعد جوابی ردعمل میں بلاول بھٹو پر بھی اسی طرح کی زبان استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم انہوں اپنے بیان کی وضاحت کردی۔

بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ 'اگر خان صاحب اس طرح کی گفگتو سے 'سمجھتی' ہے کہ کسی بے عزتی ہوگی تو وہ ان کی اپنی ہوگی، وہ جیسے بھی بنے ہیں اس ملک کے وزیراعظم ہیں اس منصب کا خیال رکھنا چاہیے'۔

قبل ازیں وانا میں خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ میں بہت جدوجہد کے بعد آیا ہوں، میں ’ بلاول بھٹو صاحبہ ‘ کی طرح کاغذ کی پرچی پر نہیں آیا تھا کہ مجھے والدہ نے جائیداد میں پارٹی دے دی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 10 برس میں ملک کو 2 جماعتوں نے قرضوں کی دلدل میں ڈبویا، یہاں سے پیسہ لوٹ کر باہر لے کر گئے، ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے پیسہ چوری کرکے منی لانڈرنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں:جب تک زندہ ہوں ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا، عمران خان

اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ 10 برس میں ان دونوں جماعتوں نے قوم پر 24 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھایا جبکہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں گیا، اس لیے یہ سب جو جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہوئے ہیں، کہتے ہیں حکومت گرادیں گے، حکومت صحیح کام نہیں کر رہی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان سب کا ایک مقصد ہے کہ عمران خان پر زور لگا کر این آر او لے لیں تاکہ ان کی کرپشن اور چوری کو معاف کردیا جائے لیکن میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، شریف خاندان اور احتساب سے ڈرے سب لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میری زندگی مقابلوں میں گزری ہے، 21 سال کھیلوں کے گراؤنڈ میں مقابلہ کیا، 22 سال سیاست کے میدانوں میں مقابلہ کیا، میں یہاں بہت بڑی جدوجہد سے پہنچا ہوں کیونکہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد ہی ان لوگوں کو شکست دینا تھا جو اقتدار میں آکر لوگوں کا پیسہ چوری کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان لوگوں کو شکست دیے بغیر ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں، میں ملک میں نہ فیکٹریاں بنانے آیا تھا نہ محلات، میں تو صرف ان کا احتساب کرنے آیا تھا اور جب تک میں زندہ ہوں ملک کو لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا نہ ہی کوئی این آر او دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ان لوگوں کا پیسہ واپس لے کر نہیں آؤں گا میری جدوجہد جاری رہے گی، جب کوئی جدوجہد کرکے آتا تو اسے طاقت مل جاتی ہے اس میں خوف نہیں ہوتا، میں بلاول بھٹو کی طرح پرچی پر نہیں آیا تھا کہ والدہ نے جائیداد میں جماعت دے دی ہے۔