’اسد عمر کو ہٹانے کے پیچھے سیاسی وجوہات تھیں‘

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2019

ای میل

وزارت میں تبدیلی واشنگٹن میں موجود آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
وزارت میں تبدیلی واشنگٹن میں موجود آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزارت خزانہ میں موجود عہدیداروں کی بڑی تعداد اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اراکین کا ماننا ہے کہ اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹانے کے پیچھے معاشی پالیسیاں نہیں بلکہ ’سیاسی‘ وجوہات تھیں۔

اس نقطہ پر جواز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ہی وزیر اعظم نے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مجوزہ بیل آؤٹ پیکج میں کیے گئے مطالبات پر ایڈجسمنٹ کے پیمانے کو کم کرنے کے لیے اسد عمر کی کوششوں کی تعریف کی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اسد عمر جو وزیر اعظم کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے، انہیں اپنے ہٹائے جانے کی خبر ’بڑے سرپرائز‘ کے ساتھ ملی کیونکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے سلسلے میں واشنگٹن کے ’کامیاب‘ دورے کے بعد وہ اس طرح کے اقدام کی امید نہیں کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: اسد عمر وزیر خزانہ کے عہدے سے مستعفی

اس حوالے سے اس تمام صورتحال سے واقف ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ہم آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بنیادی فریم ورک معاہدے پر تقریباً متفق ہوگئے تھے‘۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اسد عمر آئی ایم ایف پیکج کی سخت ترین شرائط کو تبدیل کرنے کے بعد اپنے ساتھی کابینہ اراکین کے ساتھ خوشی منا رہے تھے لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وزیر اعظم کا ان کے لیے کوئی دوسرا ہی منصوبہ ہے۔

اس کے ساتھ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزارت میں تبدیلی واشنگٹن میں موجود آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کے لیے بھی ایک بہت بڑا سرپرائز تھا۔

مذکورہ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسد عمر کے مختلف ساتھیوں کے لیے ایک سرپرائز کے طور پر سامنے آیا کیونکہ وہ بھی اس سے باخبر تھے کہ عمران خان کا بیان تھا کہ وہ وزیر خزانہ تو نائب وزیر اعظم کے طور پر تصور کرتے ہیں۔

دوسری جانب وزارت خزانہ کے سینئر عہدیداروں اور کابینہ کے کچھ اراکین جنہیں اسد عمر کو ہٹانے کے بارے میں براہ راست معلوم تھا، انہوں نے گفتگو کے دوران وزیر اعظم کے اس اچانک فیصلے کے پیچھے مختلف وجوہات بیاں کیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھنا اور ساتھ ہی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے معاملے پر حکومت کے خلاف جاری مہم کی وجہ سے عمران خان پر شدید دباؤ تھا۔

اس بارے میں ایک کابینہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وزیر اعظم کا خیال تھا کہ اسد عمر کے قلمدان میں تبدیلی اپوزیشن اور میڈیا کی جانب سے تنقید کو کم کر دے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: بطور وزیر خزانہ اسد عمر کی کارکردگی پر ایک نظر

تاہم انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ ’ان کے قریبی ساتھی‘ دیگر کسی وزارت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے۔

وزیر کا خیال تھا کہ وزیر اعظم میڈیا رپورٹس پر اور ٹی وی ٹاک شوز میں ماہرین معاشیات ملک کی معشیت میں بہتری سے متعلق حکومتی دعووں کو چیلنج کرنے سے زیادہ پریشان تھے۔

ایک اور وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے سے قبل وزیر اعظم کی معیشت سے متعلق معاملات میں کم دلچسپی تھی کیونکہ ان کی اصل توجہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی میں بہتری پر تھی۔

تاہم وزیر کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان نے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اور اس سے خود کو باخبر رکھنے کے لیے دیگر معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کا آغاز کیا، جس میں سے کچھ سابق حکومتوں کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان ان معاشی ماہرین پر بھروسہ کرنا شروع ہوگئے تھے، جنہوں نے پالیسیوں میں ان خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن کا پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے تعاقب کیا جارہا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسد عمر کے خلاف کچھ ’مفاد پرست گروپس‘ نے اپنے ہی وزیر خزانہ کی صلاحیتوں سے متعلق وزیر اعظم کے خیالات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسد عمر کو وزارت خزانہ کے قلمدان سے ہٹانے کے بعد تین شعبے کے یہ مفاد پرست گروپ مسلسل موجود رہے اور چینی کے کاروبار میں شامل افراد کی جانب سے چینی پر سبسڈی دینے پر اسد عمل کی مسلسل مخالفت کی گئی۔

اسی طرح طاقتور بینکاروں کا گروپ بھی ان کے بینکنگ سروسز کی ریگولیش سے متعلق کچھ فیصلوں سے ناخوش تھا۔

مزید پڑھیں: اسد عمر کے مستعفی ہونے پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں کا ردعمل

ساتھ ہی تیسرا گروپ جو اسد عمر کے خلاف تھا وہ ریئل اسٹیٹ ٹائیکونز پر مشتمل تھا جو پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ٹیکس کے لیے مارکیٹ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین متعارف کروانے کے خلاف تھا۔

کابینہ میں موجود وزیر کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر تینوں صوبوں کے ریونیو وزرا کے ساتھ معاملات طے پاگئے تھے‘ اور اس سلسلے میں بجٹ میں فیصلے کا اعلان کیا جانا تھا۔

سابق وزیر کے ایک قریبی سینئر پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ ’ان مفاد پرست گروپس کے نمائندے ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہتے ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم کو یہ احساس دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا کہ اسد عمر کابینہ کی اس اہم پوزیشن کے لیے ٹھیک انتخاب نہیں تھے‘۔

حکومت نے سیاستی مقصد کو مسترد کردیا

ادھر جب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا یوسف بیگ مرزا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً تمام اعلیٰ سطح کے اجلاس میں موجود رہے، لہٰذا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’سیاسی صورتحال‘ نے اسد عمر کو ہٹانے میں کچھ نہیں کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے اس فیصلے میں کسی پریشر گروپ کے ملوث ہونے کا انکار کیا اور کہا کہ وہ اس طرح کے کسی گروپ کی موجودگی سے آگاہ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'اسد عمر کے جانے سے معیشت میں بہتری آئے گی'

یوسف بیگ مرزا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ان کی کابینہ میں تبدیلی لانے کا حوالہ اس وقت ہی دے دیا گیا تھا جب انہوں نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ جو اس ملک کے لیے فائدے مند نہیں ہوگا اس کی کابینہ میں کوئی جگہ نہیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چونکہ وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ میں تبدیلی کے لیے خود وجہ بتا دی گئی تھی تو لہٰذا وہ اس بارے میں مزید کچھ اور نہیں کہہ سکتے۔


یہ خبر 29 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی