رواں مالی سال: محصولات کی وصولی 3 فیصد معمولی اضافے کے باوجود ہدف سے دور

اپ ڈیٹ 01 مئ 2019

ای میل

جولائی سے اپریل کے دوران متوقع ہدف 33 کھرب روپے سے زائد رکھا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
جولائی سے اپریل کے دوران متوقع ہدف 33 کھرب روپے سے زائد رکھا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وصولی میں 3 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ جولائی سے اپریل کے دوران شارٹ فال 356 ارب روپے سے زائد پر رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ریونیو 29 کھرب 81 ارب روپے ریکارڈ کا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 29 کھرب 22 ارب روپے تھی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں 3.09 فیصد اضافہ ہوا تاہم جولائی سے اپریل کے لیے متوقع ہدف 33 کھرب 37 ارب روپے رکھا گیا تھا۔

عارضی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر وصولی میں اضافہ درآمدی سطح پر کسٹم ڈیوٹی میں معمولی اضافہ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں بھی معمولی اضافہ ترقی کی بنیاد ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے تکنیکی سطح کے مذاکرات، 6 سے 8 ارب ڈالر کا پیکج متوقع

ماہانہ بنیادوں پر بات کی جائے تو 30 اپریل تک وصولی 339 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 291 ارب روپے تک رہی جو 48 ارب روپے کے شارٹ فال کو ظاہر کرتی ہے۔

تخمینے سے کم ٹیکس وصولی ٹیکس حکام کے انتظامی امور میں خامیوں کو ظاہر کرتی ہے اور یہ محصولات کے نظام میں بڑی خامیوں کو ختم کرنے کے لیے حکومت کے سامنے ایک چیلنج ہے کیونکہ کسٹم، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے تمام سربراہ آمدنی کی وصولی کا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر نے بھی 200 ارب روپے سے زیادہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کو بھی روک دیا۔

کم وصولی آئندہ مالی سال کے لیے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج کے لیے اٹھائے گئے ایف بی آر کے اصلاحاتی اور آمدنی کے اقدامات کو عیاں کرتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ 20-2019 میں 600 ارب روپے مالیت کے آمدنی اقدامات نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو جولائی 2018 سے اپریل 2019 کے عرصے کے دوران کسٹمز کلیکشن 561 ارب 11 کروڑ روپے رہا جبکہ اس کا ہدف انہیں ماہ کے لیے 570 ارب 30 کروڑ روپے متوقع تھا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس میں 9 ارب 19 کروڑ روپے کا شارٹ فال رہا۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کے دوران گیس کی قلت میں 157 فیصد اضافے کا امکان

کسٹم کلیکشن میں کمی کی بڑی وجہ فرنس آئل کی درآمدات پر پابندی، استعمال شدہ گاڑیوں اور غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے۔

جولائی سے اپریل کے دوران انکم ٹیکس وصولی 10 کھرب 74 ارب روپے رہی جو اپنے متوقع ہدف سے کافی پیچھے تھی جبکہ ایف بی آر کی جانب سے ان عرصے کے دوران انکم ٹیکس کلیکش کے لیے تخمینہ لگائے گئے ہدف کو شیئر کرنے سے گریزاں نظر آئے۔

اسی طرح اس عرصے کے لیے سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی کے لیے مختص ہدف کو بھی راز رکھا گیا تاہم جولائی سے اپریل کے دوران ٹیکس کی مجموعی وصولی 11 کھرب 65 ارب روپے رہی جبکہ ایف ای ڈی 183 ارب 88 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔