انسانی اسمگلنگ کے الزامات میں 11 چینی باشندے ایف آئی اے کے حوالے

اپ ڈیٹ 09 مئ 2019

ای میل

جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ 2 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے ملزمان کو عدالت میں پیش کرے — فائل فوٹو/اے ایف پی
جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ 2 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے ملزمان کو عدالت میں پیش کرے — فائل فوٹو/اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر جسم فروشی اور انسانی اعضا فروخت کرنے والے بین الاقوامی گروہ سے تعلق رکھنے والے 11 چینی باشندوں اور 2 مقامی افراد کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ 2 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے 11 مئی کو ملزمان کو عدالت میں پیش کریں۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ کس طرح انہیں اس مشتبہ گروہ کے بارے میں علم ہوا جو پاکستانی خواتین کی چینی باشندوں سے جعلی شادیاں کروانے میں ملوث رہا ہے اور اس کے بدلے کثیر رقم وصول کر رہا تھا، جبکہ ان خواتین کو چین لے جاکر مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق میرج بیورو چلانے کا دعویٰ کرنے والے ایجنٹ کے کہنے پر لاہور کی ایک خاتون نے چینی شہری سے شادی کی۔

مزید پڑھیں: جعلی شادیوں کا ایک اور کیس، ایف آئی اے نے مزید 3 چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا

مبینہ ایجنٹ نے لڑکی کے والد کو بتایا کہ ان کے پاس کچھ ایسے غیر ملکی لڑکے ہیں جو حال ہی میں مسلمان ہوئے ہیں اور شادی کے لیے پاکستانی لڑکی کی تلاش میں ہیں، لڑکا پاکستان ہی میں رہے گا تاہم وہ سال میں چند ماہ کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ بیرون ملک جائے گا۔

لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کی شادی چینی شہری چان ین منگ سے کرادی جس نے اپنی موسیٰ کے نام سے شناخت کروائی اور لڑکی کے والد کے سامنے خود کو مسلمان ظاہر کیا تھا۔

ایف آئی اے کے بیان کے مطابق لڑکی سے شادی کے 3 سے 4 روز بعد چان ین منگ لڑکی کو چین لے گیا اور لڑکی نے اپنے اہلخانہ کو فون کرکے اطلاع دی کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ نے مسلمان ہونے کا ڈرامہ کیا تھا اور اسے جسم فروشی کرنے پر مجبور کر رہا ہے اور انکار پر تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ چین میں چند لوگ پاکستانی خواتین کو چین لانے اور ان سے جسم فروشی کروانے کا کام لے رہے ہیں اور مبینہ افراد انسانی اعضا کے فروخت کا بھی کام کرتے ہیں۔

یہ سب سننے کے بعد لڑکی کے والد نے شادی کروانے والے ایجنٹ سے رابطہ کیا جس نے اسلام آباد میں اپنے باس وی لن پنگ عرف ڈیوڈ سے رابطہ کرنے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم سے رقم چراتے ہوئے ایک چینی شہری گرفتار

باس سے رابطہ کیے جانے پر اس کا کہنا تھا کہ اس نے ایجنٹ کو لڑکی کے لیے 20 لاکھ روپے دیئے ہیں، اگر والد یہ رقم واپس کر دیں تو وہ اسے واپس کردیں گے اور اگر وہ نہ کریں تو یا تو وہ اپنی رقم جسم فروشی سے یا اعضا فروخت کرکے وصول کریں گے۔

ایف آئی اے کو جب اس واقعے کا بتایا گیا تو چین میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ایک درخواست بھیجی گئی اور مذکورہ لڑکی کو واپس پاکستان بلالیا گیا۔

لڑکی نے واپس آکر ایف آئی اے کو بتایا کہ اس گروہ کا سربراہ لاہور میں ہی رہ رہا ہے۔

بیان کے مطابق اس کی اطلاع پر ایف آئی اے نے چھاپہ مار کارروائی کی اور تقریباً 8 چینی افراد اور 2 پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا جبکہ 8 چینی اور 3 پاکستانی پاسپورٹ بھی بر آمد کیے۔

ایف آئی اے نے بعد ازاں مزید 3 چینی شہریوں کو گرفتار کیا جو ان کے مطابق کام کرنے کے لیے راضی دلہوں کو مقامی ایجنٹوں سے ملاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جسم فروشی کیلئے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے والے 8 چینی شہری گرفتار

ان تینوں ملزمان کو لاہور کے مضافاتی علاقوں سے علیحدہ علیحدہ چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

علاوہ ازیں منڈی بہاؤالدین پولیس نے اس ہی طرح کے کیس میں 4 افراد کو گرفتار کیا جن میں ایک چینی شہری بھی شامل ہے۔

پولیس نے چینی شہری اور اس سے شادی کرنے والی ایک خاتون سمیت 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرکے ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں اس طرح کے تقریباً 5 کیسز سامنے آچکے ہیں، تحقیقاتی ادارہ مزید 4 خواتین کو بر آمد کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن کی شادیاں چینی شہریوں سے کرائی گئی تھیں۔