'مودی جی یہ ریڈار ہے، چشمہ اتاریں اور بادلوں کو دیکھیں'

اپ ڈیٹ 12 مئ 2019

ای میل

مودی نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا—فوٹو:رائٹرز
مودی نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا—فوٹو:رائٹرز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے رواں برس 26 فروری کو خراب موسم کے باوجود پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں دراندازی کے احکامات دیے تھے جس پر بھارت میں انہیں اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرناپڑا جبکہ سوشل میڈیا میں اس کو مذاق بنا دیا گیا۔

کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری سیتا رام ییچوری نے وزیر اعظم کے دعوے کو شرم ناک قرار دیا اور کہا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہماری فضائیہ کو غیر تربیت یافتہ بتاتے ہوئے ان کی تضحیک کررہے ہیں، جن حقائق کی انہوں نے نشان دہی کی ہے وہ تمام ریاست مخالف ہیں اور کوئی بھی محب وطن ایسا نہیں کہہ سکتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کوئی ایسی چیز نہیں جس کے ساتھ کھیلا جائے، مودی کی زبان سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی نقصان دہ ہے، اس طرح کا کوئی بھی شخص بھارت کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا‘۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے نریندر مودی کے دعوے پر مبنی بی جے پی کی ٹویٹ کو ڈیلیٹ کرنے پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ٹویٹ بادلوں میں گم ہوگئی، لیکن خوش قسمتی سے مدد کے لیے اس کے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ ’پاکستانی ریڈار بادلوں میں نہیں دیکھ سکتے، یہ ایک اہم معلومات ہیں جسے ہم آئندہ فضائی حملوں کے لیے منصوبہ بنانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کانگریس کے ترجمان سنجے جھا نے ٹویٹ کیا کہ ’مودی جی یہ ریڈار ہے، اپنا چشمہ اتاریں اور بادلوں کو دوبارہ دیکھیں‘۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مودی کی منطق انتہائی دردناک اور شرمندگی کا باعث تھی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ ’یہ کوئی راز نہیں کہ بالاکوٹ کا حملہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کیا یہ وزیر اعظم کے بھارتی فضائیہ کی تجویز کو مسترد کرنے اور خراب موسم میں فضائی حملوں کی اجازت دینے کی وجہ سے تھا‘۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ نریندر مودی کے بارے میں ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں لکھا تھا ’جملہ ہی پھینکتا رہا 5 سال کی سرکار میں، سوچا تھا بادل ہیں، نہیں آؤں گا ریڈار میں‘۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں متنازع ریمارکس دیے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دفاعی ماہرین کے منصوبے پر انہیں شک تھا، مجھے حیرت ہے کہ ملک کے پنڈت جو مجھے برا بھلا کہتے ہیں کبھی یہ نہیں جان سکے‘۔

تاہم سوشل میڈیا پر کئی ماہرین نے واضح کیا کہ مودی کی تجویز کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

ریڈار ٹیکنالوجی ریڈیو ویوز کے ذریعے اپنے ارد گرد چیزوں کی اطلاع دیتی ہے جو دھند میں بھی کام کرتی ہے، بالاکوٹ میں بادلوں کے ہونے سے بھارتی فضائیہ کو کسی قسم کے فوائد حاصل نہیں ہوئے تھے۔

بی جے پی کی قومی اور گجرات یونٹ نے انٹرویو کی ویڈیو شیئر کی تھی تاہم کچھ دیر بعد اسے ہٹا دیا گیا تھا۔