پاکستان خطے کے مسابقتی ممالک سے مسلسل پیچھے

اپ ڈیٹ 13 مئ 2019

ای میل

جب تک مقامی صنعتوں کے لیے طلب میں اضافہ نہیں کیا جائے گا س میں کوئی بڑی سرمایہ کاری سامنے نہیں آئے گی—تصویر شٹر اسٹاک
جب تک مقامی صنعتوں کے لیے طلب میں اضافہ نہیں کیا جائے گا س میں کوئی بڑی سرمایہ کاری سامنے نہیں آئے گی—تصویر شٹر اسٹاک

ملکی مجموعی پیداوار میں مینوفیکچرنگ شعبے کا حصہ 2008 سے مسلسل کم ہورہا ہے اور یہ 2008 میں 14.8 فیصد سے کم ہو کر 2018 میں 12.1 فیصد کی سطح پر پہنچ چکا ہے جس سے معیشت کے اس خاص شعبے میں ہونے والی کمی اندازہ ہوتا ہے۔

اسی عرصے کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی مینوفیکچرنگ کا حصہ 12.8 فیصد سے کم ہو کر 9.7 فیصد پر پہنچ گیا ہے، مینوفیکچرنگ میں قبل از وقت کمی سے صنعتی شعبے اور ملک کے بیرونی اکاؤنٹ میں سرمایہ کاریوں میں براہِ راست اثرات مرتب ہوئے کیوں کہ اس کی برآمدات کم جبکہ درآمدات بڑھ رہی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نمو 2015 سے سست روی کا شکار ہے اور یہ سالانہ 4.9 فیصد کی اوسط پر ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 10.52 فیصد اور بھارت میں 8.1 فیصد ہے، اسی طرح عالمی برآمدات میں ہمارا حصہ 0.12 فیصد ہوگیا ہے جو 2003 میں 0.16 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی درآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

دوسری جانب بنگلہ دیش نے اپنی برآمدات 0.1 فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود اسے 0.2 فیصد کرلیا ہے، اسی طرح ویت نام کی برآمدات 0.17 فیصد سے 1.2 فیصد ہوچکی ہے۔

اسی طرح جی ڈی پی کی فیصد کے اعتبار سے سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی اور یہ 14فیصد تک محدود ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ 31 فیصد اور ویتنام میں 37 فیصد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مینوفیکچرنگ صنعت کے زوال میں کئی عوامل کارفرما ہیں جس میں سب سے بڑا عنصر ٹیکس فریم ورک کو کہا جاتا ہے جو خطے میں اسی طرح کا معاشی و صنعتی ڈھانچہ رکھنے والے ممالک سے مسابقت نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں صنعتی توانائی کی لاگت دنیا میں بلند ترین سطحوں میں سے ایک پر ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ جو ملکی معیشت کا 12.1 فیصد حصہ ہے ملک میں جمع ہونے والے مجموعی ٹیکس ریونیو کا 58 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں مسلسل دوسرے ماہ کمی

تاہم اکثریت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ صنعت کے قبل از وقت زوال کی وجہ برآمدات کی انتہائی آزادانہ پالیسی اور آزادانہ تجارتی معاہدوں کا اطلاق ہے بالخصوص چین کے ساتھ، جس سے سستا مال تیار ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے تحفظ میں ناکامی سے اسمگلنگ ہورہی ہے، یہ عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان دیگر ممالک کے لیے ملازمت کا فنانسر اور درآمدی ملک بن گیا ہے۔

مثال کے طور پر مقامی ٹائروں کی صنعت مجموعی مقامی طلب کا صرف 5واں حصہ فراہم کرتی ہے اور بقیہ مارکیٹ میں 45 فیصد درآمدات جبکہ 35 فیصد اسمگلنگ کے ٹائرز ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں جنرل ٹائر ربر کمپنی کےسی ای او حسین کلی خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی موجودہ صورتحال میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتا، درآمدات میں اضافے اور اسمگل شدہ اشیا کا مطلب یہ ہے کہ مقامی سطح پر تیار کردہ مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی بلندی اور پیسے کی بے قدری، کس کس پر پڑی بھاری؟

جب تک مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیا کے لیے سرحدوں کو محفوظ رکھ کر اور درآمدات کو کم کرنے طلب میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ہمیں اس شعبے میں کوئی نئی سرمایہ کاری نہیں ملے گی۔

دوسری جانب بھارت نے مقامی مینوفیکچرنگ صنعت کو محفوظ رکھا ہے اور ٹائروں کی کچھ صنعتوں کو ملک بھر میں وسعت بھی دی ہے، بہت سے بین الاقوامی برانڈز نے بھارت میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس لگائے ہیں جس سے ہزاروں ملازمیتیں پیدا ہورہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اندازہ کیجیے کہ اگر ہم مقامی طلب کو مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ سے پورا کریں تو کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی، ٹیکس سے کتنی آمدنی اکٹھی ہوگی اور کتنا غیر ملکی زرِ مبادلہ محفوظ رہے گا‘۔