چیئرمین نیب کا معاملہ، مسلم لیگ (ن) تقسیم

اپ ڈیٹ 25 مئ 2019

ای میل

پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے لیگی رہنما ملک محمد احمد خان کی پریس کانفرنس سے اظہار لاتعلقی کردیا ہے۔
فائل فوٹو: ڈان نیوز
پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے لیگی رہنما ملک محمد احمد خان کی پریس کانفرنس سے اظہار لاتعلقی کردیا ہے۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے معاملے سے متعلق دو رائے سامنے آگئیں۔

پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے لیگی رہنما ملک محمد احمد خان کی پریس کانفرنس سے اظہار لاتعلقی کردیا ہے۔

ملک محمد احمد خان نے پریس کانفرنس میں چیئرمین نیب سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے دیگر لیگی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ صحافی جاوید چوہدری کے کالم پر ان کے اور چئیرمین نیب کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کریں گے اور دونوں سے مطالبہ کریں گے اس معاملے پر عدالت میں آکر مقدمات کا سامنا کریں ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو سے متعلق کوئی بات نہیں کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: 'چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد اگر سیاست کو بدنام کرنا تھا تو وہ پورا ہوگیا'

ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ نیب کے نوٹسز نے لوگوں کو خود کشی کرنے پر مجبور کیا، بریگیڈیئر اسد منیر نے خود اپنی خود کشی کے بارے میں وجہ لکھی۔

لیگی رہنما کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد ہی (ن) لیگ کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ملک محمد احمد خان کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ چئیرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ اور مقدمہ درج کرنے کا اعلان اِن کی ذاتی رائے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک محمد احمد خان کا مطالبہ اور ان کی رائے پارٹی مؤقف نہیں ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چئیرمین نیب سے متعلق واضح پارٹی مؤقف بیان کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اس معاملے پر یہی موقف ہے کہ چئیرمین نیب کے واقعے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

پارٹی کو اپنے مؤقف سے قائل کرلوں گے، محمد احمد خان

بعد ازاں مریم اورنگزیب کی جانب سے مؤقف مسترد کیے جانے پر ملک محمد احمد خان نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چیئرمین نیب کے استعفے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ میری ذاتی رائے تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے پریس کانفرنس پارٹی سے اجازت کے بعد کی تھی اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے مؤقف سے اپنی جماعت کو قائل کرلوں گا۔

واضح رہے کہ سینئر صحافی جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں چیئرمین نیب سے خصوصی گفتگو کا احوال شائع کیا تھا، جس پر مسلم لیگ (ن) نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

21 مئی کو اسلام آباد میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی اس گفتگو پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کا ملک میں ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے سیاست دان کو بدنام کرنا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایک تجزیہ کار جاوید چوہدری نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے ساتھ انتہائی سنجیدہ گفتگو کی ہے۔

مزید پڑھیں: معیشت کی زبوں حالی میں نیب کا کوئی قصور نہیں، چیئرمین نیب

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مذکورہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کا کہنا تھا مجھ پر بہت دباؤ ہے اور انہوں نے خصوصی طور پر شہباز شریف سے متعلق باتیں کیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب نے کہا کہ شہباز شریف نے ان سے رابطہ کیا اور کیسز ختم ہونے پر سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے کا کہا جبکہ شہباز شریف کی چیئرمین نیب سے کوئی ملاقات بالواسطہ اور بلا واسطہ نہیں ہوئی۔

انہوں نے چیئرمین نیب کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا جن میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی ہی ڈیل نواز شریف بھی آفر کررہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو کا مقصد اگر سیاست کو بدنام کرنا تھا تو وہ مقصد پورا ہوگیا۔