یادیں سہانی، عیدیں پرانی

ای میل

انسانی ذہن خیالات اور یادوں کی آماج گاہ ہے۔ خیالات خوش کُن بھی ہوتے ہیں اور اندوہناک بھی، یادیں سہانی بھی ہوتی ہیں اور غمناک بھی۔ البتہ بچپن کا زمانہ چونکہ بے فکری و بادشاہی کا ہوتا ہے، اس میں انسان ابھی رنج و الم سے متعارف نہیں ہوا ہوتا، اس لیے بچپن کی یادیں عام طور پر سہانی ہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اکثر لوگ اپنے بچپن کو یاد کرکے آہیں بھرتے ہیں اور اس دور میں واپس جانے کی خواہش کرتے دکھائی دیتے ہیں:

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

ویسے تو بچپن کی ساری ہی یادیں حسین ہوتی ہیں لیکن غالباً ان میں سب سے زیادہ خوش کُن یادوں کا تعلق اس دور کی عیدوں سے ہوتا ہے۔ عید کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا تعلق اپنے شہر سے بہت گہرا ہوتا ہے، کیونکہ عید وہ خاص تہوار ہے جسے ہر شخص اپنے ہی شہر میں منانا چاہتا ہے۔ عید سے پہلے وہ کہیں بھی ہو، اپنے شہر کی طرف لوٹتا ہے۔ سفر میں ہو تو سفر موقوف کردیتا ہے اور عید کے دن سے پہلے پہلے اپنے شہر واپس پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ ہر شخص کے پاس عید کی جو بھی یادیں ہوتی ہیں ان کا تعلق عام طور پر اس کے شہر سے ہوتا ہے۔ انتہائی مجبوری کی حالت میں ہی کوئی اپنے شہر سے دُور عید مناتا ہے۔

میں نے اپنی زندگی اب تک 3 شہروں میں گزاری ہے۔ بچپن خیرپور میں، لڑکپن اور جوانی کراچی میں اور موجودہ ایام اسلام آباد میں۔

1965ء سے لے کر اگلے 7 سال خیرپور میں گزرے۔ اس زمانے میں بچوں کو عام طور پر 6 سال کی عمر سے پہلے اسکول نہیں بھیجا جاتا تھا اس لیے میرا بھی ابھی اسکول میں ایڈمیشن نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ بے فکری اور عیاشی کے دن تھے۔ ہم چونکہ خیرپور کے شاہی بازار سے متصل ایک گلی میں رہتے تھے، اس لیے اپنی گلی سے نکلتے ہی بازار میں داخل ہونا پڑتا تھا۔ یوں میرے بچپن کی عیدوں کا بازار کی گہما گہمی سے گہرا تعلق ہے۔

عید کے موقع پر بازار تو عام طور سے بند رہتا تھا لیکن کھانے پینے کے مراکز، خصوصاً مٹھائی کی دکانیں بہت اہتمام کے ساتھ کھلی رہتی تھیں۔ مٹھائی والے تو عید سے کئی دن پہلے ہی تیاریاں شروع کر دیتے تھے۔ چاند رات سے پہلے پہلے وہ برفی، قلاقند، میسو اور لڈو پیڑوں سے پاکستان کی قومی عمارتوں کے رنگارنگ ماڈل تیار کرلیتے تھے اور جب عید کی صبح ہم ان دکانوں کے سامنے سے گزرتے تو رنگ برنگے، میٹھے اور خوشبودار مینارِ پاکستان، مزارِ قائد اور بادشاہی مسجد وغیرہ کے ماڈل ہمیں دعوتِ نظارہ دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دکانوں پر مٹھائی خریدنے والوں کے ساتھ ساتھ تماشبینوں کا بھی ہجوم جمع رہتا۔

اگلے ایک دو دن میں یہ سارے دلکش ماڈل مٹھائی کے ڈبوں میں سیر پاؤ ہو کر بک جاتے اور ہم ان کے لیے پھر اگلی عید کا انتظار کرنے لگتے۔

عید پر ہمیں زیادہ سے زیادہ ایک روپیہ عیدی ملا کرتی تھی (اور یہ خاصی معقول رقم ہوا کرتی تھی)۔ بچپن کی عید کا کھلونوں سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے اور ایک روپے میں کئی کھلونے آ جایا کرتے تھے۔ اس دور کے کھلونے بھی انوکھے ہوتے تھے۔ مٹی کی کونڈی اور کاغذ سے بنی ڈھولکی پر مشتمل ایک دوپہیوں والی گاڑی، جس کے آگے بندھی ڈوری سے پکڑ کر جب بچے اسے فرش پر کھینچتے تو ربر بینڈ سے بندھی ایک چھڑی تواتر سے ڈھولکی پر ٹکرانے لگتی جس سے ٹک ٹک کی زوردار آواز نکلتی اور ہر طرف عید کا شور مچ جاتا۔

دوپہیوں کی ڈھولکی گاڑی
دوپہیوں کی ڈھولکی گاڑی

پھر ایک پلاسٹک کا رنگ برنگا باجا بھی ہوتا تھا جسے منہ میں لے کر جتنی زور سے پھونک ماری جاتی اتنی ہی زیادہ تنگ کرنے والی آواز برآمد ہوتی۔

ایک سورج مکھی کے پھول نما سستا سا کھلونا ہوتا تھا جس میں ایک تیلی کے اوپری سرے پر رنگ برنگے کاغذوں سے بنایا گیا پھول ایک لمبی سوئی کے ساتھ پرویا گیا ہوتا تھا اور وہ ہاتھ میں پکڑنے پر ہوا میں چلنے سے وہ پھول پنکھے کی طرح گول گھومنے لگتا۔ بچہ جتنا تیز دوڑتا، پھول بھی اتنی ہی تیز گھومتا تھا۔ ہم اس کھلونے کو ’پھرنی‘ کہتے تھے۔ وہ کھلونا غالباً اب بھی ملتا ہے۔

وہ لٹو چلانے کا بھی دور تھا۔ مجھے یاد ہے کہ عید سے کچھ دن پہلے ہی علاقے کے بڑھئی لٹو بنانے کا اڈا قائم کرتے اور ہر بچہ اپنی اپنی پسند اور سائز کا رنگ برنگا لٹو تیار کرواتا۔ چھوٹے بچے چھوٹے لٹو لیتے اور بڑے لڑکے بڑے لٹو۔

لٹو بھی 2 طرح کے ہوتے تھے۔ ایک وہ کہ جنہیں ڈوری کو اوپر سے نیچے کی طرف جھٹکا دے کر چلایا جاتا تھا، جبکہ دوسرے چوڑے پیالے نما لٹو ہوتے تھے کہ جن کی ڈوری کو افقی جھٹکا دیا جاتا تھا۔ پھر ان لٹوؤں کی ’سانس‘ کا مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ دو بچے اپنا اپنا لٹو ایک ساتھ زمین پر مارتے اور پھر دیکھا جاتا کہ کس کا لٹو زیادہ دیر چلتا ہے۔ جو لٹو زیادہ دیر تک چلتا رہتا، وہ سانس کا مقابلہ جیت جاتا اور ہارنے والے بچے کا لٹو جیتنے والے کو مل جاتا۔ مجھے بھی یہ دیر تک گھومنے والا لٹو ہی زیادہ پسند تھا لیکن اپنے لٹو سے میں نے کبھی سانس کا مقابلہ نہیں کروایا۔

پھرنی
پھرنی

لٹو
لٹو

اس زمانے میں ہاتھ پر گھڑی باندھنے کا فیشن بھی عروج پر ہوتا تھا۔ اصلی گھڑی ہو یا نقلی گھڑی، دونوں کی اپنی اہمیت تھی۔ عید کے موقعے پر بچوں کے لیے طرح طرح کی نقلی گھڑیاں مارکیٹ میں آ جاتیں اور بچے ساکت سوئیوں والی یہ گھڑیاں پہن کر اتراتے اتراتے پھرتے۔

ایک اور چیز بھی اس زمانے میں ملا کرتی تھی جسے ناجانے کیا کہا جاتا تھا۔ (ایک دوست نے بتایا ہے کہ پنجاب میں اسے ’گٹّا لاچی‘ کہتے ہیں)۔ لکڑی کے لمبے اور چمکتے ہوئے ڈنڈے کے اوپر چیونگم کی طرح گندھا ہوا آٹے نما رنگ برنگا تیز میٹھا قوام منڈھا ہوتا تھا۔ بیچنے والا انگلیوں سے اس قوام کی لٹیں کھینچ کھینچ کر بچوں کو طرح طرح کی چڑیاں طوطے، گڑیاں، سائیکلیں اور اللہ جانے کیا کیا کھلونے بنا کر ایک تیلی میں لگا کر دے دیتا تھا۔ کچھ بچے فرمائش کر کے اس سے کلائی پر باندھنے والی گھڑی بھی بنواتے تھے اور پھر بار بار اس میں ٹائم دیکھتے تھے۔ کھٹے میٹھے ذائقے والے ان خوشبودارکھلونوں کو بچے تھوڑی ہی دیر میں کھا پی کر برابر کر دیتے تھے۔

پھر گڑیا کے بال (یا بُڑھیا کے بال) والا بھی ایک ٹھیلے پر گول گھومنے والی مشین میں چینی اور رنگ ڈال کر میٹھے بالوں کے گچھے اور گڑیائیں بنا کر دیتا تھا۔ ہم اسے ’پشم‘ کہتے تھے۔ پشم کے ٹھیلے پر خریدنے والوں سے زیادہ تماشا دیکھنے والوں کا ہجوم ہوتا تھا۔

گٹّا لاچی والا
گٹّا لاچی والا

گڑیا کے بال
گڑیا کے بال

لڑکیوں میں مٹی اورپلاسٹک یا ٹین کے برتنوں پر مشتمل کھلونے اور کپڑے کی گڑیاں مقبول ہوتی تھیں اور یہ چیزیں بیچنے والے بھی شہر میں جگہ جگہ ڈیرے جماتے تھے۔

پلاسٹک کے شوخ رنگ شیشوں والے چشمے بھی خوب بکتے اور بچے انہیں آنکھوں پر چڑھائے چڑھائے گھومتے تھے۔

اس دور کا ایک سادہ سا کھلونا اور بھی تھا کہ جو ہر ایک کو پسند ہوتا تھا۔ اس میں ٹین کی بنی ہوئی ہیلی کاپٹر کے پروں جیسی ایک پھرکی ہوتی تھی جسے بیچ میں دوہرا سوراخ کر کے ایک بل دار تار میں میں پرویا گیا ہوتا تھا۔ اس پھرکی کے نیچے ایک چھوٹی سی ٹین کی نلکی ہوتی تھی۔ جب اس نلکی پر نیچے سے انگلیوں کا دباؤ ڈال کر پھرکی کو دھکیلا جاتا تو وہ بل دار تار پر تیزی سے گھومتی اوپر کی طرف جاتی اور پھر تار سے نکل کر اڑتی ہوئی فضا میں بلند ہوجاتی اور دُور جا کر زمین پر گرتی۔ بچے دوڑتے ہوئے جاکر اسے اٹھاتے اور پھر سے تار میں پرو دیتے۔ یوں پھرکی کی اڑانوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا۔

ہیلی کاپٹر
ہیلی کاپٹر

ہوا میں اڑ جانے والے گیس کے غبارے بیچنے والا بھی اپنے سلنڈر کے گرد خوب رش اکٹھا کرلیتا تھا۔ وہ غبارے میں ہوا بھر کر اسے دھاگے سے باندھتا اور دھاگے کے دوسرے سرے کو بچے کی انگلی کے گرد گھما کر مضبوط گٹھان باندھ دیتا تاکہ غبارہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ہوا میں نہ اڑجائے۔ اس احتیاط کے باوجود کسی نہ کسی بچے کا غبارہ چھوٹ ہی جاتا اور خوب رونا پیٹنا مچتا۔

خیرپور میں کراچی کی طرح اونٹ والے تو نہیں آتے تھے البتہ جھولے والے خوب ہوتے تھے۔ اوپر نیچے گھومنے والے اور گول چکر میں چلنے والے طرح طرح کے جھولے جن پر بچے ایک ایک آنہ (یعنی چھ پیسے) دے کر خوب جھلارے لیتے۔

گیس کے غبارے والا
گیس کے غبارے والا

اب ہم ذرا گھروں کے اندر چلتے ہیں۔ گھروں میں عام طور پر سویاں اور سوجی کا حلوہ بنتا تھا، جبکہ باقی عام روزمرہ کی سالن روٹی ہی ہوتی تھی۔ سویاں بھی 2 قسم کی ہوتی تھیں۔ بازار کی باریک سویاں اور گھر میں تیار کردہ میدے کی موٹی سویاں۔ باریک سویاں چینی ڈال کر میٹھی پکائی جاتی تھیں جبکہ موٹی سویاں پھیکی ہی ابالی جاتی تھیں اور انہیں گرما گرم پلیٹ میں لے کر ان پر گڑ کی شکر اور مکھن ڈال کر کھایا جاتا تھا۔

عید کی سویاں
عید کی سویاں

عیدی ملنے پر بازاری چیزیں بھی خوب کھائی جاتی تھیں۔ یونین بسکٹ، یعقوب بسکٹ، منا بسکٹ، نائس بسکٹ، بنانا کریم بسکٹ، گائے والی ٹافی، ہلال کے کھٹے میٹھے کھٹ مٹھے، موسمبی کی پھانک جیسی نارنجی ٹافیاں، فانٹا اور سیون اپ کے ذائقے والی گولیاں اور ناجانے کیا کیا۔ ان اشیاء کے علاوہ روایتی میٹھی چیزیں بتاشے، نبات، نُقل اور سانس ٹھنڈی کرنے والی پیپرمنٹ کی ٹکیاں بھی ملتی تھیں۔ آئس کریم اس وقت تک عام نہیں ہوئی تھی البتہ ٹھنڈی بوتلیں ملا کرتی تھیں، لیکن بچوں میں ابھی کولڈ ڈرنک پینے کا شوق پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس فیشن نے 70ء اور 80ء کی دہائیوں میں زور پکڑا۔

عید پر کھلونوں کے علاوہ لڑکے کنچے بھی خریدتے اور کھیلتے تھے۔ شیشے کے رنگ برنگے اور پھولوں والے چمکتے دمکتے کنچوں میں لڑکوں کے لیے ایک زبردست کشش ہوتی تھی۔

عید کی چیزیں
عید کی چیزیں

شیشے کے کنچے
شیشے کے کنچے

کنچوں کا کھیل
کنچوں کا کھیل

عید اگر بہار کے موسم میں آتی اور تیز ہوا چل رہی ہوتی تو پتنگیں بھی خوب اڑائی جاتیں۔ پیچ لڑانے والوں کی پتنگیں بڑی لہراتی ہوئی اور بے چین اڑتی تھیں اور وہ ایک دوسرے سے پیچ لڑا کر پتنگ کی ڈور کاٹ ڈالتے تھے۔ کٹی ہوئی ڈولتی پتنگ کو لوٹنے کے لیے بچوں کے غول کے غول گلیوں میں شور مچاتے لپکتے یا پھر گھروں کی چھتیں پھلانگتے چلے جاتے۔ کئی بچے ان چھلانگوں کے دوران چھتوں سے گر کر مجروح بھی ہو جاتے تھے۔ البتہ اس پتنگ بازی میں کچھ ہم جیسے شریف پتنگ باز بھی ہوتے تھے جو اپنی معصوم سی پتنگ کو کپڑے کی کترنوں سے ایک لمبی دم باندھ کر آسمان پر چڑھاتے اور پھر اسے ایک مخصوص بلندی تک ڈھیل دے کر ہوا میں روک دیتے۔ پھر اس دُم دار پتنگ کے محدود سے ہلکوروں کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈور سے محسوس کر کے خوش ہوتے رہتے۔

ہمارے بچپن کی عید بس ایک دن ہی کی ہوتی تھی۔ دکاندار اور پھیری والے اگلے دن بھی کچھ رونق لگانے کی کوشش ضرور کرتے البتہ تیسرے دن حالات معمول پر آ جاتے تھے۔

پتنگ بازی
پتنگ بازی

1972ء میں جب میری عمر 7 سال تھی، ہم خیرپور سے کراچی آگئے۔ کراچی کا ماحول خیرپور سے خاصا مختلف تھا اس لیے یہاں کی عید بھی کچھ اور طرح کی ہوتی تھی۔

ہمارے ابّا عالم دین اور حافظ قرآن تھے اور ساتھ ہی ٹیلرنگ کا کام بھی کرتے تھے، اس لیے رمضان کا مہینہ ان کے لیے دوہری مصروفیت لے کر آتا تھا۔ وہ دن بھر دکان پر سلائی مشینوں کے ساتھ الجھے رہتے تھے کیونکہ عید کی وجہ سے گاہکوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ وہ دن بھر کپڑے بھی سیتے جاتے اور رات کو تراویح میں سنانے کے لیے قرآن پاک بھی بلند آہنگ سے دہراتے جاتے۔ چنانچہ ہماری بچپن کی یادوں میں سلائی مشینوں کی کھڑکھڑاہٹ کے ساتھ آیات قرآنی کی تلاوت بھی گونجتی ہے۔

ابّا کی دکان پر سلائی کا اچھا خاصا کام آتا تھا اس لیے اماں، بہنیں اور بھائی سب اس کام میں ابّا کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ جوں جوں عید قریب آتی جاتی ہم سب کی مصروفیت بھی بڑھتی جاتی۔ ابّا گاہکوں کا ناپ لیتے اور کپڑوں کی کٹائی کرتے، امی سلائی میں ان کا ہاتھ بٹاتیں اور ہم بہن بھائی کاج بٹن میں ان کی مدد کرتے جاتے۔ حتیٰ کہ عید کی رات آجاتی اور عید کی رات ہمارے لیے یوں بھی اہم ہوتی کہ ہمارے اپنے کپڑے اکثر اسی رات کو سیے جاتے تھے۔ صبح فجر کی اذان سے پہلے پہلے بمشکل ہم تینوں بھائیوں کے جوڑے تیار ہو پاتے۔

ہمارا گھر مین نیشنل ہائی وے پر قائد آباد کے علاقے میں ایبٹ کمپنی سے متصل تھا۔ عید کے دن صبح ہی صبح مین روڈ عیدگاہ میں تبدیل ہوجاتا۔ سڑک پر دُور دُور تک صفیں بچھ جاتیں۔ خطیب صاحب سب سے آگے والے مصلے پر مائک لیے خطبہ ارشاد فرماتے اور پھر مقررہ وقت پر عید کی نماز ادا کی جاتی۔ نماز ختم ہوتے ہی لوگ ایک دوسرے سے والہانہ انداز میں گلے ملنا شروع کردیتے۔ ہم نے یہاں لوگوں کو تین تین بار گلے لگ کر عید ملتے دیکھا تو حیران ہوئے کیونکہ خیرپور میں لوگ ایک ہی دفعہ گلے ملا کرتے تھے۔

انہی دنوں ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ عید کے چاند کا بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ ہم قائد آباد ہی پر تھے کہ ایک سال عید کا چاند متنازعہ ہوگیا۔ جن لوگوں نے سرکاری رویت ہلال کمیٹی کی بات مانی، وہ صبح ہی صبح عید کی نماز کے لیے حکومتی حامی عیدگاہوں میں پہنچ گئے، لیکن ایک دن بعد والے چاند کے حامی ان کو نماز پڑھتا دیکھ کر طنزیہ مسکراہٹیں پھینکتے گزرتے جاتے تھے۔

کراچی میں عید ہمیں اور بھی مزیدار لگی کیونکہ یہاں پرجھولے بھی خیرپور کے مقابلے میں زیادہ اچھے تھے، کھلونے بھی اچھی کوالٹی کے ملتے تھے اور کھانے پینے کی چیزیں بھی بہت عمدہ اور نئی نئی دستیاب تھیں۔ یونین کے بسکٹ، بی پی بطخ کے انڈے، مے فیئر ٹافیاں، گولے گنڈے، بن کباب، آئس لولی اور برف کی کھٹی میٹھی قلفیاں، آلو چھولے، دہی بڑے، چاٹ، گول گپے، پان، لسی، ربڑی اور حلوہ پوری۔ مٹھائی سے بنے قومی عمارتوں کے ماڈل البتہ کراچی میں کبھی نہیں دیکھے۔

جھولے والا
جھولے والا

عید پر چیزیں بیچنے والے ایک انوکھی لاٹری بھی کھیلتے تھے۔ اس لاٹری کے لیے ایک بڑی سی ٹیبل بچھائی جاتی جس کے درمیان میں گھڑی کے کانٹے جیسی ایک ’پِھرکی‘ نصب ہوتی تھی۔ اس پِھرکی کے نیچے سے باہر کی طرف ٹیبل پر کئی لکیریں کھنچی ہوتیں اور ہر لکیر کے سرے پر طرح طرح کے تحفے رکھے جاتے۔ ایک آنہ، چار آنے یا آٹھ آنے دینے والے کے لیے یہ پِھرکی انگلی مار کر زور سے گھما دی جاتی۔ اب پیسے دینے والے کی قسمت ہوتی کہ پِھرکی کسی لکیر پر آکر رکتی ہے یا خالی جگہ پر ہی ٹھہر جاتی ہے۔ اگر پِھرکی کی نوک کسی لکیر پر آ کر رکی تو اس پر رکھا گفٹ آپ کا ہوا، اور اگر خالی جگہ پر رک گئی تو آپ کی قسمت۔

اس لاٹری کا سب سے زیادہ فائدہ لاٹری والے کو ہی ہوتا۔ بے ایمان لاٹری والے کی لکیریں باریک اور ایماندار لاٹری والے کی لکیریں موٹی ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ اس طرح کی لاٹری میں نے بھی نکالی مگر ایک جدت کے ساتھ۔

میں نے درمیان میں چلنے والی پِھرکی کو انگلی سے چلانے کے بجائے اس کے نیچے بیٹری سے چلنے والی موٹر لگا دی اور اسے ایک پُش بٹن سے منسلک کردیا۔ پیسے دینے والا بٹن کو کچھ دیر کے لیے دباتا تو وہ پِھرکی خود بخود چکرانے لگتی اور پھر رکتی تو قسمت کا اعلان کردیتی۔ ہاتھ سے چلنے والی لاٹریوں کے مقابلے میں میری یہ موٹرائزڈ لاٹری بچوں میں زیادہ مقبول ہوئی اور میں نے اس عید پر اچھے خاصے پیسے کمالیے۔

ایئر گن سے غبارے پھوڑنے والے بھی عید پر بچوں کو خوب بے وقوف بناتے۔ وہ ایئر گن کی نالی میں ایک ایسی خفیہ ٹیڑھ پیدا کردیتے تھے کہ اس کا چھرا کبھی نشانے پر نہ لگتا۔ غبارہ پھوڑنے پر وہ انعام کا لالچ دیتے اور اس کی خاطر بچے ایئر گن چلا چلا کر سارے پیسے ختم کر ڈالتے، مگر نشانہ کبھی ٹھیک نہ لگتا، غبارہ کبھی نہ پھوٹتا حتیٰ کہ عید گزر جاتی۔

ایئر گن سے غبارے پھوڑنا
ایئر گن سے غبارے پھوڑنا

اب ہم چونکہ ذرا بڑے بھی ہوگئے تھے اس لیے عید پر بڑوں کی چیزیں بھی خریدنے لگے۔ 70ء کی دہائی میں ہم کراچی میں پہلی مرتبہ کولڈ ڈرنک اور آئس کریم سے متعارف ہوئے۔

اس زمانے کی معروف ٹھنڈی بوتلوں میں کوکا کولا اور سیون اَپ کے ساتھ ساتھ پاکولا، کرش کولا، کینیڈا ڈرائی، ببل اَپ اور آرسی کولا وغیرہ شامل تھیں۔ پیپسی کولا کا نام ابھی مشہور نہیں ہوا تھا۔ یہ ساری بوتلیں جہاں تک مجھے یاد ہے آٹھ آنے (50 پیسے) کی ملا کرتی تھیں۔ پھر بینز اور شیزان کے مینگو جوسز کی بھی دھوم تھی۔ ہمیں تو بینز کا مینگو جوس خاص طور پر پسند تھا اور ہماری عیدی کا خاصا حصہ بینز پینے میں خرچ ہوجاتا تھا۔

70ء کی دہائی میں ملنے والے ٹھنڈے مشروبات
70ء کی دہائی میں ملنے والے ٹھنڈے مشروبات

وہ کہانیوں، رسالوں اور ناولوں کا بھی دور تھا۔ بچوں کے جو مہنگے ناول ہم عام دنوں میں نہیں خرید پاتے وہ عید کے موقع پر عیدی سے خرید لیتے تھے۔ فیروز سنز، شیخ غلام علی اینڈ سنز، اور ہمدرد فاؤنڈیشن کے شائع کردہ بچوں کی کئی کتابیں ہم نے عید کے پیسوں سے خریدیں۔

عید سے پہلے اور عید کے دن ٹی وی اور ریڈیو پر عید مبارک اور عید پر فروخت کی جانے والی مصنوعات کے اشتہار سن سن کر کان پک جاتے۔ کپڑوں، جوتوں، فلموں، مٹھائی، صابن، مشروبات، ٹافیوں، بسکٹ اور آئسکریم کی خوب تشہیر کی جاتی۔

اس دور کی معروف آئس کریمیں اِگلو، ایم ایف، ایمسنز اور اسٹوپا تھیں۔ شہر میں چند مقامات پر کون آئس کریم بھی ملنا شروع ہو گئی تھی اور لوگ دُور دُور سے بسوں میں سفر کر کے وہاں کون آئسکریم کھانے پہنچتے تھے۔ صدر میں چوہدری فرزند علی کی قلفی، پشاوری آئسکریم اور بلوچ آئسکریم پر بھی عید کے دنوں میں خوب رونق رہتی۔

پولکا آئس کریم کے اشتہار—تصویر عبیداللہ کیہر
پولکا آئس کریم کے اشتہار—تصویر عبیداللہ کیہر

ذرا بڑی عمر کے لڑکے عید پر ہوٹلنگ بھی کرتے تھے۔ ایرانیوں اور ملباریوں کے ہوٹل شہر بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ قائدآباد اور ملیر میں بلوچوں کے بھی بہت ہوٹل تھے جہاں چائے کپ یا مگ کی بجائے شیشے کے گلاس میں ملتی تھی۔

چائے بھی کئی طرح کی ہوتی تھی۔ ’سلیمانی چائے‘ جس میں دودھ نہیں ہوتا تھا، ’سادہ چائے‘ جس میں دودھ اور پانی دونوں مکس ہوتے تھے، ’ہاف کٹ‘ چائے جس میں صرف دودھ ہوتا تھا مگر وہ مقدار میں سادہ چائے کے مقابلے میں آدھی ہوتی تھی۔ لیکن ان سب سے خاص ہوتی تھی ’سنگاپوری چائے۔‘ یہ سب سے مہنگی ہوتی تھی اور اس میں نیچے چائے، اس کے اوپر تازہ بالائی کی موٹی تہہ اور اس کے اوپر چینی کی تہہ ہوتی تھی۔ عید کے مواقع پر نوجوان خاص طور پر یہ سنگاپوری چائے پینے ایرانی اور ملباری ہوٹلوں پر آیا کرتے تھے۔

اس وقت ملیرسِٹی، کالا بورڈ اور ملیر ہالٹ کے بس اسٹاپوں پر ایک ایک پُررونق ایرانی ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں رات گئے تک روشنی رہتی اور برتن کھڑکھڑاتے رہتے تھے، لیکن جب کراچی بد امنی کا شکار ہوا تو یہ اور شہر بھر میں اس طرح کے کئی ہوٹل رفتہ رفتہ بند ہوتے چلے گئے اور پھر ان کی خالی عمارتوں میں یا تو بھوتوں کا بسیرا ہوا، یا پھر وہ بلند و بے ہنگم پلازوں میں تبدیل ہوگئیں۔

عید پر ہم ایک اور شوق یہ بھی پورا کرتے تھے کہ بن سنور کر گھر سے نکلتے اور کسی فوٹو اسٹوڈیو پہنچ کر بڑے اہتمام سے عید کی تصویر کھنچواتے۔ فوٹو اسٹوڈیو ایک بڑے کمرے پر مشتمل ہوتا تھا جس کی پچھلی دیوار پر آرٹسٹ نے ایک خوبصورت باغ کی رنگین تصویر پینٹ کی ہوتی تھی۔ ہم اس مصنوعی چمن کے سامنے کھڑے ہوکر بلیک اینڈ وائٹ تصویر اترواتے اور پھر وہ تصویر ہمیں کئی دن بعد "دُھل" کر ملتی تھی۔

تصویر کا نیگیٹیو عام طور پر فوٹوگرافر یہ دلیل دے کر اپنے پاس رکھ لیتا تھا کہ ’صاحب آپ یہ مت لے کر جائیں آپ سے گم ہو جائے گا، جب بھی آپ کو فوٹو کی ضرورت پڑے گی میں آپ کو پرنٹ نکال کر دے دوں گا۔‘ ہم جو تصویر ساتھ لے آتے اسے ’فوٹو‘ کہتے اور جو نیگیٹیو فوٹوگرافر کے پاس چھوڑ آتے اسے سندھی میں ’کاری کاپی‘ (یعنی کالی کاپی) کا نام دیتے۔

میں نے 1975ء میں عید کے موقعے پر یہ تصویر کھنچوائی—تصویر عبیداللہ کیہر
میں نے 1975ء میں عید کے موقعے پر یہ تصویر کھنچوائی—تصویر عبیداللہ کیہر

عید پر کرائے کی سائیکل لے کر دوڑانے کا شوق بھی پورا کیا جاتا تھا۔ کرائے کی سائیکل والے تقریباً ہر محلے میں موجود ہوتے تھے۔ ان کے پاس کئی رنگ برنگی نئی پرانی سائیکلیں ہوتی تھیں۔ پرانی سائیکل کا کرایہ کم اور نئی کا زیادہ ہوتا تھا۔

ذاتی سائیکل اور کرائے کی سائیکل میں ایک بنیادی فرق ہوتا تھا۔ ذاتی سائیکلوں کے پیچھے کیریئر نصب ہوتا تھا جبکہ کرائے کی سائیکلوں کے پیچھے والے مڈگارڈ کے اوپر لوہے کی ایک کئی نوکوں والی کھڑی پٹی فٹ کی جاتی تھی تاکہ پیچھے کوئی سواری نہ بٹھائی جا سکے۔ لیکن لڑکے چالاکی سے اس کا بھی حل نکال لیتے تھے۔

وہ پچھلے پہیے کے ایکسل پر دونوں طرف پاؤں پھنسا کر اور سائیکل چلانے والے کے کندھے پکڑ کر کھڑے ہوجاتے اور یوں مڈگارڈ پر لگی نوکدار پٹی سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے سائیکل سواری کے مزے لوٹ لیتے تھے۔ لیکن کبھی کبھی پیر پھسلنے کی صورت میں ایک ناقابل بیان حادثہ بھی پیش آ جایا کرتا تھا۔

80ء کی دہائی میں سائیکل کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکلیں بھی کرائے پر ملنے لگیں لیکن جب ان کو مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا تو وہ سلسلہ بند ہوگیا۔ ہم نے بھی سائیکل چلانا انہی کرائے کی سائیکلوں پر سیکھا۔

عید کے اشتہارات
عید کے اشتہارات

عید کے موقعے پر ہمیشہ نئی فلمیں ریلیز ہوتیں اور شہر بھر کے سنیماؤں میں نمائش کے لیے پیش کی جاتیں۔ ان فلموں کے اشتہار کئی دن پہلے ہی اخبارات میں آنا شروع ہوجاتے اور پھر عید کے دن سنیما گھروں کے سامنے رش دیکھنے سے تعلق رکھتا۔

ٹکٹ لینے والی کھڑکیوں پر خوب دھینگا مشتی ہوتی، ٹکٹ بلیک میں بکتے اور خوب جھگڑے ہوتے، جنہیں نمٹانے کے لیے سنیما کے ’بدمعاش‘ ملازم اپنا اہم کردار ادا کرتے۔ جس ہفتے سنیما پر زیادہ رش پڑتا اسے ’کھڑکی توڑ ہفتہ‘ کہا جاتا اور یہ بات بڑے فخر سے اشتہارات میں لکھی جاتی۔ عید کا ہفتہ تقریباً ہر سنیما کے لیے کھڑکی توڑ ہوتا تھا۔

ہم بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوئے اور اسکولوں میں نئی نئی دوستیاں قائم ہوئیں تو عید کی مصروفیات میں بھی تنوع آیا۔ اب ہم عید کے دنوں میں سیر و تفریح کے لیے دُور دُور کے منصوبے بنانے لگے۔

کراچی میں عید منانے والوں کی مرغوب تفریح گاہوں میں سب سے پہلا نمبر کلفٹن کا ہوتا تھا۔ ساحل سمندر پر لہروں سے اٹکھیلیاں کرنا یا پھر پلے لینڈ کے رنگ برنگے شور مچاتے جھولوں پر سواری کرنا، سینٹرلی ایئر کنڈیشنڈ مچھلی گھر کے خوابناک ماحول سے لطف اندوز ہونا، ڈاجنگ کار میں سوار ہوکر دوسری گاڑیوں کو خوب ٹکریں مارنا یا پھر جہانگیر کوٹھاری پریڈ پر جبیس ریسٹورنٹ کے شاندار بوفے ہال میں جا کر سیلف سروس کھانے کھانا۔

کلفٹن کی سیر
کلفٹن کی سیر

کلفٹن کے بعد عید منانے کے لیے دوسرا اہم تفریحی مقام چڑیا گھر (گاندھی گارڈن) ہوتا تھا جہاں لوگ اہل و عیال سمیت پہنچتے، جنگلی جانوروں کا نظارہ کرتے، چڑیا گھر کے اندر قائم حسین سبزہ زاروں کی سیر کرتے، جھیل میں کشتی رانی کی جاتی، بچے جھولوں پر یا ہاتھی کی پیٹھ پر سواری کرتے اور پھر آخر میں دہی بڑے، آلو چھولے، گول گپے اور فالودے والوں پر دھاوا بول دیا جاتا۔

کلفٹن کے علاوہ عید منانے کا دوسرا ساحلی مرکز منوڑا تھا۔ منوڑا جانے کے لیے کیماڑی کے گھاٹ سے کشتیوں میں بیٹھنا پڑتا تھا۔ کیماڑی سے منوڑے تک کا سفر بڑا ہیجان خیز اور دلکش ہوتا تھا۔ سمندر کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا عید کو خوشیوں کو دوبالا کردیتی تھی۔

کشتی منوڑہ پہنچتی تو وہاں ایک مزیدار تماشا دیکھنے کو ملتا۔ یہاں سمندر کے پانی میں ملاحوں کے لڑکوں نے عیدی جمع کرنے کے لیے ایک دلچسپ اچھل کود مچا رکھی ہوتی تھی۔ وہ ساحل کے گدلے پانی میں غوطہ خوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو سمندر میں سکہ پھینکنے کی ترغیب دینے کے لیے ’پھینکو پھینکو‘ کا شور مچاتے رہتے تھے۔ جیسے ہی کوئی چونّی (25 پیسے) یا اٹھنّی (50 پیسے) کا سکّہ اچھال کر پانی میں پھینکتا، ملاحوں کے مچلتے لڑکے ان سکوں کے تعاقب میں غوطہ لگادیتے اور چشم زدن میں ان سکّوں کو دانتوں میں دبائے برآمد ہوکر دیکھنے والوں کو حیران کردیتے۔ وہ سکّہ ان لڑکوں کا انعام ہوتا تھا۔ شام تک وہ اچھی خاصی عیدی جمع کر کے گھر واپس جاتے۔

عید منانے کے لیے ایک اور اہم تفریح گاہ ہل پارک بھی تھی۔ شارع فیصل پر لال کوٹھی اسٹاپ کے قریب پی ای سی ایچ ایس کے خاموش بنگلوں کے بیچ میں ابھری ایک پہاڑی چوٹی پر موجود یہ ایک ایسی پرفضا تفریح گاہ تھی کہ جہاں پہنچ کر دل باغ باغ ہوجاتا تھا۔

یہاں ایک چھوٹی سی جھیل اور ایک طویل ’پھسل منڈا‘ ہوتا تھا، جس کے اوپری سرے تک ایک طویل سیڑھی کے ذریعے پہنچنا ہوتا تھا۔ صرف ایک دفعہ پھسل کر نیچے آجانے کے بعد دوبارہ چڑھنے کی ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی تھی۔ تفریح گاہوں کے روایتی جھولے بھی یہاں کئی تھے جن میں بیٹھ کر اونچائی سے پورا شہر نظروں کے سامنے آجاتا تھا۔ یہاں ایک بھوت بنگلہ بھی ہوتا تھا جس کے اندھیرے خوفناک ماحول میں جا کر خواہ مخواہ ڈرنے اور چیخیں مارنے کو جی چاہتا تھا۔

80ء کی دہائی میں ہل پارک کا منظر
80ء کی دہائی میں ہل پارک کا منظر

نوجوان لڑکوں کے لیے عید کے ایام میں ایک خاص کشش اور بھی ہوتی تھی، اور وہ تھی اپنے من موہنے محبوب کو خوب سجا بنا دیکھنا۔ ان کو نئے رنگارنگ چمکتے دمکتے کپڑوں میں ملبوس، خواہ مخواہ اٹھلاتے اور اتراتے گزرتا دیکھ کر ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور وہ ان کی صرف ایک نگاہ غلط انداز کی خاطر کئی کئی گھنٹے گزرگاہوں میں کھڑے کھڑے گزار دیتے۔ یہی تو ان کی عید تھی۔ عید کے مواقع پر ریڈیو ٹی وی پر گانے بھی تو کچھ اسی طرح کے چلائے جاتے:

عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیے

رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے

عید کے ایام میں ہم نے ایسے کئی معاشقے پروان چڑھتے دیکھے کہ جن کا انجام بالآخر شامیانوں میں کرسیاں ڈھونے پر ہوا۔

عید کبھی کبھی غمناک بھی ہوجاتی تھی۔ اگر عید سے کچھ پہلے کسی عزیز کا یا گھر کے کسی فرد کا انتقال ہوجاتا تو عید کے دن کی ابتداء آنسوؤں اور آہوں سے ہوتی تھی۔ ایسی صورت میں بچوں کو عید کے کپڑے عید سے ایک دن پہلے ہی پہنا دیے جاتے تھے تاکہ عید کے دن وہ نئے نہ رہیں۔ 1974ء میں عید سے کچھ ہی دن پہلے ہمارے چچا کا انتقال ہو گیا۔ ہمارے عید کے کپڑے تو تیار تھے، لیکن اماں نے ہمیں وہ عید سے ایک دن پہلے ہی پہنا دیے تاکہ عید کے دن وہ ’استعمال شدہ‘ ہوجائیں۔

زندگی رفتہ رفتہ آگے بڑھتی گئی۔ ہم لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھائیوں کے بوجھ تلے دبے تو چوکڑی بھول گئے۔ عیدیں لشٹم پشٹم گزرتی گئیں۔ بالآخر پڑھائی ختم ہوئی، پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا، شادی ہوئی اور جلد ہی ابّا بن گئے۔ اب تو ہماری عیدوں کا انحصار صرف بچوں کی خوشیوں پر ہے۔ اور ہاں، ہر عید پر سسرال جانا بھی تو لازم ہے۔