امریکی پابندی کے ہواوے پر اثرات مرتب ہونا شروع؟

اپ ڈیٹ 02 جون 2019

ای میل

ہواوے نے فونز پروڈکشن کم کردی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
ہواوے نے فونز پروڈکشن کم کردی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کے درمیان پھنس جانے والی کمپنی ہواوے نے نئے فونز کی پروڈکشن کم کردی ہے۔

ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں کے اثرات ہواوے پر مرتب ہونے لگے ہیں اور اس کا اگلے سال سام سنگ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی نمبرون اسمارٹ فون کمپنی کا خواب اب بظاہر تعبیر پاتا نظر نہیں آتا۔

رپورٹ میں تائیوان کی پروڈکشن کمپنی فوکس کون کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس نے متعدد ہواوے فونز کی پروڈکشن اس وقت معطل کردی جب چینی کمپنی نے آرڈرز کو کم کردیا۔

خیال رہے کہ فوکس کون متعدد اسمارٹ فون کمپنیوں جیسے ایپل اور شیاﺅمی (اور ہواوے) وغیرہ کے لیے ڈیوائسز کی پروڈکشن کا کام کرتی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے امریکی نیٹ ورکس کو غیرملکی ٹیکنالوجیز سے بچانے کے لیے نافذ قومی ایمرجنسی کے نتیجے میں ہواوے کو امریکی کمپنیوں کی ٹیکنالوجیز کے حصول سے روکا گیا۔

امریکی بلیک لسٹ کے نتیجے میں ہواوے سے بیشتر کمپنیوں نے اپنے تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کیے جن میں گوگل سب سے زیادہ نمایاں ہے جس کا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم چینی کمپنی کے اسمارٹ فونز میں استعمال ہورہا ہے۔

اگرچہ ابھی اس پابندی پر ہواوے کو 3 ماہ کا عارضی ریلیف مل چکا ہے مگر اس کا 2020 تک سب سے بڑی اسمارٹ فون کمپنی کا خواب تاخیر کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔

اس نئی رپورٹ سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکی پابندیوں کے اثرات چین سے باہر ہواوے کے فون بزنس پر مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ہواوے کی جانب سے اوپن سورس اینڈرائیڈ پر مبنی اپنے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام ہورہا ہے جو کہ رواں سال یا اگلے برس کے آغاز میں کسی وقت متعارف کرایا جاسکتا ہے ، اگرچہ ابھی کمپنی کے صارفین کو گوگل ایپ اسٹور تک رسائی مل رہی ہے مگر کمپنی اپنے ایپ اسٹور کے لیے ایپس کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

ہواوے نے امریکی پابندی پر قانونی جنگ بھی شروع کردی ہے جبکہ اپنے امریکی ملازمین کو فارغ کردیا ہے۔