ترکی میں ناکام بغاوت: معطل 500 ججز، پراسیکیوٹرز کا یورپی عدالت سے رجوع

اپ ڈیٹ 04 جون 2019

ای میل

بغاوت کی کوشش میں دو ہزار 745 ججز اور دو ہزار 839 فوجیوں کو ملوث قرار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی
بغاوت کی کوشش میں دو ہزار 745 ججز اور دو ہزار 839 فوجیوں کو ملوث قرار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی

ترکی میں 2016 کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں معطل یا گرفتار ہونے والے 500 سے زائد ججز اور پراسیکیوٹرز نے انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں سماعت کے لیے اپنا مقدمہ دائر کردیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی عدالت کے مطابق 546 ججز اور پراسیکیورٹرز کی جانب سے ان کے ’عارضی حراستی آرڈ‘ پر احتجاج کے بعد ترکی کو باقاعدہ مطلع کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ترک فوجی بغاوت: قتل عام میں ملوث مزید 150 فوجیوں کا ٹرائل

خیال رہے کہ عدالت سے رجوع کرنے والے ججز اور پراسیکیورٹرز پر الزام ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے مرکزی ملزم مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق رکھتے تھے تاہم بغاوت ناکام ہونے کے بعد انہیں معطل اور پھر ٹرائل سے پہلے گرفتار کیا گیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن نامی دینی مبلغ کے پیروکاروں کا کام ہے۔

واضح رہے کہ گولن امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش پذیر ہیں، جو کبھی اردوان کے اتحادی تھے، مگر اب امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اس حوالے سے انسانی حقوق کی عدالت نے بتایا کہ ججز اور پراسیکیوٹرز نے ترکش آئینی عدالت میں اپیل دائر کی لیکن ناکام رہی تاہم ان کے خلاف جرمانہ مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

مزیدپڑھیں: ترکی میں ناکام فوجی بغاوت، 265 افراد ہلاک

درخواست گزاروں نے آزادی اور سیکیورٹی کے حقوق کی پامالی پر یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 5 کے تحت ترک حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

عدالت کے مطابق ترکی کو مطلع کر کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے گزشتہ فیصلے پر بھی ترکی نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

عدالت کے گزشتہ فیصلے میں ترک حکام کو زیر حراست کردش لیڈر کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف ہوں، فتح اللہ گولن

خیال رہے کہ ترک حکومت اب تک 50 ہزار لوگوں کو مبینہ طور پر فتح اللہ گولن کا حامی ہونے کے الزام میں گرفتار کرچکی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار نجی اداروں کے ملازمین کو برطرف یا معطل کیا جاچکا ہے۔

ایک ہزار صفحات پر مشمل الزامات کی فہرست کے مطابق باسفورس پل پر باغی فوجیوں کی فائرنگ سے 34 شہری جاں بحق بلکہ بغاوت میں ملوث 7 منصوبہ ساز ہلاک ہوئے تھے۔