’حکومت جسٹس فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹاسکتی، فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی‘

اپ ڈیٹ 10 جون 2019

ای میل

جسٹس آصٖف سعید کھوسہ پہلے پاکستانی جج ہیں جنہیں کیمبرج یونیورسٹی  میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا—تصویر بشکریہ سپریم کورٹ
جسٹس آصٖف سعید کھوسہ پہلے پاکستانی جج ہیں جنہیں کیمبرج یونیورسٹی میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا—تصویر بشکریہ سپریم کورٹ

کراچی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس عدالت میں ہے جو اس معاملے میں انصاف کو یقینی بنائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے یہ بات برطانیہ کے دورے کے موقع پر کہی جہاں انہوں نے یونین آف دی کیمبرج یونیورسٹی سے خطاب کیا۔

چیف جسٹس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لندن میں موجود جائیدادوں کے حوالے سے منی ٹریل طلب کریں گے؟

جس پر انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں موجود ہے لہٰذا اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ججز کے خلاف ریفرنس کیلئے برطانیہ سے دستاویزات حاصل کی گئیں‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی اس لیے حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹاسکتی‘۔

نیوز چیننلز کی رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کو ججز پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ وہ انصاف فراہم کریں گے‘۔

سپریم کورٹ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق جسٹس آصٖف سعید کھوسہ پہلے پاکستانی جج ہیں جنہیں کیمبرج یونیورسٹی یونین کی 200 سالہ تاریخ میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔

ججز کے خلاف ریفرنس

خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے صدارتی ریفرنس کی سماعت 14 جون کو مقرر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت 14 جون کو مقرر

صدر مملکت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کریم خان آغا پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزمات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی تھی۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو دو خطوط لکھے تھے اور پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

مستقبل میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے والے متوقع ججوں میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے، تو اس کی نقل فراہم کردی جائے، ’مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہورہا ہے‘۔

مزید پڑھیں: پی بی سی نے ’بدعنوان اور نااہل‘ ججز کی نشاندہی کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 صفحات پر مشتمل خط میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت اپنے اختیارات کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کی پیروی کی جائے۔

لندن میں 3 جائیدادیں رکھنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ خود پر اور اپنے خاندان کے خلاف تحقیقات کے طریقے پر صبر کرلیں لیکن کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا مرتکب نہیں ہورہا۔

خط میں انہوں نے کہا کہ جج ایسا کچھ ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے آئینی حلف کے مطابق وہ آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل احتجاجاً مستعفی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو آئین میں موجود لوگوں کے بنیادی حقوق کاغذ پر لکھے گئے الفاظ سے بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں۔

صدرِ مملکت کو لکھے گئے خط میں ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کا تقدس ان کی اولین ترجیح ہے۔

اس سے قبل ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین ابراہیم نے حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بعض سینئر ججوں کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔