آسٹریلوی شکست کے لیے آئی پی ایل کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟

اپ ڈیٹ 10 جون 2019

ای میل

ورلڈ کپ میں اب تک 14 میچ کھیلے جاچکے ہیں اور ان 14 میچوں میں سے پاکستان بمقابلہ انگلینڈ وہ واحد میچ ہے جو سنسنی خیزی کی تعریف پر پورا اترا ہے، ورنہ تو ہر میچ بغیر دلچسپی لیے ختم ہوگیا۔

گزشتہ روز بھارت اور آسٹریلیا کا اہم میچ لندن کے تاریخی میدان اوول میں کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد قوی امید تھی کہ یہ بہت ٹکر کا میچ ہوگا، لیکن آسٹریلوی ٹیم نے اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے سب کو غلط ثابت کردیا۔

کل بھارت نے آسٹریلیا کو بالکل ویسے ہی شکست دی، جیسے آسٹریلوی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے باقی ٹیموں کو دے رہی تھی۔ یعنی صرف میچ نہیں ہرایا، بلکہ پہلے ڈرایا، دھمکایا، خوفزدہ کیا اور پھر میچ ہرایا، وہ بھی مکمل گرفت کے ساتھ۔

بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا
بھارتی اوپنرز نے ٹیم کو 127 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا

ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی
ویرات کوہلی نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ اننگ کھیلی

میچ کی پہلی گیند سے آخری گیند تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب میچ میں آسٹریلوی ٹیم کی گرفت مضبوط ہوئی ہو۔ بھارتی ٹیم کی اس شاندار کارکردگی کا سہرا کپتان کی کپتانی، بیٹسمین، باؤلرز اور فیلڈرز سب کو ہی جاتا ہے۔

بھارتی ٹیم کا جائزہ

سب سے پہلے بیٹسمنوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر شروع کے 7 اوورز کی بات کی جائے تو 3.14 اوسط سے صرف 22 رنز بنائے گئے تھے اور بھارت کے ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں یہ آغاز کچھ سست محسوس ہوا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح رفتار میں اضافہ ہوا، یہ یقینی طور پر کمال تھا۔

مزید پڑھیے: کیا آسٹریلین باؤلر نے بال ٹمپرنگ کی؟ ویڈیو پر تنازع کھڑا ہوگیا

بھارت کی پہلی وکٹ 23ویں اوور میں 127 رنز پر جبکہ دوسری وکٹ 37ویں اوور میں 220 رنز پر گری۔ یہاں تک اگرچہ بھارت کے پاس وکٹیں تھیں، مگر خیال تھا کہ اگر آسٹریلوی باؤلرز طریقے سے باؤلنگ کریں تو بھارت کو 300 یا 310 رنز تک روکا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو میچ بہت حد تک دلچسپ ہوسکتا ہے۔

مگر بھارتی بیٹسمنوں نے آخری 13 اوورز میں 132 رنز بناکر ایسے کسی بھی امکان کو کہیں دُور، بہت دُور پھینک دیا۔

یہاں بھارتی پلاننگ کو داد دینی ہوگی۔ انہوں نے پلان کے عین مطابق اسپنر ایڈم زمپا اور میڈیم پیسر مارکس اسٹوئنس کو بھرپور نشانہ بنایا اور ان دونوں کے 13 اوورز میں 112 رنز بنائے، جو بہت اہم ثابت ہوئے۔

اسی طرح باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبے میں بھی جو کچھ ہوا وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ 353 رنز کا بڑا ہدف دینے کے باوجود بھارتی باؤلرز یا فیلڈرز میچ کے کسی ایک لمحے میں بھی سست نظر نہیں آئے، نہ ان کی توجہ میچ سے ہٹی، اور آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ کا اہم ترین رن آوٹ اس کی بہترین مثال ہے.

پوری اننگ میں یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ باؤلرز وہیں بال کررہے ہیں جہاں کپتان نے فیلڈر کھڑے کیے ہیں یا کپتان نے فیلڈر وہیں کھڑے کیے ہیں جہاں باؤلرز گیند کررہے ہیں۔

ایک ایک رن روکنے کے لیے بھارتی ٹیم نے محنت کی، صورتحال کو سمجھنے کے لیے آسٹریلوی جارحانہ مزاج اوپنر ڈیوڈ وارنر کی اننگ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 84 گیندوں پر 56 رنز کی سست ترین بیٹنگ کرنے والے وارنر کو تو میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اگر وہ اتنا سست نہ کھیلتے تو یہ عین ممکن تھا کہ 36 رنز سے شکست کھانے والی ٹیم میچ جیت جاتی۔ لیکن وہ کیا کرتے، ان کو بھارتی باؤلرز نے اتنا ڈرا دیا تھا کہ وہ کھل کر کھیل ہی نہیں پا رہے تھے، اور جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو جلد بازی میں غلط شاٹ کھیلتے ہوئے، باؤنڈری لائن پر کیچ آوٹ ہوگئے، حالانکہ یہی وہ وقت تھا جب وہ اپنی سست بیٹنگ کا بدلہ لے سکتے ہیں۔

ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا
ڈیوڈ وارنر نے انتہائی سست بیٹنگ کرتے ہوئے میچ بھارت کے حوالے کردیا

بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا
بھارتی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں زبردست کھیل پیش کیا

آسٹریلوی ٹیم کا جائزہ

ابتدائی 10 اوورز تو آسٹریلوی باؤلرز نے بالکل ٹھیک کروائے، لیکن اس کے بعد ایسا لگا جیسے آسٹریلوی کپتان اور باؤلرز مسلسل اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح بھارت کو زیادہ سے زیادہ رنز فراہم کیے جائیں۔

نہ کوئی فیلڈنگ سے متعلق پلان نظر آیا اور نہ ہی باؤلنگ سے متعلق۔ باؤلنگ کی صورتحال تو یہ تھی کہ ہر بال ایک الگ جگہ پھینکی جارہی تھی، جس کا بھارتی بلے باز بھرپور فائدہ اٹھارہے تھے۔

میچ کے 43ویں اوور تک معاملہ یہ تھا کہ دونوں ہی ٹیموں کا اسکور 282 رنز تھا، یعنی بھارتی ٹیم نے آخری 7 اوور میں 70 رنز بنائے اور آسٹریلوی ٹیم نے صرف 34 رنز۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ دونوں ٹیموں میں یہ فرق ضرور تھا کہ بھارت کی 2 وکٹیں گری تھیں اور آسٹریلیا کی 6 وکٹیں۔ اگرچہ بھارت کو کم وکٹیں گرنے کا فائدہ ضرور حاصل تھا، مگر اس سے زیادہ فرق دونوں کی باؤلنگ کے معیار کا بھی تھا۔

آسٹریلیا کے پرائم اور اہم ترین باؤلر مچل اسٹارک نے ابتدائی 7 اوورز میں صرف 36 رنز دیے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آخری 3 اوورز میں 38 رنز دے کر ساری کسر ہی نکال دی۔

سچ پوچھیے تو ان کو ٹھیک ہی مار پڑی، کیونکہ جب ٹیم کا سب سے بہترین باؤلر اناڑیوں کی طرح باؤلنگ کرے گا، تو باقیوں سے کیا شکایت کی جائے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے خلاف کسی بھی ٹیم نے 300 یا اس سے زیادہ رنز اسکور کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی کس قدر خراب رہی۔

مزید پڑھیے: کوہلی نے ورلڈ کپ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی نئی مثال قائم کردی

میچ کے بعد سابق آسٹریلوی آل راؤنڈر ٹام مودی کا تجزیہ سننے کو ملا تو انہوں نے یہی شکوہ کیا کہ جب وکٹ پر باؤلرز کے لیے کچھ نہ ہو تو ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ یارکروں پر توجہ دی جائے، لیکن افسوس کہ آسٹریلوی باؤلرز ایسا کرنا بھول گئے جس کی ان کو بھرپور سزا ملی۔

آئی پی ایل کا کردار کتنا رہا؟

آسٹریلوی شکست کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس شکست کی ذمہ داری انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) پر بھی ڈالی جارہی ہے، اور یہ ذمہ داری 2 وجوہات کی بنیاد پر ڈالی جارہی ہے۔

پہلی وجہ: چونکہ بڑی تعداد میں آسٹریلوی کھلاڑی آئی پی ایل کا حصہ رہے ہیں، اس لیے بھارتی ٹیم ان کی خوبیوں اور خامیوں سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے، لہٰذا انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے۔

دوسری وجہ: مفادات کا کھیل، اگرچہ یہ بات بہت عجیب محسوس ہورہی ہے، لیکن بہرحال لوگوں کو کچھ بھی کہنے سے کون روک سکتا ہے؟ کہا یہی جارہا ہے کہ چونکہ اب آئی پی ایل ایک بڑی منڈی بن چکی ہے، اس لیے آسٹریلوی کھلاڑی یہ ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی کسی بھی ’غلطی‘ کی وجہ سے وہ اگلی مرتبہ آئی پی ایل کھیلنے سے محروم ہوجائیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان کو ناراض نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ (نوٹ: اس خیال سے میں کچھ زیادہ اتفاق نہیں کرتا)

بھارت کو کس طرح ہرایا جائے؟

یہ بہت اہم ترین سوال بنتا جارہا ہے، کیونکہ بھارتی ٹیم جہاں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر باقی ٹیموں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، وہیں اس کو حاصل کمال کا اعتماد بھی مخالف ٹیموں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

ایسی ٹیم کو ہرانے کے لیے اس جیسا ہی اعتماد درکار ہے، کیونکہ آسٹریلوی ٹیم اگر کل کا میچ ہاری ہے تو صرف اسی خوف کی وجہ سے۔ چونکہ پاکستانی ٹیم کا بھارت سے مقابلہ اب سے 6 دن بعد ہے، اس لیے قومی ٹیم کو ہمت اور اعتماد سے کام لینا ہوگا۔ چیمپئنز ٹرافی کی جیت کو یاد رکھتے ہوئے اس اعتماد سے میدان میں اترنا ہوگا کہ اگرچہ ورلڈ کپ میں کبھی بھی بھارت کو شکست نہیں دی جاسکی ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہونے جارہا ہے۔

اگر گھبراہٹ کی وجہ سے بلے بازوں نے سست آغاز لیا تو یہ دباو نیچے تک آتا چلا جائے اور خدانخواستہ وہی نتیجہ آئے گا جو ہر ورلڈ کپ میں آتا ہے، لیکن اس بُرے نتیجے سے بچنا ہے تو اس کا حل صرف یہی ہے کہ بھارتی ٹیم کا مقابلہ اسی اعتماد سے کیا جائے، جس اعتماد سے وہ اس وقت باقی ٹیموں کا سامنا کررہی ہے۔ کیونکہ مسئلہ ہار اور جیت کا نہیں، بلکہ مسئلہ تو لڑائی کا ہے۔