’سو سُنار کی، ایک لوہار کی‘! ایک فتح نے سارے داغ دھو دیے

اپ ڈیٹ 04 جون 2019

ای میل

یہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کی بات ہے، جب محمد عامر کی گیند پر بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کیچ نکلا اور سلپ پر کھڑے اظہر علی نے ڈراپ کردیا۔ اس وقت لگا کہ اب تو میچ ہاتھ سے گیا، لیکن اگلی ہی گیند پر ایک بار پھر کیچ نکلا اور پوائنٹ پر کھڑے شاداب خان نے اس بار کوئی غلطی نہیں کی، اور جب یہ سب کچھ میدان میں ہورہا تھا تو انگلش کمنٹیٹر ناصر حسین نے قومی ٹیم نے کے لیے تاریخی جملے کہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ پاکستانی کرکٹ ہے، جو ایک منٹ میں زوال کی انتہا پر تو دوسرے منٹ میں عروج کی بلندیوں پر ہوتی ہے‘۔

ورلڈ کپ 2019ء کا پاک-انگلینڈ مقابلہ بھی کچھ ایسا ہی تھا، ایک طرف مسلسل 11 ون ڈے انٹرنیشنل میچ ہارنے والی قومی ٹیم اور دوسری طرف میزبان، ہاٹ فیورٹ اور حال ہی میں پاکستان ہی کو ‏4-0‎ سے شکست دینے والی انگلش ٹیم آمنے سامنے تھی۔

مزید پڑھیے: پاکستان سے شکست کے بعد ورلڈ کپ کا بدترین ریکارڈ انگلینڈ کے نام

ورلڈ کپ کے ابتدائی مقابلے میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بھیانک کارکردگی، بلکہ اس سے بھی پہلے افغانستان کے ہاتھوں وارم اپ کی بدترین شکست کے بعد کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ انگلینڈ کے مقابلے پر پاکستان ٹھہر پائے گا۔ لیکن جو ناقابلِ پیش گوئی ہو، اس کے بارے میں پیش گوئی کیسے کی جا سکتی ہے؟

قومی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ 'unpredictable' ہے۔ اس نے جہاں کئی ماہرین کے اندازے غلط ثابت کیے، وہیں انگلینڈ کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوؤں میں بھی دراڑیں ڈال دی ہیں۔

بلاشبہ Unpredictability کوئی اچھی چیز نہیں ہوتی، خاص طور پر کھیلوں میں تو بالکل نہیں۔ لیکن کیا کریں کہ پاکستان برانڈ کی کرکٹ کو بیان کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔

امکانات اور خدشات کے درمیان لٹکتی ہوئی ٹیم پاکستان ہمیشہ امید و بیم کی اسی کیفیت میں رہی ہے۔ اسی میں بلندیوں تک گئی تو زوال کی انتہائیں بھی دیکھیں۔

1992ء ورلڈ کپ کو ہی دیکھ لیں کہ جس میں پے در پے شکست کے بعد قسمت نے چند مواقع دیے اور پھر پاکستان ایسا آگے بڑھا کہ دنیا کی کوئی طاقت نہ روک پائی۔ چند سال پہلے چیمپیئنز ٹرافی 2017ء بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ جس بھارت کے خلاف آغاز میں بدترین شکست کھائی، اسی کو فائنل جیسے بڑے مقابلے میں ایسی شکست دی جو عرصہ دراز تک یاد رکھی جائے گی۔

ورلڈ کپ 2019ء میں بھی ٹیم پاکستان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں۔ ہوں بھی بھلا کیسے؟ جس ٹیم نے پچھلے 24 میں سے 18 ون ڈے میچ میں شکست کھائی ہو، ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے انگلینڈ پہنچتے ہی وارم اپ میں افغانستان اور افتتاحی مقابلے میں ویسٹ انڈیز سے بُری طرح شکست کھائی ہو، انگلینڈ کے خلاف اس کی 14 رنز کی کامیابی کو تو معجزہ ہی سمجھنا چاہیے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف 105 رنز پر ڈھیر ہونے والے اگلے ہی مقابلے میں ہاٹ فیورٹ کو اس کے گڑھ میں 348 رنز مارنے کو معجزہ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ وہ بھی ایک ایسے میدان پر جہاں انگلینڈ بڑے شکار کھیلتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں انگلینڈ نے ٹرینٹ برج میں پاکستان ہی کے خلاف 444 رنز کا مجموعہ کھڑا کیا اور اپنے اسی ریکارڈ کو آسٹریلیا کے خلاف 481 رنز بنا کر مزید بہتر بنا دیا۔

جب کہا گیا کہ پاک-انگلینڈ ورلڈ کپ مقابلہ ایسی ہی 'ورلڈ ریکارڈ' وکٹ پر کھیلا جائے گا تو ماتھا ٹھنکا کہ کہیں باؤلرز کی دوبارہ ویسی درگت نہ بن جائے۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 348 رنز بنا لیے تو بھی یہی خدشہ تھا کہ انگلینڈ ویسے ہی یہ ہدف بھی حاصل کرلے گا جیسے پچھلے 4 سالوں سے ملک میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کوئی میچ نہیں ہارا۔ لیکن یہ سب عوامل اور عناصر مل کر بھی انگلینڈ کو نہ بچا سکے۔

پاکستان کی اس کامیابی کی ایک بہت بڑی وجہ تجربہ کار کھلاڑیوں کا انتخاب تھا۔ بلاشبہ شاہین آفریدی اور محمد حسنین بہت باصلاحیت ہیں، لیکن ان فارم انگلینڈ کے بلے بازوں کے مقابلے کے لیے ان نوعمر باؤلرز کو میدان میں اتارنا قصائی کے آگے بکرا پھینکنے کے مترادف تھا۔

انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں باؤلرز کی مایوس کن کارکردگی نے پاکستان کو حکمت عملی میں تبدیلی کا موقع دیا اور کسی حد تک دوسرے ورلڈ کپ میچ میں یہ منصوبہ بندی نظر بھی آئی۔ باؤلنگ میں محمد عامر اور وہاب ریاض نے تجربے کی اہمیت ظاہر کی تو بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں محمد حفیظ اور شعیب ملک نے بھی تجربے کی اہمیت کو ثابت کیا۔ میچ کے نازک ترین لمحات میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ان کھلاڑیوں نے ثابت کیا کہ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی مسلسل 11میچوں میں شکستوں کا سلسلہ ختم

اس مقابلے سے سبق بھی ملتا ہے کہ اسکور بورڈ پر رنز موجود ہوں تو باؤلرز سے معجزے سے توقع رکھی جاسکتی ہے۔ 105 رنز کا دفاع تو دنیا کی نمبر ایک باؤلنگ لائن اپ کے لیے بھی ناممکن ہوگا۔

بہرحال، اس فتح کے بعد اب مطمئن ہونے کا وقت نہیں بلکہ اب بلند حوصلوں کے ساتھ آگے بڑھنے کا مرحلہ آگیا ہے۔ ہم اس موقع پر ٹیم پاکستان کو کوئی صلاح دیں گے اور نہ مشورہ، نہ ہی کہیں گے کہ اس کو شامل کریں، اس کو نکالیں، ایسا کریں گے تو ویسا ہوگا اور ویسا کریں گے تو ایسا ہوگا، کیونکہ ٹیم پاکستان کو صلاح و مشورے کی کوئی ضرورت ہے ہی نہیں، ان کے ترنگ میں آنے کے لیے محض ایک دو، دن درکار ہوتے ہیں، جس دن یہ آگئے، پھر دنیا دیکھتی ہے۔

انگلینڈ کے خلاف کامیابی دُور کی ایک منزل کی جانب پہلا قدم ہے، ابھی اس سمت میں کافی آگے جانا ہے۔ اگلا مرحلہ ہے 7 جون کو برسٹل میں سری لنکا کے خلاف مقابلے کا، جہاں کامیابی بہت اہم ہوگی کیونکہ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل 3 میچوں میں بھارت، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسے بڑے حریفوں کا سامنا کرنا ہے۔ سری لنکا کے خلاف کامیابی ان سے نمٹنے سے قبل حوصلے بلند کرنے کا آخری موقع ہوگی۔ دیکھتے ہیں برسٹل میں قومی ٹیم کس روپ میں نظر آتی ہے؟