قومی اسمبلی میں احتجاج، آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 10 جون 2019

ای میل

آصف زرداری کے پراڈکشن آرڈر جاری کرکے ماضی کی روایت کو برقرار رکھیں—اسکرین شاٹ
آصف زرداری کے پراڈکشن آرڈر جاری کرکے ماضی کی روایت کو برقرار رکھیں—اسکرین شاٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی اسمبلی میں احتجاج اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا، قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق صدر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا اور آغاز سے ہی اپوزیشن کی جانب سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔

نیب آصف زرداری کو ہراساں کر رہا، شازیہ مری

اجلاس کے آغاز میں پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب آصف علی زرداری کو ہراساں کر رہا ہے، آج ان کے گھر کے باہر گرفتاری کے لیے نیب ٹیم پہنچ چکی ہے، ایک کے بعد ایک اپوزیشن کے رکن قومی اسمبلی کو اٹھایا جارہا ہے، کیا حکومتی اراکین پر نیب کیسز نہیں ہیں لیکن ان کے ساتھ الگ سلوک اور ہمارے ساتھ الگ رویہ رکھا ہوا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے بھی اظہار خیال کیا—اسکرین شاٹ
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے بھی اظہار خیال کیا—اسکرین شاٹ

انہوں نے کہا کہ ہم ایوان میں بات نہیں کرسکتے، باہر بات کرتے ہیں تو بھی ہم پر لاٹھی چارج ہوتا ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے، یہ ہمیں توڑ رہے ہیں، یہ ہمارے منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے شہباز شریف کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائیاں پھیلائی جارہی تھی لیکن وہ واپس آگئے ہیں، وہ بحیثیت لیڈر آف اپوزیشن ہماری آواز ہیں اور تمام اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ ہیں۔

شازیہ مری نے اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آصف علی زرداری ایوان میں آئیں، آپ ایک کسٹوڈین کی حیثیت سے کام کریں۔

آصف زرداری نے کوئی تاخیری حربے استعمال نہیں کیے، شہباز شریف

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں لیکن میری گزارش یہ ہے کہ وہ نیب میں پیش ہوتے رہے ہیں اور ہر سوال کا جواب دیتے رہے اور انہوں نے کوئی تاخیری حربے استعمال نہیں کیے، کاش نیب اس چیز کو سراہتا۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر کی گرفتاری کی نوبت آنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جب ایک شخص خود کو قانون کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس طرح کا قدم اٹھانے کا جواز نہیں بنتا۔

شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری آپ سے پوری جماعت کی طرف سے اور یہاں بیٹھے حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے گزارش ہے کہ آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے ماضی کی روایت کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ میرے پروڈکشن آرڈر ہمیشہ جاری کرتے رہے اور میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے جمہوری اور پارلیمانی روایات کو تقویت پہنچائی، لہٰذا آج آصف زرداری کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اس اجلاس میں گئے اور حکومت پاکستان نے اپنا موقف پیش کیا اور کشمیر اور فلسطین کی بات ہوئی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جہاں معصوم بچوں کا خون بہتا ہے، بہنوں اور ماؤں کے آنچل پھٹتے ہیں، فلسطین میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھروں کو ختم کردیا جاتا ہے، تاہم پوری پاکستانی قوم کشمیریوں اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آواز بلند کرتی ہے لیکن پوری قوم کو صدمہ پہنچا کہ او آئی سی کے اعلامیے میں کشمیر کا ذکر تک نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے فورم کے اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ ہونا افسوس کی بات اور ہماری ناکامی ہے، جس کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

اظہار خیال کے دوران وزیر اعظم کے ایک حالیہ ٹوئٹ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وزیر توانائی عمر ایوب کو کہا کہ مبارک ہو کہ آپ نے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ ہم نے بہت اچھا رمضان گزارا جبکہ گزشتہ رمضان بہت تکلیف میں گزرا تھا۔

اسد قیصر کی بات کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ 31 مئی 2018 سے پہلے میں نے پوری قوم کو یہ حقیقت بتا دی تھی کہ تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود نواز شریف کی قیادت میں ہم نے 4 سال میں 11 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی اور یہ اس کے ثمرات ہیں کہ اس شدید ترین گرمی میں حکومت کی نالائقی کے باوجود لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر رہی۔

اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا محاصرہ کیا—فوٹو:ڈان نیوز
اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا محاصرہ کیا—فوٹو:ڈان نیوز

اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد اسپیکر قومی اسد قیصر نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو تقریر کا موقع دیا جبکہ ان کی جگہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان کو چلایا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے شدید نعرے بازی کی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو کو تقریر کا موقع دیا جائے جبکہ اسپیکر کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو اظہار کا موقع دیا گیا تاہم اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث کسی کو بھی اظہار خیال کا موقع نہیں ملا۔

شیخ رشید نے کہا کہ اگر انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا تو پھر کسی کو بھی بولنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان کی کارروائی کو کل 5 بجے تک ملتوی کردیا۔

حکومت کا نیب کی کارروائی سے تعلق نہیں، وزیر داخلہ

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا نیب کی کارروائی سے تعلق نہیں، عدالتی فیصلے کے مطابق عمل کی جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیب نے آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ سے مدد مانگی نہ پوچھا تھا۔

بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس

قبل ازیں قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزرا سید اعجاز شاہ، چوہدری فواد حسین، پرویز خٹک، شفقت محمود، اعظم خان سواتی، ڈاکٹر شیریں مزاری، غلام سرور خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، اراکین قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر، اقبال محمد علی خان، خالد خان مگسی، ریاض فتیانہ، حسن بلوچ اور شازیہ مری نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں قومی اسمبلی کے مالی سال 20-2019 کے بجٹ اجلاس کے ایجنڈے اور اوقات کار پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ 11 جون کو وفاقی بجٹ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

دوران اجلاس قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 29 جون تک جاری رکھنے اور ہفتے کے روز بھی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 25جون کو معاون خصوصی برائے خزانہ وفاقی بجٹ پر ہونے والی بحث کو سمیٹیں گے جبکہ 26اور 27جون کو سال 20-2019 کے مطالبات زر اور کٹوٹی کی تحریکوں پر بحث کی جائے گی، اس کے علاوہ 28 جون کو فنانس بل پر غور اور اس کی منظوری دی جائے گی۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤنوٹس نہیں ہوں گے۔