جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ میں سفر اختتام کے قریب، نیوزی لینڈ سے بھی شکست

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

جنوبی افریقہ کی ٹیم اب تک ورلڈ کپ میں 4 میچ ہار چکی ہے— فوٹو: رائٹرز
جنوبی افریقہ کی ٹیم اب تک ورلڈ کپ میں 4 میچ ہار چکی ہے— فوٹو: رائٹرز

ورلڈ کپ کے اہم میچ میں نیوزی لینڈ نے کپتان کین ولیمسن کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ کو شکست دے کر ورلڈ کپ سے تقریباً باہر کردیا۔

برمنگھم میں کھیلا گیا میچ بارش کے سبب تاخیر سے شروع ہوا اور اننگز کو 49 اوورز فی اننگز تک محدود کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: 'سفارشی نہیں صرف ٹیلنٹ آگے جائے گا'، وسیم اکرم کی کھلاڑیوں پر تنقید

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

جنوبی افریقی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا اور اسٹار وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کوک صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

ہاشم آملا اور کپتان فاف ڈیو پلیسی نے ٹیم کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن ابھی 50 رنز کی ساجھے داری ہی قائم ہوئی تھی کہ لوکی فرگیوسن نے جنوبی افریقی کپتان کی وکٹیں بکھیر دیں۔

آملا نے عمدہ بیٹنگ جاری رکھی اور اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایڈن مرکرم کے ہمراہ مزید 52 رنز جوڑے لیکن مچل سینٹر کی ایک گیند سے وہ بھی اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ کی ازسرنو تعمیر کا وقت آگیا، رمیز راجہ

ایڈن مرکرم نے 38 رنز کی اننگز کھیل کر اچھی فارم کا ثبوت دیا لیکن گرینڈہوم نے ان کی پیش قدمی روکتے ہوئے کولن منرو کی مدد سے انہیں قابو کر لیا۔

دوسرے اینڈ سے وین ڈر ڈوسن نے اچھی بیٹنگ جاری رکھی اور ڈیوڈ ملر کے ہمراہ 5ویں وکٹ کے لیے 72 رنز جوڑ کر جنوبی افریقہ کی ڈبل سنچری مکمل کرائی لیکن اس سے قبل کہ ملر اپنی روایتی جارحانہ بیٹنگ شروع کرتے، فرگیوسن نے اپنی ٹیم کو ایک اور اہم کامیابی دلاتے ہوئے ان کی 36 رنز کی اننگز کے آگے بھی فل اسٹاپ لگا دیا اور پھر اگلے اوور میں فلکوایو کا کام بھی تمام کردیا۔

اختتامی اوورز میں وین ڈر دوسن کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم مقررہ 49 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

ڈوسن نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 64 گیندوں پر 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد 67 رنز بنائے۔

مزید پڑھیں: سرفراز احمد کپتانی کے اہل نہیں، معین خان

ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم ابتدا میں ہی کولن منرو کی خدمات سے محروم ہو گئی لیکن مارٹن گپٹل اور کین ولیمسن نے 60 رنز کی شراکت قائم کر کے ابتدائی نقصان کا کسی حد تک ازالہ کردیا۔

اس مرحلے پر نیوزی لینڈ کی ٹیم یکدم 10رنز کے اضافے سے تین اہم وکٹوں سے محروم ہو گئی اور اس کی میچ میں فتح پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

مارٹن گپٹل 35 رنز بنانے کے بعد ہٹ وکٹ ہوئے جبکہ کرس مورس نے اپنے لگاتار دو اوورز میں روس ٹیلر اور ٹام لیتھم کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔

80 رنز پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد کین ولیمسن کا ساتھ دینے جیمز نیشام آئے اور دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 57 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت جنوبی افریقہ کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوتی، مورس نے نیشام کا کام تمام کردیا۔

137رنز پر آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد نیوزی لینڈ کی شکست صاف نظر آ رہی تھی لیکن ولیمسن اور گرینڈ ہوم جنوبی افریقی ٹیم کی فتح کی راہ میں حائل ہو گئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے 91 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، خصوصاً گرینڈ ہوم نے روایتی جارحانہ انداز اپنایا اور فتح سے چند قدم کی دوری پر 47 گیندوں پر 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

تاہم کین ولیمسن کو اس کے بعد اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی اور انہوں نے تین گیندیں قبل ہی اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔

ولیمسن نے 106 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اس شکست کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ میں سفر تقریبا۟ اختتام پذیر ہو گیا ہے اور وہ بقیہ تینوں میچ جیت کر بھی سیمی فائنل کے لیے شاید ہی کوالیفائی کر سکے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا اگلا میچ اتوار کو پاکستان کے خلاف کھیلے گی۔