ورلڈکپ: بنگلہ دیش کو 48رنز سے شکست، آسٹریلیا کامیاب

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

ڈیوڈ وارنر نے 14 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 166رنز بنائے— فوٹو: اے پی
ڈیوڈ وارنر نے 14 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 166رنز بنائے— فوٹو: اے پی

مشفیق الرحیم کی شاندار سنچری کے باوجود آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں 48رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات روشن کر لیے ہیں۔

ناٹنگھم میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بالکل درست ثابت ہوا۔

اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور کپتان ایرون فنچ نے اپنی ٹیم کو 121رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا، فنچ 2 چھکوں اور دو چوکوں سے مزین 53رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹے۔

دوسرے اینڈ سے ڈیوڈ ڈٹے اور نئے آنے والے بلے باز عثمان خواجہ کے ہمراہ ایک اور شاندار شراکت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ 2019 میں اپنی دوسری سنچری بھی مکمل کی۔

وارنر اور خواجہ نے 192رنز کی عمدہ شراکت قائم کی جس کے بعد وارنر 166رنز شاندار اننگز کھیلر کر پویلین لوٹے، ان کی اننگز میں 14 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔

گلین میکسویل نے وکٹ پر آتے ہی دھواں دھار بیٹنگ شروع کردی اور محض 10گیندوں پر 32 رنز بنانے کے بعد وہ بھی پویلین سدھار گئے۔

عثمان خواجہ اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور تیزی سے رنز اسکور کرنے کی کوشش میں 89رنز بنانے کے بعد سومیا سرکار کی تیسری وکٹ بن گئے۔

آسٹریلیا 49اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 368رنز ہی بنائے تھے کہ میچ میں بارش نے مداخلت کردی اور بارش کی شدت کو دیکھتے ہوئے امپائرز نے کھلاڑیوں کو پویلین واپسی کا حکم دے دیا۔

کچھ دیر بعد میچ دوبارہ شروع ہوا تو آخری اوور میں آسٹریلین بلے بازوں نے 13رنز بنا کر مقررہ اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 381رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔

ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور اوپنرز سومیا سرکار 23 کے مجموعے پر وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹے۔

اس مرحلے پر تمیم اقبال کا ساتھ دینے شکیب الحسن آئے اور دونوں تجربہ کار بلے بازوں نے ابتدائی نقصان کا کسی حد تک ازالہ کرتے ہوئے ٹیم کی سنچری مکمل کرا دی۔

شکیب الحسن پھر اچھی فارم میں نظر آئے اور ایسا لگتا تھا کہ وہ لگاتار تیسری سنچری بنانے میں کامیاب رہیں گے لیکن مارکس اسٹوئنس نے ان کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے پویلین واپسی پر مجبور کردیا، انہوں نے 41رنز بنائے۔

تمیم اقبال ایک مرتبہ پھر سابقہ فارم میں نظر نہ آئے اور 62رنز بنانے کے بعد مچل اسٹارک کی وکٹ بن گئے جبکہ گزشتہ میچ میں شاندار اننگز کھیلنے والے لٹن داس صرف 20رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیشی ٹیم 175رنز پر 4وکٹوں سے محروم ہو چکی تھی۔

اس موقع پر مشفیق الرحیم کا ساتھ دینے محمود اللہ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 127رنز کی شاندار شراکت قائم کی لیکن بڑھتے ہوئے رن ریٹ کے سبب بنگلہ دیش کے لیے ہدف تک رسائی ناممکن ہو گئی۔

محموداللہ 50 گیندوں پر 3 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 69رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے جس کے بعد مہدی حسن اور صابر بھی یکے بعد چلتے بنے۔

مشفیق نے اپنی سنچری تو مکمل کی لیکن وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے اور بنگلہ دیش کی ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 333 رنز ہی بنا سکی، مشفیق 102رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

آسٹریلیا کی جانب مچل اسٹارک، نیتھن کاؤلٹر نائیل اور اسٹوئنس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

ڈیوڈ وارنر کو ان کی شاندار 166رنز کی اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔