’دنیا میں کم لیکن پاکستان، بھارت میں جوہری ہتھیار بنانے کے رجحان میں اضافہ‘

اپ ڈیٹ 22 جون 2019

ای میل

جوہری ممالک جوہری اثاثوں کو جدید خطوط پر استور کرنے میں مصروف ہیں، سیپری—فائل فوٹو: ٹوئٹر
جوہری ممالک جوہری اثاثوں کو جدید خطوط پر استور کرنے میں مصروف ہیں، سیپری—فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) نے کہا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں جوہری سرگرمیوں میں تخفیف ہوئی ہے وہاں پاکستان اور بھارت میں جوہری ہتھیار بنانے کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق عسکری اور جوہری صورتحال اور عالمی سلامتی کا جائزہ لینے والے سویڈن کے ادارے سیپری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس بھارت سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

مزیدپڑھیں: 'پاکستان،سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کا مخالف'

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 150 سے 160 اور بھارت کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار ہیں اور دونوں ممالک ’نئے جدید نظام‘ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

چیئرمین سیپری جان ایلیسن نے کہا کہ دنیا بھر میں 2018 کے دوران جوہری ہتھیار کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری ممالک نے جوہری اثاثوں کو جدید خطوط پر استور کرنے میں مصروف ہیں۔

سیپری کے ڈائریکٹر شینن کائل نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور پاکستان اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں اور اگلے 10 برس میں دنوں کے پاس وسیع پیمانے پر جوہری ہتھیار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’بھارت کو ایٹمی اسلحہ محدود کرنے کی پیشکش برقرار‘

شائع کی جانے والی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں برس کے آغاز میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل، شمالی کوریا کے پاس مجموعی طور پر 13 ہزار 865 جوہری ہتھیار ہیں۔

سیپری کے مطابق 2018 کے ابتداء میں مذکورہ ممالک کے پاس مجموعی طور پر 14 ہزار 465 جوہری ہتھیار تھے۔

رپورٹ کے مطابق 13 ہزار 865 جوہری ہتھیاروں میں سے 3 ہزار 750 ہتھیار آپریشنل فورسز کے ساتھ تعینات ہیں جبکہ 2 ہزار ہنگامی صورت میں استعمال کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 30 جون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا تھا کہ جوہری ہتھیار کے حامل ملک کی اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کرنے سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوجائے گا جس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مہم بھی متاثر ہوگی۔

مزیدپڑھیں: جوہری ہتھیاروں کی نئی امریکی حکمت عملی بہت بڑا خطرہ ہے، امریکی ماہرین

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں ان ایٹمی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جو نہ تو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے بڑے ذخیرے کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے جدید پروگرامز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔