’جنوبی افریقی ٹیم کو دعا دیجیے‘

اپ ڈیٹ 24 جون 2019

ای میل

ورلڈ کپ کے ابتدائی 5 مقابلوں میں صرف ایک کامیابی اور ان زخموں پر نمک چھڑکنے والی بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے لیے جیت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور 'گرین شرٹس' نے اس مشکل راستے پر اپنا اگلا قدم جنوبی افریقہ کے خلاف ایک شاندار کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا دیا ہے، یوں 6 میچوں میں صرف 2 کامیابیوں کے باوجود قومی ٹیم کے ورلڈ کپ میں امکانات اتنے ہی ہیں، جتنے 1992ء میں تھے۔

ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم اب تک بہت سے نشیب و فراز دیکھ چکی ہے۔ اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد اس نے ہاٹ فیورٹ میزبان انگلینڈ کو شکست دی۔ پھر سری لنکا کے خلاف مقابلہ بارش کی نذر ہوجانے کے بعد آسٹریلیا اور بھارت کے ہاتھوں مسلسل 2 شکستیں کھائیں۔ ان 2 ناکامیوں نے جہاں قومی ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل پر بدترین حالت تک پہنچایا وہیں بھارت کے ہاتھوں شکست پر تو گویا آگ ہی لگ گئی۔ وہ بھی تنقید کرتے دکھائی دیے کہ جو سالوں بعد ہونے والا پاک-بھارت میچ ہی دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستانی ٹیم کس طرح سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے؟

بہرحال، میدان میں پیش کی گئی مایوس کن کارکردگی کا جواب بھی میدان ہی میں دینا چاہیے اور پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایسا ہی کیا۔ پے در پے شکستوں کے بعد ایک زخمی شیر کا روپ دھارنے والی جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم نے ایک لمحے کے لیے بھی مقابلے کو اپنی گرفت سے نکلنے نہ دیا۔

اس کامیابی میں جہاں باؤلرز نمایاں تھے، وہیں 300 سے زیادہ کی نفسیاتی حد عبور کروانے میں حارث سہیل کا کردار اہم تھا۔ وہی حارث سہیل کہ جنہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں شکست کے بعد اس طرح باہر کردیا گیا، گویا وہ اسکواڈ میں موجود ہی نہیں۔

غالباً بھارت کے ہاتھوں شکست اور اس کے بعد سخت ترین ردِعمل نے ٹیم انتظامیہ کو مجبور کیا کہ حارث کو اسکواڈ میں جگہ دی جائے اور انہوں نے 59 گیندوں پر 3 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 89 رنز بنا کر اپنے انتخاب کو بالکل ٹھیک ثابت کردیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حارث کا لگایا گیا ہر شاٹ جنوبی افریقہ کے باؤلرز کے لیے نہیں بلکہ ان کے لیے ہے جنہوں نے انہیں پچھلے میچوں میں باہر بٹھائے رکھا۔ بہرحال، اس اننگز کے ساتھ حارث سہیل ثابت کر چکے ہیں کہ پاکستان کو ورلڈ کپ میں واپس آنے کے لیے ان کی سخت ضرورت ہے۔

ویسے پاکستان کی بھی کیا قسمت ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ترین مقابلے میں اسی بلے باز نے مشکل سے نکالا جسے پچھلے کئی میچوں سے نظر انداز کیا جارہا تھا، اور باؤلنگ میں بھی اب تک وہی باؤلرز چل رہے ہیں جو ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی اسکواڈ کا حصہ ہی نہیں تھے یعنی محمد عامر اور وہاب ریاض۔ ذرا تصور تو کیجیے کہ پاکستان اپنے اصل پلان کے مطابق ورلڈ کپ کھیل رہا ہوتا تو اس وقت کیا حال ہوتا؟

خیر، کامیابی ایک سیاہ کپڑے کی مانند ہوتی ہے جس پر لگنے والے بیشتر داغ سِرے سے نظر ہی نہیں آتے جبکہ ناکامی ایسی ہوتی ہے جیسے ایک سفید کپڑے پر پر لگنے والا ایک معمولی سا دھبہ بھی سب کو نمایاں نظر آتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی میں ہوسکتا ہے ہمیں چند مایوس کن پہلو نظر نہ آئیں لیکن اس میچ میں بھی پاکستان کی فیلڈنگ ناقابلِ برداشت حد تک خراب تھی۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی فیلڈرز کی روایتی سخاوت کے مظاہرے اس مقابلے میں بھی جاری رہے جس میں انہوں نے ایک، دو نہیں کم از کم 5 مواقع ضائع کیے۔

پہلے ہی اوور میں وہاب ریاض کے ہاتھوں کوئنٹن ڈی کوک کو نئی زندگی ملی۔ جنہوں نے بعد میں 47 رنز بنائے اور پھر آخری 20 اوورز میں تو حد ہی ہوگئی۔ سب سے پہلے محمد عامر نے اپنی گیند پر ہی ایک کیچ چھوڑا اور کچھ دیر کے بعد وہاب ریاض کی 2 مسلسل گیندوں پر کپتان سرفراز احمد اور محمد عامر نے نسبتاً آسان مواقع ضائع کیے۔

وہاب ریاض نے پہلے ہی اوور میں ڈی کوک کا کیچ چھوڑدیا تھا
وہاب ریاض نے پہلے ہی اوور میں ڈی کوک کا کیچ چھوڑدیا تھا

محمد عامر اپنی ہی گیند پر ڈیوڈ ملر کا کیچ چھوڑتے ہوئے
محمد عامر اپنی ہی گیند پر ڈیوڈ ملر کا کیچ چھوڑتے ہوئے

یہ تو جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی نااہلی تھی کہ وہ ان مواقع کا فائدہ نہ اٹھا سکے، ورنہ اب تک پاکستان کو ایسی فیلڈنگ بہت مہنگی پڑی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ انگلینڈ کے خلاف مقابلے میں جو روٹ کو نئی زندگی ملی تھی تو انہوں نے کیا کیا تھا؟ پھر آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میں ڈیوڈ وارنر اور آرون فنچ نے پاکستانیوں کی فیاضی کا کس طرح فائدہ اٹھایا تھا؟ بھارت کے خلاف اہم مقابلے میں روہت شرما کو رن آؤٹ کرنے کا آسان موقع ضائع کرکے انہیں ایک بڑی اننگز کھیلنے کی کھلی اجازت کس طرح دی گئی؟

رن آؤٹ کے مواقع ایک طرف رکھ دیں اور مس فیلڈنگ کے ذریعے حریف کو مفت کے رنز دینے سے بھی صرفِ نظر کردیں تو ٹورنامنٹ میں اب تک پاکستان کے فیلڈرز 14 کیچز چھوڑ چکے ہیں۔ جی ہاں! یہ کسی بھی ٹیم کے ہاتھوں ڈراپ ہونے والے سب سے زیادہ کیچز ہیں۔

لمحے بھر کے لیے سوچیے کہ یہ سارے آسان مواقع ضائع نہ ہوتے تو کیا ورلڈ کپ کا پوائنٹس ٹیبل اس وقت کافی حد تک بدلا ہوا نہ ہوتا؟ ایک ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں دوسری ٹیموں کے کھلاڑی ہاف چانسز پر بھی جان لڑا رہے ہیں اور ناقابلِ یقین کیچز تھام کر اپنے ملک کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، وہاں پاکستان کی یہ نااہلی اسے ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی شاندار فتح، جنوبی افریقہ ورلڈ کپ سے باہر

جنوبی افریقہ تو پے در پے شکستوں کے بعد ویسے ہی حوصلہ ہارا ہوا تھا، اس لیے اتنے زیادہ مواقع ملنے کا بھی فائدہ نہ اٹھا سکا لیکن اگر آئندہ میچوں میں بالخصوص نیوزی لینڈ کے خلاف ایسی کارکردگی دکھائی تو پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ اب پاکستان کے پاس جیتنے کے سوا اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ اسے اپنے باقی 3 میچوں میں نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ہرانا ہے، تبھی سیمی فائنل کھیلنے کا کوئی امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر معاملہ ’اگر، مگر‘ میں داخل ہو جائے گا جہاں پاکستان کو دیگر میچوں کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔

ان مقابلوں میں کامیابی کے لیے بیٹنگ اور باؤلنگ کے ساتھ ساتھ اپنی فیلڈنگ کو بھی بہتر بنانا ہوگا، ورنہ ایسی فیلڈنگ کے ساتھ پاکستان نہ تو سیمی فائنل کھیل سکتا ہے اور نہ ہی فائنل 4 تک پہنچنے کا حقدار ہے۔

لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چائیے کہ ایک اچھی اننگز کھیلنے کے باوجود حارث سہیل پوری بیٹنگ لائن کا بوجھ اکیلے اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھا سکتے۔ فخر زمان کو لازماً کچھ کرنا ہوگا، ان پر چند بڑی اننگز ادھار ہیں۔ امام الحق اور بابر اعظم کو 50 رنز سے آگے دیکھنا ہوگا جبکہ محمد حفیظ کو انگلینڈ کے میچ جیسی کارکردگی دہرانا ہوگی۔ حارث سہیل ان سب کے لیے بیٹنگ میں جبکہ محمد عامر اور وہاب ریاض باؤلنگ میں عملی مثال ہیں۔ اس مرحلے پر اگر فیلڈنگ کا جن قابو میں آ جائے تو پاکستان ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچ سکتا ہے اور گزشتہ ایک، ڈیڑھ سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ بھی پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

تو چلیے دیکھتے ہیں کہ کارکردگی اور قسمت دونوں مل کر قومی ٹیم کو کہاں تک لے جاتے ہیں؟