خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں، نیٹو

25 جون 2019

ای میل

وزیرخارجہ نے برسلز میں جنرل سیکریٹری نیٹو سے ملاقات کی—فوٹو:شاہ محمود قریشی فیس بک
وزیرخارجہ نے برسلز میں جنرل سیکریٹری نیٹو سے ملاقات کی—فوٹو:شاہ محمود قریشی فیس بک

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی قربانیوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے ہم معترف ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برسلز میں مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد (نیٹو) کے ہیڈکوارٹر میں نیٹو کے جنرل سیکریٹری اسٹولٹن برگ سے ملاقات کی جہاں پاکستان اور نیٹو کے مابین دو طرفہ تعاون، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان نے افغانستان میں سہ رکنی اتحاد ‘ایساف’ کے تحت نیٹو اور امریکی فورسز کی ہر ممکن مدد کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان اور نیٹو کے موقف میں کافی حد تک یکسانیت ہے کیونکہ دونوں فریق افغانستان کے مسئلے کو افغان قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:'طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات پاکستان کی خواہش ہے'

انہوں نے کہا پاکستان اور نیٹو کے مابین 2010 سے لے کر آج تک دو طرفہ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے مذاکرات کے آٹھ ادوار ہو چکے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیٹو نےمشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، 2005 میں شدید ترین زلزلے کے بعد نیٹو نے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں جب پاکستان میں سیلاب نے شدید تباہی پھیلائی تو اس وقت بھی نیٹو اراکین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

اس موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کے تعاون اور مثبت کردار کا معترف ہے اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔