مقتول صحافیوں کے اہلخانہ صلح پر مجبور کیوں؟

26 جون 2019

ای میل

امیر بخش کو مبینہ طور پر رشتے کے تنازع پر قتل کیا گیا—فوٹو: فیس بک
امیر بخش کو مبینہ طور پر رشتے کے تنازع پر قتل کیا گیا—فوٹو: فیس بک

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں سخت مشکلات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور مشکلات کا اندازا اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ 18 برس میں ملک میں قتل ہونے والے 72 میں سے صرف 5 صحافیوں کے قتل کیسز میں ملزمان کو سزائیں ہوئیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ صحافیوں کے قتل کے جن مقدمات میں ملزمان کو عدالتوں نے فیصلے سنائے، ان میں بھی ان ملزمان کی سزاؤں پر تاحال عمل نہیں ہوسکا، جبکہ بعض مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’پاکستان پریس فاؤنڈیشن‘ (پی پی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق قتل کیے جانے والے 5 صحافیوں ڈینیئل پرل، نثار احمد سولنگی، عبدالرزاق جاڑا، ولی خان بابر اور ایوب خان خٹک کے مقدمات میں عدالتوں نے ملزمان کو سزائیں سنائیں، تاہم ان کیسز میں بھی جن مجرمان کو پھانسی کی سزائیں ہوئیں ان پر تاحال عمل نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں گزشتہ 18 برس میں اب تک جن مقتول صحافیوں کے ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں ان میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل بھی شامل ہیں، جنہیں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 22 فروری 2002 کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا، عدالت نے اسی سال جولائی میں قتل میں ملوث مرکزی ملزم عمر سعید شیخ کو موت جب کہ دیگر تین ملزمان کو عمر قید سمیت جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم تمام ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر تاحال سماعت نہیں ہوسکی۔

پی پی ایف کے مطابق ڈینیئل پرل کی طرح سندھی اخبار روزنامہ خبروں کے صحافی نثار احمد سولنگی کے قتل کے ملزمان کو بھی سزائیں ہوئیں، نثار احمد کو 2007 میں مبینہ طور پر جونیجو برادران نے قتل کیا تھا اور مقتول صحافی کے ورثاء نے جرگہ کرکے ملزمان سےخون بہا کی رقم لے کر صلح کرلی تھی مگر سیشن کورٹ خیرپور نے واقعے کا نوٹس لے کر2012 میں 2 مرکزی ملزمان کو 25 سال قید کی سزا سنائی جب کہ دیگر ملزمان کو بری کردیا۔

اسی طرح نجی ٹی وی رائل نیوز کے صحافی عبدالرزاق جاڑا کو 2008 میں قتل کیا گیا تھا اور میانوالی کی سیشن کورٹ نے 2009 میں مرکزی ملزم منیر حسین کو سزائے موت اور ایک ملزم کو بری کردیا تھا اور قتل میں ملوث دوسرے ملزم کو عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے فیصلے کو مقتول صحافی کے اہل خانہ نے 2013 میں لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تو عدالت نے سزائے موت کے ملزم کی سزا عمر قید میں بدل کر دوسرے ملزم کو بری کردیا۔

پاکستان میں جن صحافیوں کے قاتلوں کو سزائیں ہوئیں، ان میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل بھی شامل ہیں—فوٹو: وکیپیڈیا
پاکستان میں جن صحافیوں کے قاتلوں کو سزائیں ہوئیں، ان میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل بھی شامل ہیں—فوٹو: وکیپیڈیا

پاکستان میں صحافیوں کے قتل کیسز میں سے ہائی پروفائل کیس کی صورت اختیار کرنے والے نجی ٹی وی جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کو 2011 میں قتل کیا گیا تھا اور عدالت نے مارچ 2014 میں 2 مرکزی ملزمان کو سزائے موت جب کہ دیگر 4 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی، تاہم بعد ازاں تمام ملزمان نے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی، جس پر تاحال سماعت نہیں ہوسکی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ولی خان بابر کیس کے ملزمان کی گرفتاری، تفتیش اور کیس کے دوران سماعت عینی گواہ، کیس میں متحرک پولیس اہلکاروں اور وکلاء کے رشتہ داروں سمیت 6 افراد کی بھی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں 2013 میں قتل کیے گئے صحافی ایوب خان خٹک کے ملزمان کو عدالت نے 2 ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ایوب خان خٹک کا کیس صحافیوں کا وہ آخری کیس ہے، جس میں پاکستانی عدالتوں نے ملزمان کو سزائیں سنائیں جب کہ 2016 کے قتل ہونے والے صحافیوں میں سے بیشتر کیسز میں اب تک ملزمان کو سزائیں نہیں سنائی جا سکیں اور کچھ کیسز میں تو ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

صحافیوں کے قتل کیسز میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہ کیے جانے اور مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جانے، عدالتوں کی جانب سے انصاف کی فراہمی میں وقت لیے جانے اور ملزمان کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں کے بعد مقتول صحافیوں کے اہل خانہ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے پیاروں کو قتل کرنے والے قاتل قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر بچ جائیں گے۔

عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کرنا مجرمان کا قانونی حق ہے، تاہم مقتول صحافیوں کے اہل خانہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جس طرح قانون کے مطابق مجرمان کو درخواستیں دائر کرنے کا حق دیا جاتا ہے، اسی طرح جن مجرمان کو سزائیں دی جاتی ہیں ان پر فوری عمل کرکے قانون پر عمل کیا جائے، کیوں کہ بعد میں ملزمان کی جانب سے عدالتوں میں درخواستیں دائر کیے جانے یا ان کی جانب سے مقتولوں کے اہل خانہ کو صلح کے لیے سیاسی دباؤ ڈالنے کی وجہ سے ملزمان کے بچ نکلنے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔

اور ایسے ہی مسائل کا فائدہ اٹھانے والے ملزمان میں مقتول صحافی امیر بخش بروہی کے ملزمان بھی شامل ہیں، جنہوں نے عدالت کی جانب سے ملزمان کو سزائیں سنائے جانے سے کچھ وقت قبل ہی مقتول صحافی کے اہل خانہ پر سیاسی دباؤ ڈال کر ان سے صلح کرلی۔

امیر بخش بروہی کو سندھ کے ضلع شکارپور میں 2003 میں اپنی ہی برادری کے افرد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ملزمان کے احتساب کے لیے صحافتی تنظمیں احتجاج کرتی رہتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
ملزمان کے احتساب کے لیے صحافتی تنظمیں احتجاج کرتی رہتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

پی پی ایف کے مطابق امیر بخش بروہی کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے واقعات سے متعلق رپورٹ پر کام کرنے کے دوران قتل کیا گیا۔

تاہم امیر بخش بروہی کے انتہائی قریبی رشتہ دار اور صحافی عبدالرزاق بروہی نے بتایا کہ انہیں قتل کرنے کی ایک سے زائد وجوہات تھیں۔

عبدالرزاق بروہی گذشتہ دو دہائیوں سے اسی اخبار (کاوش) سے وابستہ ہیں، جس سے مقتول صحافی امیر بخش بروہی وابستہ تھے۔

عبدالرزاق بروہی نے ڈان کو بتایا کہ بظاہر ملزم شاہنواز بروہی نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر امیر بخش کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ ان کی منگنی اسی لڑکی سے طے ہو چکی تھی جس سے ملزم کا بیٹا شادی کرنے کا خواہش مند تھا۔

یعنی امیر بخش بروہی کو قتل کرنے کی ایک وجہ رشتہ داری تھی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں قتل کرنے کی سیاسی اور سماجی وجوہات بھی تھیں۔

ان کے مطابق چونکہ شاہنواز بروہی اپنی برادری کا ایک بااثر شخص تھا اور امیر بخش بروہی صحافی ہونے کے ناطے ان سے زیادہ مشہور یا عوامی کام کرنے لگا تھا اور لوگ مسائل کے حل کے لیے شاہنواز کے بجائے امیر بخش کے پاس آنے لگے تھے اور یہ عمل ملزمان کو ناخوشگوار لگا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں مگر انہیں پورا یقین ہے کہ امیر بخش بروہی کے قتل کی ایک وجہ سیاست بھی تھی کیوں کہ علاقے کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ کوئی اچھا صحافی ان کے اعمال کو دنیا کے سامنے لائے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم شاہنواز بروہی نہ صرف بااثر تھے بلکہ وہ خود وکیل بھی تھے اس لیے انہیں پہلے تو گرفتار کرنے اور پھر بعد ازاں ان کے خلاف عدالت میں کیس شروع کرنے میں امیر بخش بروہی کے خاندان کو سخت مشکلات درپیش آئیں۔

عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مقتول صحافی کے بھائیوں اور والد پر چوری کے مقدمات دائر کروانے سمیت پیسوں اور طاقت کے زور پر پولیس کو بھی ان کے خلاف استعمال کیا لیکن کئی سال کی جنگ کے بعد بالآخر انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعتیں ہوئیں لیکن پھر انہوں نے سیاسی و سماجی دباؤ ڈال کر مقتول صحافی کے اہل خانہ کو صلح پر مجبور کیا۔

پاکستان کا شمار آزادی صحافت کے حوالے سے بدترین ممالک میں کیا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
پاکستان کا شمار آزادی صحافت کے حوالے سے بدترین ممالک میں کیا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق ملک کے دیگر کئی صحافیوں کی طرح امیر بخش بروہی کے اہل خانہ نے بھی ملزمان سے صلح کی اور یوں صحافیوں کو قتل کرنے والے ملزمان طاقت اور پیسے کے زور پر ایک بار پھر سزا پانے سے بچ گئے۔

تاہم اب عبدالرزاق بروہی کے مطابق مقتول صحافی کے ورثاء نے خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری اور دباؤ میں آکر ملزمان سے صلح کیا۔

ان کے مطابق امیر بخش بروہی کے ورثاء نے ملزمان سے خون بہا کے عوض نہیں بلکہ سندھ میں جاری پرانی روایات کے تحت صلح کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے سندھ کی پرانی سماجی روایات کے مطابق خواتین، برادری کے عزت دار افراد اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کے ایک قافلے کو امیر بخش بروہی کے اہل خانہ کے پاس مقدس کتاب قرآن پاک کے ساتھ صلح کے لیے بھیجا جس وجہ سے مقتول صحافی کے اہل خانہ کئی سال سے چلی آ رہی رسومات کی وجہ سے صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔

عبدالرزاق کے مطابق صلح کے لیے رکھی گئی تقریب میں مرکزی ملزم شہباز بروہی کو بھی لایا گیا اور انہوں نے قسم کھائی کہ انہوں نے امیر بخش کو قتل نہیں کیا، وہ بے قصور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہباز بروہی کی جانب سے قسم کھانے کے بعد ان کے والد نے انہیں معاف کرکے ان سے صلح کی اور بعد ازاں عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی، جس کے بعد ملزمان کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سماجی روایات کو استعمال کرکے ملزمان نے مقتول کے اہل خانہ کو بے وقوف بنایا اور ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات ہونے کے بعد ریاست، حکومت اور عدالتوں کو آگے آکر انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔

صحافیوں کے علاوہ پاکستان میں صحافتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
صحافیوں کے علاوہ پاکستان میں صحافتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

عبدالرزاق بروہی کا کہنا تھا کہ اگرچہ امیر بخش بروہی کے قتل کیس کے صلح کے لیے ملزمان کی جانب سے کی جانے والی ہوشیاری کو جرگہ نہیں کہا جا سکتا، تاہم دیکھا جائے تو وہ ایک طرح سے جرگہ ہی ہے۔

ان کے مطابق ایسے یا اس طرح کے کسی بھی طریقے کو جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچے، اسے غیر قانونی سمجھ کر حکومت، ریاست، عدالت اور پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ورثاء کے ساتھ ساتھ ریاست کا بھی ایک کردار ہوتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل منظور حسین کھوسو عبدالرزاق بروہی سے اتفاق نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام میں صلح کا آپشن موجود ہے اور کسی بھی معاملے میں صلح کے بعد ریاست یا عدالتوں کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس طرح کے صلح کو غیر قانونی قرار دے کر اپنی طاقت کا استعمال کرکے ملزمان کو سزائیں دیتے پھریں۔

منظورحسین کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک میں کہیں بھی ایسا نظام موجود نہیں ہے کہ فریقین کے درمیان صلح ہونے کے بعد ریاست یا عدالت اپنے حساب سے ملزمان کو سزائیں دے۔

سینیئر وکیل کا کہنا تھا کہ برصغیر میں جرگے کا نظام انگریز دور کی پیداوار ہے، جسے سابق صدر ایوب خان کے دور حکومت میں ختم کرکے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، تاہم پھر بھی ملک بھر میں کئی دہائیوں تک غیر قانونی طور پر جرگے ہوتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کئی سال تک غیر قانونی طور پر ہونے والے جرگے سیاسی و سماجی طور پر طاقتور اور بااثر افراد کی جانب سے کیے جاتے رہے، اس لیے انہیں روکنا پولیس کے بس کی بات نہیں تھی، تاہم 2009 میں ایک بار پھر سپریم کورٹ نے ایسے جرگوں کو غیر قانونی قرار دے دیا، جس کے بعد اب جرگوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔

منظور حسین کھوسو بتاتے ہیں کہ ایک طرف جہاں جرگوں میں کمی ہوئی ہے، وہیں دوسری جانب سیاسی و سماجی طور پر طاقتور افراد کی جانب سے صلح کرائے جانے کے معاملات میں تیزی دیکھی گئی اور چونکہ پاکستان میں قانونی طور پر صلح کا آپشن موجود رہتا ہے، اس لیے اب وڈیرے یا سردار جرگہ کرنے کے بجائے فریقوں کے درمیان صلح کرواتے ہیں اور متاثرہ فریق پر رقم لینے یا پھر خدا کے نام پر معاف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

انہوں نے جرگے اور صلح میں فرق بتاتے ہوئے وضاحت کی کہ جرگے میں وڈیرے اور سردار ایک طرح سے کورٹ کی طرح کارروائی کرنے کے بعد فیصلہ سناتے تھے جب کہ صلح میں وڈیرے اور دوسرے لوگ متاثرہ فریق سے درخواست کرنے سمیت ان پر صلح کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور یہ طریقہ غیر قانونی نہیں ہے۔

منظور حسین کھوسو نے واضح کیا کہ پاکستان میں قتل جیسے معاملات پر بھی قانونی و مذہبی طور پر صلح کی گنجائش موجود ہے اور اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم مقتول صحافیوں کے اہل خانہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر وہ اپنے پیاروں کی خون بہا نہیں لیتے تو انہیں سیاسی و سماجی طور پر دباؤ ڈال کر صلح پر مجبور کیا جاتا ہے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے صلح پر حکومت اور ریاست سخت لائحہ عمل تیار کرے۔


یہ تحریر لکھاری کی پی پی ایف فیلوشپ کا حصہ ہے۔