'چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے،حکومت لرز جائے گی'

اپ ڈیٹ 26 جون 2019

ای میل

مریم نواز کا کہنا ہے کہ پوری جماعت کا نواز شریف اور شہباز شریف پر بھرپور اعتماد ہے — فوٹو: ڈان نیوز
مریم نواز کا کہنا ہے کہ پوری جماعت کا نواز شریف اور شہباز شریف پر بھرپور اعتماد ہے — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے تمام مسائل حل تو نہیں ہوں گے لیکن جعلی مینڈیٹ والی حکومت لرز جائے گی۔

اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'میں سمجھتی ہوں اس جعلی حکومت کو قبول نہیں کرنا چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جتنے دن یہ حکومت رہے گی پاکستان میں صورتحال دگر گوں رہے گی، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ حالات آپے سے باہر ہو جائیں'۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے تمام مسائل حل تو نہیں ہوں گے لیکن جعلی مینڈیٹ والی حکومت لرز جائے گی'۔

مسلم لیگ (ن) میں اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ اور میں ایک ہیں، ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پوری جماعت کا نواز شریف اور شہباز شریف پر بھرپور اعتماد ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف تو کرسکتے ہیں البتہ فیصلہ لیڈر شپ کا ہوتا ہے جو خوش دلی سے قبول ہوتا ہے'۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'روپے کی قدر ایک، ایک دن میں 5، 5 روپے گر رہی ہے، صرف جون کے مہینے میں 14 ارب قرضوں میں اضافہ ہوا، یہ حکومت خود ہی گر جائے گی ہمیں تردد نہیں کرنا پڑے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی (ف) کا 'آل پارٹیز کانفرنس' 26 جون کو بلانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر روز عوام نئے بجٹ کی وجہ سے پس رہے ہیں، بجلی، گیس، روٹی کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کی زندگی جہنم بن گئی ہے'۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے شرکت کی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے، بجٹ کی منظوری رکوانے اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کثیرالجماعتی کانفرنس منعقد ہوئی۔

اجلاس میں 25 جولائی کو عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 'یوم سیاہ' منانے کا فیصلہ کیا گیا۔