مریم نواز نے جو ویڈیو دکھائی وہ جعلی اور مفروضوں پر مبنی ہے، جج ارشد ملک

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2019

ای میل

لیگی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کی — فائل فوٹو: مسلم لیگ (ن) ٹوئٹر اکاؤنٹ
لیگی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کی — فائل فوٹو: مسلم لیگ (ن) ٹوئٹر اکاؤنٹ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران دکھائی جانے والی ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دے دیا۔

جج ارشد ملک نے پریس ریلیز کے ذریعے اپنے خلاف سامنے آنے والی مبینہ ویڈیو پر رد عمل دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانی والی ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں کسی طرح کا لالچ نہیں تھا جبکہ انہوں نے تمام عدالتی فیصلے خدا کو حاظر و ناظر جان کر اور قانون و شواہد کی بنیاد پر کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز نے جو ٹیپس پیش کیں ان کی فرانزک جانچ کرائیں گے، فردوس عاشق اعوان

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز پر 19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 دسمبر کو سنایا تھا۔

انہوں نے پریس ریلیز میں الزام عائد کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف دائر ریفرنس کی کارروائی کے دوران انہیں رشوت کی بھی پیشکش کی گئی۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) کے ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ کے ساتھ پرانی شناسائی ہے اور دونوں بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل بھی چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ اس ویڈیو میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں رشوت کی پیشکش کی گئی جبکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر میں دباؤ میں آکر فیصلہ کرتا تو نواز شریف کو ایک کیس میں بری اور دوسرے میں سزا نہ دیتا، تاہم انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں انہیں بری کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی ویڈیو اور اس سے متعلق پریس کانفرنس صرف اور صرف ان کے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لے آئیں

جج ارشد ملک نے ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس ویڈیو کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کے کیس میں جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لے آئی تھیں۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور دیگر مرکزی قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ پاناما کا مضحکہ خیز تسلسل آج بھی جاری ہے جس کی وجہ سے تین مرتبہ کا وزیراعظم جیل میں قید ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہر مرتبہ ایک نئی سزا دے دی گئی تاہم آخر میں نواز شریف نے فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا جس کا صلہ یہ ملا کہ انہیں غیبی مدد حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایک دن ایسا آیا کہ سزا دینے والے خود بول اٹھے کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جو ثبوت ملے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف کی سزا بدنیتی پر ہوئی ہے۔