ہواوے کا اینڈرائیڈ پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ

07 جولائ 2019

ای میل

ہواوے کے بانی نے فرنچ میگزین کو انٹرویو دیا — رائٹرز فوٹو
ہواوے کے بانی نے فرنچ میگزین کو انٹرویو دیا — رائٹرز فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد چینی کمپنی کے لیے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا تھا۔

تاہم صورتحال میں بہتری کے باوجود ہواوے نے دنیا کے مقبول ترین موبائل آپریٹنگ سسٹم پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہواوے کے بانی رین زین فائی نے فرنچ میگزین لی پوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے متبادل سے بڑھ کر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم صرف اسمارٹ فونز یا ٹیبلیٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے راﺅٹرز، ڈیٹا سینٹرز، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ اور دیگر میں بھی استعمال کی جاسکے گا جبکہ خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں میں بھی اسے استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اس سے پہلے مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے مقابلے میں 60 فیصد تیز ہے اور ہواوے کے بانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ کمپنی کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم گوگل کے اینڈرائیڈ اور ایپل کے میک او ایس سے تیز ہوسکتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس سے مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ دونوں پلیٹ فارمز کو اچھی ڈویلپر سپورٹ حاصل ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ایک ایپ اسٹور کی تیاری پر کام کررہی ہے تاکہ ڈویلپرز کی توجہ حاصل کی جاسکے اور اس حوالے سے اگست میں چین میں ایک ڈویلپر کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔

ہواوے کا یہ نیا آپریٹنگ سسٹم رواں سال کے آخر تک سب سے پہلے چین میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد اگلے سال کسی وقت دنیا بھر میں صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ کمپنی کا نیا فلیگ شپ فون میٹ 30 پرو میں اس آپریٹنگ سسٹم کو دیا جاسکتا ہے، جو کہ اکتوبر یا نومبر میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کردیا تھا، تاہم 3 ماہ کے لیے عارضی لائسنس جاری کیا، تاکہ وہ اپنا کام اگست تک جاری رکھ سکے۔

کچھ دن پہلے امریکی صدر نے پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ دیا مگر امریکی محکمہ تجارت نے تاحال ہواوے کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نہیں نکالا۔