ریکوڈک کیس: پاکستان، مائننگ کمپنی کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ادا کرے، فیصلہ

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2019

ای میل

آئی سی ایس آئی ڈی نے پاکستان کو 4.08 ارب ڈالر ہرجانہ اور 1.87 ارب سود ادا کرنے کا حکم سنایا۔ — ٹی سی سی/فائل فوٹو
آئی سی ایس آئی ڈی نے پاکستان کو 4.08 ارب ڈالر ہرجانہ اور 1.87 ارب سود ادا کرنے کا حکم سنایا۔ — ٹی سی سی/فائل فوٹو

ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے 5 ارب 97 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل ٹریبیونل جو عالمی سرمایہ کاری کے تنازع پر سہولت کاری فراہم کرتا ہے، نے ریکو ڈک کیس میں 700 صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ سنادیا۔

آئی سی ایس آئی ڈی نے 4 ارب 8 کروڑ ڈالر ہرجانہ اور ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود ادا کرنے کا حکم سنایا، کیس کی مزید تفصیلات ٹریبیونل کی جانب سے جاری کیا جانا ابھی باقی ہے۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان سے رابطہ کیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل اس معاملے کو عالمی قوانین کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس پر آج اپنا رد عمل دے گی۔

واضح رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی انتظامیہ نے 11 ارب 43 کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد آئی سی ایس آئی ڈی میں 2012 میں دائر کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا۔

ٹی سی سی نے کیس 12 جنوری 2012 میں دائر کیا تھا جبکہ آئی سی ایس آئی ڈی نے اس کے لیے ٹریبیونل 12 جولائی 2012 کو قائم کیا تھا۔

جرمنی کے کلوز ساکس نے ٹریبیونل کی سربراہی کی جہاں بلغاریہ کے اسٹانیمیر اے الیگزینڈوو نے کمپنی کی نمائندگی کی اور برطانیہ کے لیونارڈ ہوف مین نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک منصوبہ کیس: 'عالمی بینک کا فیصلہ حتمی نہیں'

ریکو ڈک جس کا مطلب بلوچی زبان میں 'ریت کا ٹیلہ' ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکو ڈک میں کم درجے کا تانبے کے کل ذخائر 5.9 ارب ٹن ہیں جبکہ درمیانے درجے کا تانبہ اس کا 0.41 فیصد ہے اور سونے کے درجے کا 0.22 گرام فی ٹن موجود ہے۔

اس ذخیرے میں کان کنی کرنے کے لائق حصے کا تخمینہ 2.2 ارب ٹن لگایا گیا ہے جہاں درمیانے درجے کا تانبہ 0.53 فیصد اور سونا 0.30 گرام فی ٹن ہے جس کی سالانہ پیداوار 2 لاکھ ٹن تانبہ اور 2.5 لاکھ اونس سونا ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

بعد ازاں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔