حافظ سعید کی درخواست: لاہور ہائیکورٹ نے حکومت، سی ٹی ڈی سے جواب طلب کرلیا

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2019

ای میل

حافظ سعید نے اپنے خلاف مقدمات ختم کرنے کےلیے درخواست دائر کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
حافظ سعید نے اپنے خلاف مقدمات ختم کرنے کےلیے درخواست دائر کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر درج مقدمات کے خاتمے سے متعلق درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

عدالت عالیہ میں جسٹس شہرام سرور اور جسٹس وحید خان پر مشتمل بینچ نے حافظ سعید اور دیگر 7 افراد کی درخواست پر سماعت کی، جس میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈکوارٹر سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس دوران درخواست گزاروں کی طرف سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیے، تاہم عدالت میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا۔

مزید پڑھیں: حافظ سعید کے خلاف مقدمات ختم کرنے سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر

سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے حافظ سعید کی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت اور سی ٹی ڈی کو نوٹس جاری کردیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یکم جولائی کو حکومت پاکستان نے حافظ سعید پر کالعدم لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کرکے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس درخواست میں کہا گیا کہ حافظ سعید کا القاعدہ یا پھر اس جیسی کسی بھی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ساتھ ہی درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ لشکر طیبہ کے ساتھ حافظ سعید کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی لابی کا بیان بھی حقائق کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت الدعوۃ کےسربراہ حافظ سعید کو نماز کی امامت سے روک دیا گیا

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حافظ سعید ریاست مخالف اقدامات میں ملوث نہیں ہیں، ساتھ ہی یہ استدعا کی گئی تھی کہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور دیگر افراد کے خلاف درج کی گئیں ایف آئی آرز کالعدم قرار دے کر ان پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت 13 رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے 2 درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے تھے۔

یکم اور 2 جولائی کو جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف سی ٹی ڈی کے لاہور، گجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا میں موجود پولیس اسٹیشنز میں تقریباً 23 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

حافظ سعید کو دیگر کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی اور انہیں 3 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 3 کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے مدرسے کی زمین غیرقانونی طور پر استعمال کرنے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران اس مقدمے میں نامزد چاروں ملزمان حافظ سعید، حافظ مسعود، امیر حمزہ اور ملک ظفر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے۔

ملزمان کی جانب سے عدالت میں وکیل عمران فضل پیش ہوئے اور بتایا کہ کوئی بھی جگہ غیرقانونی طور پر استعمال نہیں ہورہی، لہٰذا درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔

بعد ازاں حافظ سعید سمیت دیگر 4 ملزمان کی عبوری درخواست ضمانت 50، 50 ہزار روپے کے مچلکے کے عوض 3 اگست تک منظور کرلی۔