شام: روسی فضائی حملوں میں 2 بچوں سمیت 12 شہری جاں بحق

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2019

ای میل

اپریل سے فضائی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا—فوٹو: اے ایف پی
اپریل سے فضائی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا—فوٹو: اے ایف پی

شام کے شہر ادلب میں حکومتی فورسز اور اس کے روسی اتحادی کی فضائی کارروائی میں 2 بچوں سمیت 12 شہری جاں بحق ہوگئے۔

شام میں امدادی کاموں میں مصروف انسانی حقوق کی برطانوی تنظیم نے بتایا کہ بمباری میں زخمیوں کی تعداد 25 سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام: فضائی حملوں میں 5 بچوں سمیت 20 شہری جاں بحق

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شامی حکومت اور روس کی جانب سے اپریل سے فضائی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی برطانوی تنظیم کے سربراہ رحیم عبدالرحمٰن نے بتایا کہ روسی طیاروں کی تازہ فضائی کارروائی میں 2 رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی علاقے میں رواں ہفتے یہ دوسرا حملہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ادلب میں روسی حمایت یافتہ شامی حکومت کے فضائی بمباری کے نتیجے میں اپریل سے اب تک 740 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے مطابق 4 لاکھ سے زائد افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: شام میں 121 بچوں سمیت 510 شہری جاں بحق

اقوام متحدہ کے آفس برائے رابطہ امدادی امور کے مطابق ادلب میں طبی مراکز اور ان کے عملے کو گزشتہ تین ماہ کے دوران 39 مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق فضائی حملوں اور شیلنگ سے تقریباً 50 اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو ادلب میں ہی حکومتی فورسز اور اس کے روسی اتحادی کی فضائی کارروائی میں 5 بچوں سمیت 20 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

بمباری سے دو درجن سے زائد ہسپتال بھی متاثر ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ترکی شام کے معاملے پر باہمی اختلاف ختم کرنے پر متفق

یاد رہے کہ ادلب، حیات التحریر شام کے زیر تسلط ہے جو القاعدہ سے منسلک سابق النصرہ سے الگ ہونے والا گروپ ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں روسی حمایت یافتہ شامی حکومت اور ترک حمایت یافتہ گروپ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک بڑے حصے پر حکومت کا کنٹرول ہے، لیکن جنوری میں حیات التحریر شام نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

جس کے بعد ایک مرتبہ پھر 30 لاکھ آبادی پر مشتمل خطے میں سیکیورٹی صورت حال مسلسل ابتری کی جانب گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس، ترکی اور ایران شام کے سیاسی حل کے لیے متحد

خیال رہے کہ شام میں 2011 میں حکومت کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد مارے گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کر چکے ہیں یا بے گھر ہیں۔