تحریک عدم اعتماد: حکومت اور اپوزیشن کے اہم اجلاس

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

— فائل فوٹو: اے پی پی
— فائل فوٹو: اے پی پی

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم تحریک سے متعلق آج ایوان میں ووٹنگ کی جائے گی، جہاں اجلاس کا آغاز کچھ دیر بعد کیا جائے گا تاہم حکومت اور اپوزیشن اراکین اپنی اپنی تحریک کی کامیابی اور مخالفین کی تحریک کی ناکام کے دعوے کر رہے ہیں۔

سینیٹ میں اپوزیشن سینیٹرز کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا جس کی صدرات مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کی، اس موقع پر برنچ کا انتظام بھی کیا گیا۔

اس دوران انہوں نے تمام ارکین کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستانی قوم کی نظریں ان سینیٹرز پر مرکوز ہیں۔

شہباز شریف کے ہمراہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق، نامزد امیدوار برائے چیئرمین سینیٹ میر حاصل بزنجو، شیری رحمٰن، مشاہد اللہ خان اور رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی اور اویس نورانی سمیت 41 اراکین نے استقبالیہ میں شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر کلثوم پروین نے میاں شہباز شریف کو حکومتی عشائیے میں شرکت پر وضاحت کی کوشش کی تاہم لیگی صدر نے ان کی بات سننے سے انکار کیا۔

حکومتی اراکین کی خیبرپختونخوا ہاؤس میں بیٹھک

دوسری جانب قائد ایوان شبلی فراز کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت دیگر حکومتی سینیٹرز کا خیبر پختونخوا ہاؤس میں اجلاس ہوا۔

ان سینیٹرز میں تحریک انصاف کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور دیگر اتحادی اراکین نے شرکت کی۔

سینیٹر شبلی فراز، نعمان وزیر، تاج آفریدی، سجاد طوری، لیاقت تراکئی، سیمی ایزدی، ثمینہ عابد، ہدایت اللہ اور ظفر علی شاہ سمیت دیگر اراکین خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچے۔

پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی جبکہ انہیں 60 ووٹ حاصل ہوں گے۔

شبلی فراز نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن کے اراکین کی اکثریت میر حاصل خان بزنجو پر اعتماد نہیں کر رہی۔

اس موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے ناراض ضرور ہیں تاہم ووٹ کس کو دینا ہے اس پر سوچیں گے۔

جماعت اسلامی کا غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ

ادھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے رابطہ کیا اور ان سے ایوان کی موجودہ صورتحال پر تعاون کی اپیل کی۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی موجودہ صورتحال میں غیر جانبدار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں محاذ آرائی سے عوام کو ریلیف نہیں ملے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور تحریک انصاف نے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے وہ سامنے لایا جائے۔