مقبوضہ کشمیر: بھارت کی ‘دہشت گردی’ کی وارننگ پر سیاحوں کی واپسی

03 اگست 2019

ای میل

کشمیر میں زیرتعلیم غیرمقامی طلبا بھی فوری طور پر واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی
کشمیر میں زیرتعلیم غیرمقامی طلبا بھی فوری طور پر واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی

بھارت کے زیر تسلط جموں اور کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے ‘دہشت گرد’ حملے کے خطرات کی وارننگ جاری کرنے پر وادی میں موجود ہزاروں سیاح اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا اور واپسی کے لیے قطاریں لگ گئیں۔

غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں مزید بھارتی فوجیوں کو تعینات کردیا گیا ہے جہاں دہائیوں سے جاری جنگ میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حکومت نے ایک روز قبل ہی سیاحوں کو وادی سے چلے جانے کو کہا تھا جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ ‘خفیہ اطلاعات ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کا خطرہ ہے’۔

ریاستی حکومت کی ہدایت کے بعد غیرملکیوں سمیت ہزاروں سیاحوں نے سری نگر ایئرپورٹ کا رخ کیا جن میں سے اکثریت کے پاس ٹکٹ بھی نہیں تھے۔

مزید پڑھیں:بھارت نے کنٹرول لائن پر کلسٹر بم سے شہریوں کو نشانہ بنایا، پاک فوج

غیرملکی سیاح بھی فوری واپس ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی
غیرملکی سیاح بھی فوری واپس ہوگئے—فوٹو:اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں سالانہ مذہبی تہوار امرناتھ یاترا کے باعث ہزاروں افراد موجود تھے جبکہ حکومت کی جانب سے مذہبی تہوار کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امرناتھ یاتری کے اطراف میں وارننگ سے قبل ہی سیکیورٹی کی کثیر تعداد موجود تھی، اس کے علاوہ جموں کے علاقے میں ہونے والے ہندووں کے ایک اور مذہبی میلہ میکائیل ماتایاترا کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

ایئرپورٹ میں مسافروں کا رش

دہلی اور سری نگر کے روٹ کے ایک ایئرلائن منیجر کا کہنا تھا کہ ‘جو سیاحوں چند دن بعد واپس جارہے تھے وہ خوف کے عالم میں ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بہت زیادہ رش ہے اور جب تک اضافی پروازوں کا انتظام نہیں کیا جاتا جب تک اکثر افراد کے لیے سیٹ کا انتظام نہیں ہوپائے گا’۔

دوسری جانب کشمیر میں موجود غیرمقامی سیکڑوں طلبا بسوں کے ذریعے واپس جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’عمران خان کے کامیاب دورہ امریکا کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے‘

مقامی افراد بھی خوف کا شکار—فوٹو:اے ایف پی
مقامی افراد بھی خوف کا شکار—فوٹو:اے ایف پی

سری نگر کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک انتظامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘تمام غیرمقامی طالب علم کیمپس سے واپس اپنی ریاستوں کو جاچکے ہیں’۔

کشمیر کے مقامی افراد بھی اس وارننگ سے خوف کا شکار ہیں اور اشیا خورد ونوش، پیڑول اور بینکوں سے پیسوں کے حصول کے لیے متعلقہ اسٹیشنوں کے باہر ان کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت اعتراف کرچکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک ہفتے قبل ہی 10 ہزار اضافی فوجیوں کو بھیج دیا گیا تھا جبکہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے ک ہمزید 25 ہزار فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیں کی تعداد میں اضافے کے بعد سرحد بھی گولاباری کی گئی جس سے آزاد کشمیر کی شہری آبادی نشانہ بنی اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد شہری بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک شہریوں کو کلسٹر بم کے ذریعے نشانہ بنایا جو جنیوا اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب وادی نیلم پر بھارتی فورسز نے شیلنگ کے دوران کلسٹر بم کا استعمال کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ واقعے میں ایک 4 سالہ بچے سمیت 2 شہری شہید اور 11 زخمی ہوگئے تھے، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔