کچھ پتہ نہیں کہ کیا کھا رہے ہیں، کیا پی رہے ہیں؟

06 اگست 2019

ای میل

میرا کئی بار امریکا میں طویل عرصے تک ٹھہرنا ہوا ہے، لیکن رواں برس 2 دہائیوں میں پہلی بار برطانیہ میں ٹھہرنا ہوا۔ میں نے یہ دیکھا کہ برطانیہ میں کھانے پینے کی اشیا کا معیار امریکا کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، حالانکہ میں نے برطانیہ میں ایک عام دکان سے خریداری کی تھی جبکہ امریکا میں ان عالیشان مارکیٹ سے خریداری کیا کرتا تھا جہاں نامیاتی (آرگینک) اشیا ملا کرتی تھیں۔

یہ بات میرے لیے کافی دلچسپ تھی کیونکہ دونوں ہی ممالک ترقی یافتہ ہیں اور اپنے لوگوں کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کو لے کر کافی محتاط رہتے ہیں۔

معیار میں اس تفریق کی وجہ کیا ہوسکتی تھی، کم از کم جہاں تک ذائقہ کا سوال ہے؟ میں نے اپنے طور پر سرسری تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ اگرچہ ان نتائج کو حتمی وضاحت تو قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن یہ اتنی عام نوعیت کے ضرور ہیں جو پاکستان میں بھی زیرِ گفتگو لائے جاسکتے ہیں۔

تو جناب اس کا اصل راز ان جامع اصولوں میں موجود ہے جن کے تحت فوڈ سیفٹی ریگولیشن پر عمل کیا جاتا ہے۔ ریگولیشن کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ آج کل کمرشل بنیادوں پر مارکیٹ میں فروخت کیے جانے والے تقریباً تمام ہی کھانوں میں کسی نہ کسی قسم کے اضافی اجزا (additive) شامل کیے جاتے ہیں۔

امریکا و برطانیہ کے مخصوص کیسز سے ہٹ کر آپ دیکھیں تو کھانے پینے کی چیزوں کے معیار پر کڑی نگاہ رکھنے کے 2 طریقہ کار ملیں گے۔

جہاں پہلا طریقہ استعمال ہوتا ہے وہاں دراصل کھانے کی ان چیزوں کو تیار کرنے والے کو اضافی اجزا کے استعمال کی کھلی چھوٹ حاصل ہوتی ہے جبکہ ان میں سے چند اگر مضر صحت ہیں تو اسے ثابت کرنے کا بوجھ صارفین کے کاندھوں پر ہوتا ہے جنہیں اپنا دعوٰی منطقی انداز میں ثابت کرنے کے لیے عدالتی کارروائی کا آپشن حاصل ہوتا۔ اسے ’قانون سازی‘ پر مبنی طریقہ کار بھی کہا جاسکتا ہے جو امریکا میں کھانے کے ریگولیٹری نظام کا خاصا ہے۔

یہاں، مفاداتی گروہ، لابی کرنے والے اور غیر منافع بخش صنعتوں کو کافی زیادہ اختیار حاصل ہے دوسری طرف صارفین ان حتمی ثبوت کے ساتھ تنقید کی زد میں رہتے ہیں جنہیں اکھٹا کرنے میں اگر دہائیاں نہیں تو برسا برس ضرور لگ جاتے ہیں، خاص طور پر جب ماہرین بھی بڑی بڑی کارپوریشن کے تنخواہ دار ہوں۔

جبکہ دوسرے طریقے کی بات کی جائے تو اس کی منطق یکسر مختلف ہے۔ یہاں ریگولیٹرز کھانے کی چیزیں تیار کرنے والوں کو کسی بھی اضافی جزو کے استعمال کی اجازت دینے سے قبل ان سے یہ گارنٹی مانگتے ہیں کہ جو بھی اضافی جزو استعمال کیا جا رہا ہے وہ انسانی صحت کے لیے محفوظ ہے۔

اسے ’قبل از وقت احتیاط‘ برتنے پر مبنی طریقہ کار کہا جاسکتا ہے اور یہی یورپی یونین میں کھانے پینے کی چیزوں کی ریگولیشن کے نظام کا خاصہ ہے، لہٰذا ان اصولوں کا اطلاق برطانیہ پر بھی ہوتا ہے۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں کو محفوظ ثابت کرنے کا بوجھ انہیں تیار کرنے والوں پر ہوتا ہے اور اس کا خوب فائدہ صارفین کو پہنچتا ہے۔

مجھے یقین تھا کہ میں کسی معنی خیز چیز پر ہی کام کر رہا ہوں اور اس یقین کو اس وقت تقویت ملی جب امریکا کے افسران نے برطانیہ کو بعد از بریگزٹ تجارتی معاہدے سے متعلق حال ہی میں سخت پیغام بھیجا۔

پیغام میں اس شرط کے بارے میں بتایا گیا کہ برطانیہ کو ہارمون سے افزائش پانے والے جانوروں کے گوشت اور کلورینیٹڈ مرغی کے گوشت کی درآمدات قبول کرنا پڑے گی۔ یاد رہے یورپی یونین کے اصولوں کے تحت ان دونوں کی ممانعت ہے۔

برطانیہ میں اس مطالبے پر آنے والا شدید ردِعمل یہ ثابت کرتا ہے کہ ایسے اضافی اجزا کا مسئلہ انتہائی سنجیدہ ہے جن کے بارے میں معلوم ہی نہیں کہ ان کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ مسئلہ تصوراتی سطح پر ہی جائزے کا متقاضی ہے۔


اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں صورتحال یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آخر ہم کھا کیا رہے ہیں۔ کیا کسی کو ان مویشی جانوروں میں منہ کھر یا فٹ ٹو ماؤتھ بیماری کی موجودگی کا پتہ یا اس کی پرواہ ہے جن کا گوشت ہم ہر روز استعمال کرتے ہیں؟

ہمیں اس اصول کے بارے میں بھی نہیں پتہ جس کے تحت ہمارے کھانوں کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے، نہ ہی ہمیں یہ معلوم ہے کہ کھانے کی اشیا تیار کرنے والوں کو کن معیارات پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے۔

یہاں ریگولیشن کاغذ پر تو خوب نظر آتی ہے لیکن عملی مظاہرہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ جہاں ریگولیٹری نظام کچھ فعال نظر آتا ہے تو وہاں بھی کھانے پینے کی اشیا تیار کرنے والوں کی جانب سے کھلائے جانے والے پیسوں کے سبب یہ نظام زیادہ مؤثر نہیں رہتا۔

پانی کی صورتحال کو لیجیے۔ نلکے کا پانی پینے کے قابل نہیں ہوتا اور تمام قدرتی آبی ذرائع گھریلو، صنعتی اور زرعی اخراج کی وجہ سے زہریلے بن چکے ہیں۔ حتیٰ کہ غریبوں کو بھی اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا اگر خیال رکھنا ہوتا ہے تو وہ بھی بوتل پانی کا استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بلکہ کئی بار تو یہ بات بھی منظرِ عام پر آچکی ہے کہ متعدد منرل واٹر برانڈز کا پانی مضرِ صحت ہے، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں ان کی فروخت جاری ہے۔ لہٰذا یہ سوال اہم ہے کہ جو منرل واٹر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں بیچا جاتا ہے اس میں شامل اجزا کا جائزہ کون لے گا؟

آلودہ کھانے، غیر محفوظ پانی، آلودہ ہوا اور جعلی دوائیاں اس قدر مہلک ہیں کہ کینسر جیسی خطرناک بیماری بھی چکن پاکس جتنی عام ہوتی جا رہی ہے اور ہر تیسرے خاندان کا ایک یا اس سے زائد افراد اس کاسامنا کر رہے ہیں یا پھر موت کے قریب ہیں۔

بلاشبہ ملک کی (ناساز) صحت سے وابستہ صنعت کے لیے ایک زبردست بات ہے۔ ہسپتال، لیبارٹریاں، ڈاکٹر، عطائی ڈاکٹرز اور دوا سازی سے تعلق رکھنے والے لوگ خوب کمائی کیے جا رہے ہیں۔ ان سب کی آمدن ہماری بیمار معیشت میں اپنا مثبت حصہ تو ڈال رہی ہے لیکن لیبر کی عمومی پیداواری صلاحیت کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

پاکستان میں انسانی جسم کی صحت کا خیال رکھنا ایک خاصا مہنگا کام ہے، سوچیے کہ بوتل بند پانی اور دوائیوں پر ایک اوسط درجے کے شخص کی آمدن کا کتنا حصہ خرچ ہوجاتا ہوگا۔

اب اس کا حل کیا ہے؟ ریاست سے کسی قسم کی توقع کرنا فضول ہے۔ اس معاملے میں تمام حکومتیں ہی ناکام ہوچکی ہیں، اور وہ شخص جو اس فکر میں ہی مبتلا رہتا ہے کہ کہیں گھر کا کھانا رانا ثنااللہ تک نہ پہنچ جائے اس سے بھی کچھ خاص توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتی ہیں۔

یہ ایسا معاملہ ہے کہ جس میں صارفین کو سوک دباؤ اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی۔ اگر کوئی اس تصدیق شدہ ویڈیو کو منظرِ عام پر لائے تو شاید اس سے مدد مل سکتی کہ جس میں ایک ریگولیٹر ذبح خانہ کے مالک کے ساتھ رقص کر رہا ہے۔


یہ مضمون 4 اگست 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔