مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ گرفتار

اپ ڈیٹ اگست 06 2019

ای میل

دونوں رہنماؤں کو نظربندی کے بعد گرفتار کیا گیا—فائل فوٹو: اے یف پی/ رائٹرز
دونوں رہنماؤں کو نظربندی کے بعد گرفتار کیا گیا—فائل فوٹو: اے یف پی/ رائٹرز

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد مقبوضہ وادی کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سمیت 4 سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال کے بعد محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو نظر بند کیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو دیے گئے ایک نوٹس میں کہا کہ انہیں اس لیے حراست میں لیا گیا کیونکہ ان کی سرگرمیاں 'امن کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہیں، لہٰذا مزید حکم آنے تک انہیں ہری نواس منتقل کیا جاتا ہے'۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جموں اینڈ کشمیر پیپلز کانفرنس کے رہنماؤں سجاد لون اور عمران انصاری کو بھی حراست میں لیا گیا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ نظر بند

ادھر ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ محبوبہ مفتی کو ان کے گھر سے گرفتار کرکے قریبی سرکاری گیسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ختم کردیا گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ گزشتہ چند دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تھی جبکہ وادی میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کرتے ہوئے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی تھی۔

ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے، محبوبہ مفتی

قبل ازیں گرفتاری سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں اور کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی ہے اور یہاں وہی سلوک کرنا چاہتی ہے جو فلسطین کے ساتھ اسرائیل کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن بھارت کی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن ہے، بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اعلان سے انہیں بہت دھچکا لگا۔

انٹرویو کے دوران محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ 'ہماری سیاسی قیادت نے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے ایک امید لیے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے'۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ 'دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت کی پارلیمنٹ بھی ہمیں مایوس کررہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں کشمیر کا علاقہ چاہیے جبکہ وہ کشمیریوں کے لیے فکر مند نہیں'۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ 'اب ہم لوگ کہاں جائیں وہ لوگ جو انصاف کے لیے اقوام متحدہ جاتے تھے وہ کہاں جائیں، بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے سے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے'۔

دوران گفتگو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بنیادی مقاصد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے عزائم ناپاک ہیں، وہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیاں چاہتی ہے اور آج ایک مرتبہ پھر بھارت نے ریاست کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کردیا ہے۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے یونین ٹیرٹریز کا نظام رائج کیا ہے، جس سے ان کا ارداہ بہت واضح ہے کہ وہ زمین پر قبضہ چاہتی ہے اور مسلمانوں کو اقلیت میں بدل کر مکمل بے اختیار کرنا چاہتی ہے'۔

انٹرویو میں کشمیر کے مستقبل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ایک کھلی جیل بنا دی گئی ہے، ادھر سیکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کی گئی ہے جبکہ اختلاف رائے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے، یہ مقبوضہ کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتے ہیں، یہ کشمیر کے ساتھ وہ کرنا چاہتے جو فلسطین کے ساتھ اسرائیل کر رہا لیکن یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور صرف مقبوضہ کشمیر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل تاریک ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی اقدام پر احتجاج

دوران گفتگو محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنے اقدام سے نہ صرف بھارتی مسلمانوں کو مزید تنہا کرے گی بلکہ انہیں خوفزدہ بھی کردے گی، اس اقدام کو ایک تنبیہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا کہ اگر کسی نے ان کے احکامات سے اختلاف کیا تو اسے سرعام برہنہ کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’مقبوضہ جموں اور کشمیر صرف مسلم اکثریتی ریاست تھی اور اس اقدام کا آغاز جموں اور کشمیر سے کیا جارہا ہے کہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک مسلم اکثریتی ریاست کے عوام کو اختلاف رائے کا حق نہیں دیا جائے گا تو مجھے نہیں علم کہ بھارت میں رہنے والے مسلمان کیا کریں گے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ بےیار و مددگار ہیں اور میرا خیال ہے کہ حکومت کا مسلمانوں سے پاک، بھارت بنانے کا ارادہ ہے۔

محبوبہ مفتی نے کشمیری قیادت کے کردار سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ اس وقت ہر ادارے سے مایوس ہیں تاہم کشمیری قیادت اس اقدام کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔