مقبوضہ کشمیر کی صورتحال: وزیرخارجہ کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے خط میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا — فائل فوٹو/فوکس نیوز
شاہ محمود قریشی نے خط میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا — فائل فوٹو/فوکس نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتیرس کو خط لکھ دیا۔

شاہ محمود قریشی کی جانب سے لکھے گئے خط میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور اس سے خطے میں امن اور سیکیورٹی کی صورتحال کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دلاتے ہوئے کہا گیا کہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری دوسری رپورٹ میں کشمیریوں کے زیر حراست قتل، بچوں سمیت نوجوانوں کو پیلٹ گن کے استعمال کے ذریعے بصارت سے محروم کرنا، تشدد، ریپ اور جبری گمشدگیوں کے واقعات سے متعلق واضح طور پر بتایا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں کالے قانون کے ذریعے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، لہٰذا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے متعلق یکطرفہ فیصلہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

وزیر خارجہ نے اپنے خط میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ میں اضافہ ہوگیا ہے، بھارتی جارحیت نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس اقدام سے معصوم شہریوں کی اموات اور سول انفرااسٹرکچر تباہ ہورہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے لکھا کہ اس صورتحال کا سدباب نہ کیا گیا تو امن و امان کے لیے شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ بھارتی میڈیا کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی وزارت داخلہ 10 ہزار اضافی فورسز کو مقبوضہ وادی میں تعینات کر رہی، مقبوضہ کشمیر پہلے ہی سے دنیا کی سب سے زیادہ فوج تعینات ہے اور یہاں 7 لاکھ سے زائد فوج کئی دہائیوں سے موجود ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ سری نگر ایئرپورٹ پر خصوصی طیاروں کی نقل و حرکت اور مقبوضہ وادی میں فورسز کے اضافی دستوں کی آمد کی رپورٹس پر کسی بھارتی حکومتی عہدیدار کا تردید نہ کرنا ان رپورٹس کو مزید تقویت دیتا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ بھارتی ریلوے حکام کی جانب سے ہفتے بھر کے لیے راشن خریدنے سے متعلق رپورٹس بھی اس بات کی جانب اشارہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ یہ رائے عام ہورہی اور خدشات پھیل رہیں کہ بھارت اپنے آئین سے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حاصل خصوصی حیثیت، ملکیت کا حق اور شہریت کا حق کو ختم کرنے کے درپے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پار کارروائی، لاشوں کی تحویل کا الزام بھارتی پروپیگینڈا ہے، پاک فوج

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی کسی بھی جغرافیائی تبدیلی کا مخالف ہے کیونکہ اس طرح اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، بھارت کی جانب سے یہ اقدامات، مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے پاکستان اقوام متحدہ کو 27 اپریل کو لکھے گئے خط میں آگاہ کر چکا ہے۔

اپنے خط میں وزیرخارجہ نے سیکریٹری جنرل کی توجہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 38 کی جانب مبذول کروائی، جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور بھارت دونوں کو پابند کیا تھا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں کسی بھی بڑی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں سلامتی کونسل کو آگاہ کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت کے مبینہ عزائم نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس صورتحال سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے، لہٰذا اقوام متحدہ کو اس ساری صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔