مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

کشمیر کی خصوصی حیثیت میں خاتمے کے بھارتی اقدام پر دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے — فوٹو: اے ایف پی
کشمیر کی خصوصی حیثیت میں خاتمے کے بھارتی اقدام پر دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے — فوٹو: اے ایف پی

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 367 میں کی گئیں ترامیم غیرآئینی اور غیرقانونی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

بھارتی حکومت نے آرٹیکل 367 میں ترمیم کر کے اس میں چوتھی شق شامل کر دی ہے جس کے تحت آئین ساز اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی سے تبدیل کردیا گیا ہے۔

9 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 367 میں ترمیم کا نوٹس لے کر اسے غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دے۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کیے تھے جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور 35اے کیا ہے؟

خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

یہی نہیں مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر آفریدی اور گمبھیر آمنے سامنے

اس اقدام کے لیے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ بھارتی صدر کی جانب سے آرٹیکل 370 کے بل پر دستخط کے لیے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 367 میں ترامیم لازمی درکار تھیں۔