مقبوضہ کشمیر پر چین کا ’موقف داخلی امور میں مداخلت‘ قرار

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

بھارت نے کہا کہ خطے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ان کا داخلی معاملہ ہے— فوٹو: اے ایف پی
بھارت نے کہا کہ خطے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ان کا داخلی معاملہ ہے— فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق چین کے ’تحفظات‘ کو ’داخلی امور میں مداخلت‘ قرار دے کر مسترد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ بھارت دوسرے ملک کے داخلی امور پر تبصرہ نہیں کرتا اور امید کرتا ہے کہ دوسرے ممالک بھی ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کریں۔

مزید پڑھیں: بولی وڈ شخصیات کا بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی

واضح رہے کہ چین نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر کہا تھا کہ نئی دہلی چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔

دوسری جانب بھارت کا موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

بھارت نے چین کو خبردار کیا کہ خطے کو 2 حصوں میں تقسیم کرنا ان کا داخلی معاملہ ہے۔

اس ضمن میں چین کا ماننا ہے کہ لداخ میں بدھ مت کے کثیر آبادی والے علاقوں کو انتظامی علاقے میں بدل دیا گیا ہے، جس پر نئی دہلی کا براہ راست اختیار رہے گا۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

واضح رہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں اور کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین نے شمالی مغربی حصے کے 15 ہزار مربع میل پر قبضہ کیا ہے دوسری جانب چین بھی دعویدار ہے کہ نئی دہلی نے بھارت کے شمالی مغرب میں واقع ریاست روناچل پردیش کے 90 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کیا۔

واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر میں چین بھی ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان اور تبت کے درمیان بدھ مت اکثریت کا حامل لداخ کا علاقہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ وادی میں کرفیو جاری، محصور کشمیری مشکلات کاشکار

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنینگ نے منگل کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ چین نے بھارت کے ساتھ سرحد کے مغربی حصے میں چینی حدود میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر قوانین میں تبدیلی چین کی سرحدی خود مختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی ہے، جو بالکل ناقابل قبول ہے۔