اقوام متحدہ نے شام میں جنگ بندی کے خاتمے پر خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 09 اگست 2019

ای میل

شام میں لڑائی کے پیش نظر کئی لاکھ لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
شام میں لڑائی کے پیش نظر کئی لاکھ لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ شام کے صوبے ادلب میں جنگ بندی کے خاتمے سے 'خوف و ہراس' کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

عربی نشریاتی ادارے عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شامی حکومت نے رواں ہفتے مختصر مدت کے لیے ملک کے شمال مغربی حصے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو اب ختم ہوگیا اور فوری طور پر لڑائی کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

جنیوا میں شامی اور ان کے اتحادی روس کے حکام سے ملاقات کے بعد اقوام متحدہ نے اس علاقے میں بڑی حکومتی کارروائی کے خطرے سے متعلق متنبہ کیا کیونکہ ادلب کئی برسوں سے ان افراد کے لیے استقبالیہ زون کی حیثیت رکھتا ہے جو ملک میں کہیں بھی حکومتی پیش قدمی کے باعث نقل مکانی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شام: روسی فضائی حملوں میں 2 بچوں سمیت 12 شہری جاں بحق

اس معاملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ برائے شام پینوس مومتیز کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ممکنہ حکومتی کارروائی 'آگ سے کھیلنے' کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کی جانب سے اگر ادلب میں حملہ کیا گیا تو یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ انہیں معلوم نہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسری محفوظ جگہ نہیں'، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس عمل سے 'خوف و ہراس دوبارہ پیدا ہوگیا ہے'۔

پینوس مومتیز کا کہنا تھا کہ 'یہ اس وقت آگ سے کھیلنے جیسا ہے اور ہمیں فکر ہے کہ یہ قابو سے باہر ہوجائے گا'۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے شام کے لیے ایک سینئر انسانی حقوق کی مشیر نیجت روچڑی کا کہنا تھا کہ اپریل کے اختتام سے اس علاقے میں 500 سے زائد شہری ہلاک ہوئے، انسانیت پسند کردار ممکنہ فوجی مداخلت کی تجاویز کے بیانات پر تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ اس سے ایسے علاقے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا جہاں پہلے ہی لوگ برسوں کی فوجی سرگرمیوں، بے گھر ہونے، قحط اور سیلاب جیسی صورتحال کا سامنا کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ادلب، حکومت مخالف جنگجووں کا آخری بڑا علاقہ ہے جہاں تقریباً 30 لاکھ لوگ رہائش پذیر ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ آخری 100 روز میں ادلب میں اندازاً 4 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے جبکہ پینوس مومتیز کہتی ہیں کہ 9 لاکھ لوگوں تک کی نقل مکانی کا امکان موجود ہے لیکن ادلب کی مکمل آبادی کے انتظام کے لیے کوئی منصوبے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'وہاں کے 30 لاکھ لوگوں کے لیے کیا منصوبہ ہے، یہ ایسا سوال ہے جس کا ہمیں کوئی جواب نہیں مل رہا'۔

یہ بھی پڑھیں: شام: فضائی حملوں میں 5 بچوں سمیت 20 شہری جاں بحق

خیال رہے کہ ادلب صوبے کا زیادہ تر علاقہ ماہ جنوری سے حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) گروپ کے کنٹرول میں ہے۔

تاہم گزشتہ 3 ماہ سے شامی حکومت اور روس کی بدترین بمباری کے بعد علاقے میں شہریوں کے تحفظ کے تناظر میں جمعہ 2 اگست کو جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا لیکن ایچ ٹی ایس نے اگلے ہی روز اس جنگ بندی سے جڑی اہم شرط کو ماننے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کبھی اس علاقے کے اطراف میں بفرزون کے منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

بعد ازاں پیر کو حکومت نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے مخالفین پر الزام لگایا تھا کہ وہ شہری علاقوں اور روسی فضائی اڈوں پر حملے کر رہے ہیں۔