کشمیر میں رابطوں پر پابندی: غلط معلومات کا نیا محاذ کھل گیا

اپ ڈیٹ 10 اگست 2019

ای میل

تعزیرات ہند کے آرٹیکل 370 کو یومیہ 40 ہزار افراد دیکھ رہے ہیں، رپورٹ—اسکرین شاٹ
تعزیرات ہند کے آرٹیکل 370 کو یومیہ 40 ہزار افراد دیکھ رہے ہیں، رپورٹ—اسکرین شاٹ

بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں نئی دہلی کی جانب سے ہر طرح کے ذرائع ابلاغ پر پابندی کی وجہ سے غلط معلومات اور خبروں کا ایک نیا محاذ کھل گیا۔

بھارت نے رواں ماہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی اہمیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو Article370Scrapped, #KashmirIntegrated #StandwithKashmir# جیسے ہیش ٹیگز پاکستان اور بھارت میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع ہوئے۔

ہیش ٹیگز سے سامنے آنے والے ہزاروں ٹوئٹس کے باعث دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا جو اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

اس بحث کے باعث ایسا پروپیگنڈا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے جھوٹی خبروں اور پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو شیئر کرکے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔

5 اگست کے بعد سے وکی پیڈیا پر کشمیر کی حیثیت کو لے کر بھی ایک جنگ جاری ہے اور یہ بحث رکنے کا نام نہیں لے رہی، اسی حوالے سے پاکستان کے وکی پیڈیا ایڈیٹر ثاقب قیوم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'ہم نے کشمیر سے متعلق 30 سے زائد پیجز کو بلاک کردیا ہے، تاکہ صارفین موجودہ معلومات میں کسی قسم کی ترمیم نہ کرسکیں'۔

ڈان کے پاس متعدد پیجز کی ایک فہرست موجود ہے، جن میں جموں اور کشمیر، لداخ، لائن آف کنٹرول، آئین ہند کی دفعہ 370، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور پاک-بھارت تصادم (2019) شامل ہیں، یہ تمام پیجز ترامیم سے محفوظ ہو چکے ہیں اور اب ان میں کوئی بھی شخص ترمیم نہیں کرسکتا۔

ثاقب قیوم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 'ان میں سے چند پیجز پر صارفین کا بہت زیادہ ٹریفک آرہا ہے، مثال کے طور پر دستور ہند کے صفحے کے آرٹیکل 370 کو اوسطاً روزانہ 30 سے 40 ہزار مرتبہ دیکھا جارہا ہے، لیکن 5 اگست کو اس پیج کو 25 مرتبہ دیکھا گیا'۔

کوٹلیا نامی بھارتی وکی پیڈیا ایڈیٹر نے ای میل کے ذریعے ڈان کو بتایا کہ 'رواں ہفتے جب راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے تعزیرات ہند کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا بل پاس ہوا تو متعدد غیر رجسٹرڈ ایڈیٹرز نے ہر اس پیج پر کشمیر کو 'ریاست' کے بجائے 'وفاقی علاقہ' لکھنا شروع کردیا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'ان پیجز کو ترمیم سے محفوظ کیے جانے کے باوجود، کئی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ یہ تبدیل ہونا چاہیے'۔

ویکیپیڈیا ایڈیٹرز کے مطابق 'پیجز میں مستقل ترمیم کے باعث یہ بند کیے جاتے ہیں، اگر تین سے زائد صارف یا آئی پی ایک پیج میں ترمیم کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں اسے بند کرنا پڑتا ہے'۔

کوٹلیا کے مطابق عام طور پر 10 میں سے 9 بار نئے اور غیر رجسٹرڈ ایڈیٹرز غلط معلومات شامل کردیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'ویکیپیڈیا پر ہم سوشل میڈیا سے موصول ہونے والی معلومات شامل نہیں کرتے، ہم تب تک ان پیجز پر کوئی تبدیلی نہیں کرتے جب تک حکومت کی جانب سے کوئی جاری بیان نہ دیکھ لیں، عام طور پر ہم اخباروں کو قابل اعتبار معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ مانتے ہیں، لیکن ایسے متنازع معاملات کے لیے ہم خبروں کے ذرائع پر انحصار نہیں کرتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ سروس معطل

ثاقب قیوم کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں کمشیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر بین الاقوامی ردعمل جیسے چند نئے پیجز بھی تیار کیے ہیں۔

رواں سال فروری میں بھی پاک-بھارت کے درمیان سوشل میڈیا پر جنگ شروع ہوئی تھی جس کے بعد جعلی خبروں اور جھوٹی معلومات کی وجہ سے اس میں اضافہ ہی ہوا۔

اس حوالے سے سابق صحافی تروشر نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے کہا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اتنی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی نہیں دیکھی۔

بھارتی ویب سائٹ آلٹ نیوز سے تعلق رکھنے والے پراتیک سنہا کا کہنا تھا کہ 'اس بار جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کے کشمیر میں اس وقت کسی کے پاس بھی انٹرنیٹ کی سہولت نہیں، وہاں سے کسی بھی قسم کی معلومات سامنے نہیں آرہی، ہم نہیں جانتے کہ وہاں مقامی افراد کیا سوچ رہے ہیں '۔

ٹوئٹر کے ایک ترجمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اب تک کمپنی کے پاس اپنے پلیٹ فارم پر جعلی خبروں سے نمٹنے کے لئے کوئی سرکاری پالیسی نہیں ہے۔

جبکہ فیس بک کی جانب سے پاکستان اور بھارت میں حقائق کی جانچ کرنے کے لیے 8 افراد کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں، حقائق پر نظر رکھنے والے ان افراد نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر باریکی سے نظر رکھی ہوئی ہے۔

تاہم پاکستان میں 'خبر سچی' نامی حقائق کی جانچ کے ایک منصوبے کا آغاز کرنے والے اسد بیگ کا کہنا تھا کہ 'یہ پلیٹ فارمز صحیح انداز میں کام نہیں کررہے، اس طرح کی معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اظہار کرنے کا کوئی تفریحی طریقہ نہیں رہا، ایسی غلط معلومات کے باعث گزشتہ 2 سال میں بھارت میں قتل عام کے 31 واقعے پیش آچکے ہیں'۔

اسد بیگ کے مطابق 'جہاں کشمیر میں میڈیا بالکل بند ہے وہیں دونوں ممالک کے مرکزی میڈیا ادارے جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں، ہم سب برابری سے اس جرم کے ذمہ دار ہیں'۔


یہ خبر 10 اگست 2019 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی